| 81327 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہمارے والد محترم جمیل احمد خان صاحب کی عمر تقریبا 85سال ہے،اب زیادہ عمر کی وجہ سے وہ بھول چوک کا شکار بھی ہوجاتے ہیں، اس حوالے سے والدِ محترم اور ہم سب بہن بھائیوں کے لیے نقدی اور جائیداد کے حوالے سے شرعی تقسیم اور وصیت کا کیاحکم ہوگا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ زندگی میں اولاد کو کچھ دینا ہبہ ہے، میراث کی تقسیم نہیں ،کیونکہ میراث موت کے بعدتقسیم کی جاتی ہے۔کسی کو کوئی چیز ہبہ کرنا اورنہ کرنا یہ بندے کا اختیاری عمل ہے ، اس میں وہ شرعاً مجبورنہیں، تاہم اگرکوئی اپنی خوشی سے اولاد کو زندگی میں کچھ دینا چاہے تو شرعاً اس کی بھی اجازت ہے اوراس میں پھر افضل یہ ہے کہ تمام بیٹوں اور بیٹیوں کو برابر دیاجائے اوران میں تفریق نہ کی جائے ۔
لہذ مسئولہ صورت میں جوبھی مال جمیل احمدخان صاحب کی ملک ہے، وہ ان کی زندگی میں انہیں کا ہےبچوں کا اس میں کوئی حق نہیں،اگروہ تقسیم نہیں کرنا چاہتے ہیں تو شرعاً اس پر وہ مجبورنہیں اوربچے اس کا مطالبہ بھی نہیں کرسکتے، ہاں اگروہ اپنی خوشی سےتقسیم کرنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترطریقہ یہ ہے کہ جتنا حصہ وہ اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں وہ رکھ کر باقی جو بچے اس کے برابرسات حصے بنائے اورہربیٹی کو ایک ایک اورہر بیٹے کودو دو حصےالگ کرکےدےاور جس کو جو حصہ دے اس پر اس کا قبضہ بھی کرادے،قبضہ کے بغیر یہ ہبہ مکمل اورنافذ نہیں ہوگا،البتہ اگر مکان ،دکان وغیرہ چھوٹی ہو اورتقسیم کے قابل نہ ہوتو پھر صرف حصوں کی تعیین بھی ہبہ مکمل ہونے کے لیے کافی ہے، نیز جب ناقابلِ تقسیم ہوتو یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ اسے فروخت کرکے اس کی قیمت تقسیم کی جائے ۔
اوراگرزندگی میں تقسیم نہ کرناچاہے تو وفات کے وقت موجود ورثہ کی ملک کی طرف ترکہ خودبخود منتقل ہوجاتاہے اورہرایک کا شرعی حصہ متعین ہے،لڑکے کا لڑکی کے مقابلے میں ڈبل حصہ ہوتاہے،اس کےلیے وصیت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔
حوالہ جات
السنن الكبرى للبيهقي وفي ذيله الجوهر النقي - (ج 6 / ص 176)
عن حصين عن عامر قال سمعت النعمان بن بشير يقول وهو على المنبر : أعطانى أبى عطية فقالت له عمرة بنت رواحة : لا أرضى حتى تشهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال فأتى النبى -صلى الله عليه وسلم- فقال : إنى أعطيت ابن عمرة بنت رواحة عطية وأمرتنى أن أشهدك يا رسول الله قال :« أعطيت سائر ولدك مثل هذا ». قال : لا قال :« فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم ». قال فرجع فرد عطيته. رواه البخارى فى الصحيح عن حامد بن عمر وأخرجه مسلم من وجهين آخرين عن حصين.
السنن الكبرى للبيهقي وفي ذيله الجوهر النقي - (ج 6 / ص 177)
عن ابن عباس قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- :« سووا بين أولادكم فى العطية فلو كنت مفضلا أحدا لفضلت النساء ».
قال اللہ تعالی :
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ....... ...... ...... ...... ...... ...... ...... .
حکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
30/صفر1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


