03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پرنٹ آن ڈیمانڈ کا حکم
81463جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

پرنٹ آن ڈیمانڈ میں یہ ہوتا ہے کہ مجھے کوئی تصویرمثلا بلی یا کوئی پرندے کی تصویر پسند آئی تو میں نے کسی سیلر کو وہ تصویر بھیجی اور اس سے کہا کہ مجھے ایک شرٹ چاہیے اور یہ تصویر میری اس شرٹ پر پرنٹ کر کے مجھے دے دیجیے گا۔ سیلر وہ تصویر اس پر پرنٹ کر دیتا ہے اور میں اس سے خرید لیتا ہوں، اسی طرح لوگ دوسروں کو تحائف دینے کے لیے بھی اس طرح کی تصاویر بنانے کا آرڈر دیتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح تصویر بنانے کا آرڈر دینا اور سیلرکا اس کو پرنٹ کرنا اور پھراس کو بیچنا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی بھی جاندار کی تصویر خود بنانا یا اس کے بنانے کا آرڈر دینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، کیونکہ جاندار کی تصویر مجسم یا منقش صورت میں بنانے پر صحیح احادیث میں وعید اور ممانعت وارد ہوئی ہے، چنانچہ ایک حدیث میں وارد ہے کہ اس گھر میں (رحمت کے) فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں جاندار کی تصویر ہو۔ اسی لیے جمہور فقہائے کرام رحمہم اللہ کا اس پر اتفاق ہے کہ جاندار کی تصویر  پرنٹ کرنا حرام اور ناجائز ہے اور اس کو کبیرہ گناہوں میں سےشمار کیا گیا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں شرٹ وغیرہ پر کسی جاندار کی تصویر بنانے کا آرڈر دینا اور پھر سیلر کا وہ تصویر پرنٹ کر کے شرٹ آگے فروخت کرنا جائز نہیں، لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔

البتہ اگر کسی بے جان چیز کی تصویر ہو جیسے کوئی درخت، دریا اور کسی خوبصورت منظر کی تصویر پرنٹ کی جائے تو اس کی اجازت ہے اور اس کی خریدوفروخت بھی جائز ہے، کیونکہ اس سے شریعت ِ مطہرہ میں منع نہیں کیا گیا۔

حوالہ جات

صحيح البخاري (4/ 114، رقم الحديث: 3224) دار طوق النجاة:

 حدثنا محمد، أخبرنا مخلد، أخبرنا ابن جريج، عن إسماعيل بن أمية، أن نافعا، حدثه أن القاسم بن محمد، حدثه عن عائشة رضي الله عنها، قالت: حشوت للنبي صلى الله عليه وسلم وسادة فيها تماثيل كأنها نمرقة، فجاء فقام بين البابين وجعل يتغير وجهه، فقلت: ما لنا يا رسول الله؟ قال: «ما بال هذه الوسادة؟»، قالت: وسادة جعلتها لك لتضطجع عليها، قال: " أما علمت أن الملائكة لا تدخل بيتا فيه صورة، وأن من صنع الصورة يعذب يوم القيامة يقول: أحيوا ما خلقتم "

  سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط (3/ 279، رقم الحديث: 2151) دار الرسالة العالمية:

حدثنا محمد بن رمح، حدثنا الليث بن سعد، عن نافع، عن القاسم بن محمد عن عائشة، أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "إن أصحاب الصور يعذبون يوم القيامة، يقال لهم: أحيوا ما خلقتم"

شرح النووي على مسلم (14/ 81) دار إحياء التراث العربي – بيروت:

 قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صورة الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث وسواء صنعه بما يمتهن أو بغيره فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى وسواء ما كان فى ثوب أو بساط أودرهم أو دينار أو فلس أو إناء أو حائط أو غيرها وأما تصوير صورة الشجر ورحال الإبل وغير ذلك مما ليس فيه صورة حيوان فليس بحرام هذا حكم نفس التصوير وأما اتخاذ المصور فيه صورة حيوان فإن كان معلقا على حائط أو ثوبا ملبوسا أو عمامة ونحوذلك مما لايعد ممتهنا فهو حرام وإن كان في بساط يداس ومخدة ووسادة ونحوها مما يمتهن فليس بحرام ولكن هل يمنع دخول ملائكة الرحمة ذلك البيت فيه كلام نذكره قريبا إن شاء الله ولافرق فى هذا كله بين ماله ظل ومالاظل له هذا تلخيص مذهبنا في المسألة وبمعناه قال جماهير العلماء من الصحابة والتابعين ومن بعدهم.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

25/ربیع الاول 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب