03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدہ(بیوہ)،دوبھائی  اوردوبہنوں میں میراث کی تقسیم
81470میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سوال:ہم دوبھائی دوبہنیں،اورایک والدہ(زوجہ توفیق مرحوم )ہیں،شرعی اصولوں کےمطابق میرےوالد(توفیق احمدمرحوم )کی جائیدادکوکس طرح تقسیم کیاجائےگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم  کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز وتکفین کامعتدل خرچہ (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو (اداکیاجائےگا،پھر مرحوم کاقرضہ اداکیاجائےگا،تیسرے نمبر پر  اگرمرحوم  نے کسی کے لئے اپنے مال میں سے  تہائی حصہ تک  وصیت کی ہے تو اسے اداکیاجائے،اس کےبعدموجود ورثہ میں میراث تقسیم کی جائےگی۔

موجودہ صورت میں مرحوم کےمال میں سابقہ تینوں حقوق  اداءکرنےکےبعدموجودورثہ(بیوہ ،دوبیٹے،دوبیٹیوں) میں  میراث کی تقسیم کی جائےگی۔

تقسیم کاطریقہ یہ ہوگاکہ والدصاحب(مرحوم) کی کل جائیدادکی قیمت لگائی جائےگی،مارکیٹ ویلیوکےمطابق جو قیمت ہو،اس میں سےآپ کی والدہ کو کل میراث کاآٹھواں حصہ ملےگا اورباقی میراث آپ بہن بھائیوں میں اس طرح تقسیم ہوگی کہ بھائیوں کو دودوحصےاور بہنوں کوایک ایک حصہ ملےگا۔

فیصدی اعتبارسےتقسیم کیاجائےتو والدہ کو 12.5فیصدحصہ ملےگا،اور دونوں بھائیوں میں سےہرایک کو 29.1666فیصداور ہربہن کو 14.58333فیصدحصہ ملےگا۔

حوالہ جات

"السراجی فی المیراث "5،6 :

 الحقوق المتعلقہ بترکۃ المیت :قال علماؤنارحمہم اللہ تعالی تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ الاول یبدأبتکفینہ وتجہیزہ من غیرتبذیرولاتقتیر،ثم تقصی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ ثم تنفذوصایاہ من ثلث مابقی بعدالدین ،ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ ۔

"سورۃ النساء" آیت 12:وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

25/ربیع الاول    1445ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب