| 81469 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
:کیافرماتےہیں مفتیان کرام درج ذیل مسائل کےبارےمیں :
میرےوالدصاحب (توفیق احمدمرحوم )کاحال ہی میں انتقال ہواہے،زندگی میں میرےدادا(برکت اللہ مرحوم)نےاپنی زندگی میں ہی حالت صحت میں مکان اوراس میں موجود تمام سامان والدصاحب کوگفٹ (ہدیہ)کردیاتھا،اورساتھ ہی زندگی میں پورامکان والدصاحب کےنام بھی کردیاتھا،جوابھی تک میرےوالدصاحب کےنام پرہی ہے،لیکن گھرکےایک حصےمیں تایاابوکو رہنےدینےکاکہاتھااوریہ بات کہی تھی کہ جب تک یہ لوگ آپ کےساتھ صحیح طریقےسےگزربسرکررہےہیں،تب تک ان کورکھنااورجب بہت مجبور ہوجاؤتواس کو بھی نکال باہرکرنا(یہ دادابرکت اللہ مرحوم کےالفاظ تھے)۔
- اب سوال یہ ہےکہ اس مکان میں میرےکسی تایایاپھوپھی کاحصہ بنتاہےیانہیں ؟
- اسی طرح سامان جو والدصاحب کوگفٹ کیاتھا،اس میں کسی وارث کاحق ہے یانہیں ؟
- تایاابو کورکھنےکاجودادانےکہاتھا،شرعااس کی کیاحیثیت ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1،2۔اگردادامرحوم نے مکان وغیرہ آپ کےوالد صاحب کو ہدیہ کرکےباقاعدہ قبضہ میں بھی دےدیاتھا،جیساکہ سوال سےبھی یہی معلوم ہوتاہےکہ دادانےباقاعدہ قبضہ میں بھی دےدیاتھاتویہ مکان اور اس میں موجود مکمل سامان آپ کےوالد صاحب کا ذاتی شمار ہوگا۔ایسی صورت میں آپ کےچچاپھوپھی وغیرہ کاکوئی حصہ نہیں ہوگا۔
3۔تایاابو کو رکھنےکاجوکہاگیاہےیہ والدصاحب کی طرف سےتایاوغیرہ کےساتھ خیرخواہی اورحسن سلوک کامشورہ تھا،جس پرعمل کرنےاورنہ کرنےکاآپ کےوالدصاحب کو اختیارتھا ۔
حوالہ جات
" شرح المجلۃ" 1/473 :یملک الموھوب لہ الموھوب بالقبض ،فالقبض شرط لثبوت الملک ۔
"شرح المجلۃ"1 /462:وتتم(الھبۃ)بالقبض الکامل لأنہامن التبرعات والتبرع لایتم الابالقبض الکامل ۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
25/ربیع الاول 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


