03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خاوندپراس کی حیثیت سے بڑھ کراخراجات کادباؤ ڈالنا اورنہ کرنے پر نا قابل برداشت رویے کا مظاہرہ کرنا
81467نان نفقہ کے مسائلبیوی کا نان نفقہ اور سکنہ ) رہائش (کے مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

         میر انام محمد رضوان ولد محمد عثمان ہے، میں اٹاوہ سوسائٹی مکان نمبر 42-R کا رہائشی ہوں ،کئی سالوں سے خانگی معاملات میں مسائل کاشکار ہوں،میری بیوی جس کا نام حمیر ارضوان ہے ،مجھ پر میری حیثیت سے بڑھ کر اخراجات کرنے کا دباؤ ڈالتی ہے اور ایسانہ کرنےپر نا قابلِ بر داشت رویے کا مظاہرہ کرتی ہے جس کی وجہ سے گھر کا سکون برباد ہو چکا ہے، میری چھ بیٹیاں ہیں میری بیوی کے رویےکی وجہ سے ان کا مستقبل بھی داؤ پر لگ چکا ہے،میری مالی طاقت سے باہر یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں میں بچیوں کے داخلے کر ائے گئے ہیں، تعلیمی اخراجات کے علاوہ بچیوں کے فیشن ایبل کپڑے، بیوٹی پارلر اور میک اپ ، اور رنگ گورا کر نےکے انجکشن لگوانے کے اخراجات میری دسترس سے باہر ہیں۔ ہرروز شاپنگ اور ہوٹلوں پر جاکر کھانا کھانے کی فرمائش کرتی ہے ۔ بچیوں کی سہیلیوں کے ساتھ پارٹیوں اور ان کے گھروں کی تقریبات میں تحائف دینے اور شان و شوکت سے جانے کے لیے مجھ پر مسلسل رقم دینے کے لیے دباؤ ڈالتی ہے۔ میں بچیوں کی بے پردگی اور ناز یبالباس سے بھی سخت نالاں ہوں اور میری بیوی کا کہنا ہے کہ اچھے رشتوں کے لیے ایسا کر ناضر وری ہے۔وہ میری مرضی کے خلاف شادیاں کرانے کا کام کرتی ہے جس کے لیے مسلسل غیر مردوں سے رابطے میں رہتی ہے اور نامعلوم اسباب کے لیے اپنے اور بچیوں کے اکاؤنٹ میں لوگوں سے پیسے لیتی ہے۔ میری اجازت کے بغیر نامعلوم مقامات پر جاتی ہے۔میری انکم محدود ہے میر اپینے کے پانی کی سپلائی کا کام ہے۔ میری حیثیت سے بڑھ کر کرائے کے گھر میں رہتی ہے، بجلی کا بے دریغ استعمال کرتی ہے ،گھومنے پھرنے کے لیے گاڑی کا بے جا استعمال کرتی ہے ، بچیوں کو پاکٹ منی الگ سے دینے کہتی ہے،ٹیوشن اور آنے جانے کے لیے وین لگوانے پر اصرار کرتی ہے،میرے شدید مقروض ہونے کے باجود اس کے مطالبات کم نہیں ہو رہے ہیں اور رقم نہ دینے کی صورت میں لڑائی جھگڑا کرتی ہے،بر تن توڑتی ہے، کبھی کہتی ہے تمہیں زہر دید و گی، کبھی تنگ ہو کر باہر نکلنے اور کبھی خود کشی کرنے کی دھمکیاں دیتی ہے ۔ پندرہ دن پہلےسے گھر سے میری چیز یں غائب ہونے کا سلسلہ شروع ہوا ، میر الیپ ٹاپ جس میں تمام کاروباری تفصیلات تھیں  غائب ہوا اور پانی کے کسٹمرزکے کارڈ بھی غائب کیے گئے ہیں جس سے کاروباری معاملات میں بھی خرابی پیدا ہو گئی، دوماہ سے گھر کا کرایہ اور بجلی کا بل بھی ادا نہیں کر سکاہوں ۔ مگر میری بیوی کم کرائے کے گھر میں جانے کو تیار نہیں ہے،بچیاں بھی ماں کا ساتھ دیتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ سب کے باپ اخراجات اٹھاتے ہیں آپ کچھ بھی کر یں مگر پیسے لا کر دیں، جب گھرمیں بیوی کی طرف سے دھمکیوں اور لڑائی جھگڑوں میں اضافہ ہونے لگا تو میں نے دس دن پہلے گھر سے نکلنے کا فیصلہ کیا ،تا کہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے،اس سے پہلے بھی انہی معاملات کی وجہ سے دو مرتبہ طلاق تک نوبت پہنچ چکی ہے،میری درخواست ہے کہ مندرجہ بالا تفصیلات کو دیکھتے ہوئے شرعی احکامات کی روشنی میں مجھے درست فیصلہ کرنے کی ہدایت دیں، میر اذ ہن بری طرح الجھا ہوا ہے اور میں اپنے آپ کو فیصلہ کرنے اور ان مسائل سے نکلنے کے قابل نہیں سمجھ رہا ہوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شادی کے بعد بیوی کو خوراک، لباس اور رہائش  کی فراہمی شوہر کی ذمہ داری ہے، اگر بیوی کےاخراجات ان تین ضروریات کے علاوہ ہیں تو شوہر اس کی ادائیگی کا پابند نہیں ہے،اگر بیوی کے اخراجات ان ہی تین مدات میں ہیں تو بیوی کا مطالبہ درست ہے، البتہ اگر ان مدات میں بیوی کے اخراجات شوہر کی آمدن سے زیادہ ہیں تو شوہر اپنی آمدن کےمطابق  ان ضروریات کو پوراکرنے کا پابند ہے ۔

اسی طرح بچیوں کے اخراجات بھی والد پر ان کی حیثیت کے مطابق واجب ہیں،لہذا والد کی حیثیت سے زیادہ کا مطالبہ کرنا اورپورانہ ہونے پر نا قابل بر داشت رویے کا مظاہرہ کرنا،والد کی استظاعت سے بڑھ کر یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں میں بچیوں کو داخل کر انا۔ تعلیمی اخراجات کے علاوہ بچیوں کے فیشن ایبل کپڑوں مطالبہ کرنا، بیوٹی پارلر اور میک اپ ،  رنگ گورا کر نے انجکشن لگوانے کےلئے اخراجات  مانگنا،ہرروز شاپنگ اور ہوٹلوں پر جاکر کھانا کھانے کی فرمائش کرنا، بچیوں کی سہیلیوں کے ساتھ پارٹیوں اور ان کے گھروں کی تقریبات میں تحائف دینے کے رقم کا مطالبہ کرنا اور شان و شوکت سے جانے کے لیے شوہرپرمسلسل رقم دینے کے لیے شوہر پردباؤ ڈالنا،شوہرکی حیثیت سے بڑھ کرکرایہ کےمکان میں رہنا یہ سب بیوی اوربیچوں کے غیر شرعی مطالبات ہیں، شوہرپر مذکورہ تین ضروری مدات  کے علاوہ اس طرح  کےفضول خرچیوں کےلیے رقم مہیاشرعاً کوئی ضروری نہیں ہے،لہذا سائل کی بیوی بچوں پرلازم ہے کہ اپنے اس ناجائز مطالبات سے باز آجائیں اوراپنے کئے پر توبہ واستغفار کریں اورشوہر اوربچیاں والد کی حیثیت کے مطابق اعتدال کے ساتھ خرچ کریں اوربلاوجہ شوہر اوربچیاں والد کو تنگ نہ کریں ورنہ نتیجہ تیسری طلاق کی صورت  ظاہر ہوسکتاہے اورپھر دونوں فریقوں کےلیے مشکلات ہونگی،فضول خرچی کرنے والے کو قرآن نے شیطان کا بھائی قراردیاہے ،لہذا اس سےاحتراز کیاجائے،گھر میں فضائل اعمال کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیاجائے۔اورآپ گھر والوں سمیت اگرتبلیغ میں کچھ دن لگالیں تو اس سے بھی ان شاء اللہ گھرکے ماحول پر اچھا اثر پڑےگا۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی:

أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآَتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُمْ بِمَعْرُوفٍ وَإِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرَى (6) لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنْفِقْ مِمَّا آَتَاهُ اللَّهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آَتَاهَا سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا [الطلاق/6، 7]

"وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ" [البقرۃ:2/228] 

وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: 

"وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ" [صحیح مسلم، الحج ،باب حجۃ النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم ، حدیث 1218وسنن ابی داود ،المناسک ،باب صفۃ حجۃ النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم حدیث 1905 ] 

وفی بدائع الصنائع، دارالكتب العلمية (4 / 23)

وأما بيان مقدار الواجب منها فالكلام في هذا الفصل في موضعين: أحدهما في بيان ما تقدر به هذه النفقة والثاني: في بيان من تقپدر به.

أما الأول فقد اختلف العلماء فيه قال أصحابنا: هذه النفقة غير مقدرة بنفسها بل بكفايتها۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔إذا عرف هذا فنقول إذا كان الزوج معسرا ينفق عليها أدنى ما يكفيها من الطعام والإدام والدهن بالمعروف ومن الكسوة أدنى ما يكفيها من الصيفية والشتوية، وإن كان متوسطا ينفق عليها أوسع من ذلك بالمعروف ومن الكسوة أرفع من ذلك بالمعروف، وإن كان غنيا ينفق عليها أوسع من ذلك كله بالمعروف ومن الكسوة أرفع من ذلك كله بالمعروف وإنما كانت النفقة والكسوة بالمعروف؛ لأن دفع الضرر عن الزوجين واجب وذلك في إيجاب الوسط من الكفاية وهو تفسير المعروف.

وفی الفتاوى الهندية - (1 / 547)

وإذا أراد الفرض، والزوج موسر يأكل الخبز الحواري واللحم المشوي، والمرأة معسرة، أو على العكس اختلفوا فيه والصحيح: أنه يعتبر حالهما كذلك في الفتاوى الغياثية وعليه الفتوى حتى كان لها نفقةاليسار إن كانا موسرين، ونفقة العسار إن كانا معسرين، وإن كانت موسرة، وهو معسر لها فوق ما يفرض لو كانت معسرة، فيقال له: أطعمها خبز البر وباجة أو باجتين، وإن كان الزوج موسرا مفرط اليسار نحو أن يأكل الحلواء، واللحم المشوي والباجات وهي فقيرة كانت تأكل في بيتها خبز الشعير لا يجب عليه أن يطعمها ما يأكل بنفسه، ولا ما كانت تأكل في بيتها، ولكن يطعمها خبز البر وباجة، أو باجتين وفي ظاهر الرواية يعتبر حال الزوج في اليسار والإعسار كذا في الكافي وبه جمع كثير من المشايخ - رحمهم الله تعالى - وقال في التحفة: إنه الصحيح كذا في فتح القدير، وقال مشايخنا - رحمهم الله تعالى -: والمستحب للزوج إذا كان موسرا مفرط اليسار والمرأة فقيرة أن يأكل معها ما يأكل بنفسه قال في الكتاب: وكل جواب عرفته في فرض النفقة من اعتبار حال الزوج، أو اعتبار حالهما فهو الجواب في الكسوة كذا في الذخيرة.

قال اللہ تعالی:

إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا [الإسراء/27]

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

۲۹/۳/۱۴۴۵ھ
 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب