03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک بیٹےاور پانچ بیٹیوں میں تقسیم میراث
81499میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

عرض یہ کہ والد صاحب کا ایک مکان تھا،ان کے انتقال کے بعد اب جائیداد کی تقسیم کا معاملہ ہے،ورثا میں ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں ہیں،مکان کی قیمت ستر لاکھ روپے ہے،اس کی شرعی حساب سے تقسیم کیسے ہوگی اور ہر ایک کا کتنا حصہ ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ستر لاکھ میں سے بیس لاکھ بیٹے کا حصہ ہے،جبکہ دس دس لاکھ ہر بیٹی کو ملیں گے،بشرطیکہ مذکورہ ورثا کے علاوہ کوئی اور وارث یعنی میت کی بیوی اور والدین میں سے کوئی آپ کے مرحوم والد کے انتقال کے وقت زندہ نہ ہو۔

حوالہ جات

"الدر المختار" (7/ 368):

"ثم شرع في العصبة بغيره فقال: (ويصير عصبة بغيره البنات بالابن وبنات الابن بابن الابن) وإن سفلوا (والاخوات لابوين أو لاب) (بأخيهن) فهن أربع ذوات النصف والثلثين يصرن عصبة بإخوتهن".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

02/ربیع الثانی 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب