| 81616 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
ہماری آئی ٹی کمپنی ہے جو اپنے کسٹمرز کے لئے پراڈکٹس بناتی ہے،ہمارے پراجیکٹس کروڑوں روپے کی مالیت کے ہوتے ہیں،ان میں زیادہ تر کام مالیاتی اداروں کے ساتھ ہوتا ہے،یا بڑے بڑے شاپنگ مالز کے ساتھ،جیسے میٹرو وغیرہ،ہمارا کسی بھی مالیاتی ادارے کے آپریشنز سے کوئی تعلق نہیں ہوتا،لیکن ہم ان کے ڈیٹا کی بنیاد پر Analysis Based Products بناتے ہیں،جو انہیں گروتھ میں فائدہ دیتی ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ہمارے جو Analysis Based Products ہیں،جو کسٹمرز کی کمپنی کی گروتھ میں فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں،کیا ہم سودی مالیاتی اداروں کو یہ پروڈکٹ بناکر دے سکتے ہیں جو انہیں سودی معاملات میں فائدہ دیں گے۔
نیز اگر وہ ہمیں یہ یقین دہانی کروادیں کہ ہم آپ کو سودی پیسوں سے ادائیگی نہیں کریں گے،بلکہ حلال پیسوں سے کریں گے تو بھی جائز نہیں ہوگا؟
اگر یقین ہو کہ جس ادارے کو ہم پراڈکٹ بناکر دے رہے ہیں ان کے اسی نوے فیصد معاملات سودی ہوتے ہیں تو کیا ایسے اداروں کو ہم یہ پراڈکٹ بناکر دے سکتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جن اداروں کے اکثر معاملات سودی ہوں اور آپ کو اس بات کا یقین یا ظن غالب ہو کہ وہ آپ کی جانب سے فراہم کی جانے والی پراڈکٹ کو زیادہ تر سودی معاملات میں استعمال کریں گے،انہیں یہ پراڈکٹ بناکر دینا جائز نہیں،اگرچہ وہ آپ کو حلال پیسوں سے ادائیگی کرنے کی یقین دہانی کروائیں،کیونکہ یہ سود جیسے عظیم گناہ میں معاونت ہے جو قرآن کی رو سے ناجائز ہے،چنانچہ سورہ مائدہ آیت نمبر۲میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:
{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} [المائدة: 2]
ترجمہ:اور نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو،بے شک اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔
حوالہ جات
"تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق " (ج 16 / ص 423) :
"قال رحمه الله : ( وحمل خمر لذمي بأجر ) أي جاز ذلك أيضا ، وهذا عند أبي حنيفة رحمه الله ، وقالا هو مكروه ؛ لأنه عليه الصلاة والسلام لعن في الخمر عشرة ، وعد منها حاملها ، وله أن الإجارة على الحمل ، وهو ليس بمعصية ، ولا تسبب لها ، وإنما تحصل المعصية بفعل فاعل مختار ، وليس الشرب من ضرورات الحمل ؛ لأن حملها قد يكون للإراقة أو التخليل فصار كما لو استأجره لعصر العنب أو قطفه ، والحديث محمول على الحمل المقرون بقصد المعصية ، وعلى هذا الخلاف إذا آجره دابة لينقل عليها الخمر أو آجره نفسه ليرعى له الخنازير فإنه يطيب له الأجر عند أبي حنيفة رحمه الله ، وعندهما يكره".
( قوله : وقالا هو مكروه ) قال فخر الإسلام قول أبي حنيفة قياس ، وقولهما استحسان . ا هـ . غاية ، وكتب ما نصه ؛ لأنه إعانة على المعصية فيكره لقوله تعالى {ولا تعاونوا على الإثم والعدوان } . ا هـ . غاية ( قوله : وعد منها حاملها) ، وإنما لعن الحامل لإعانته على المعصية . ا هـ . غاية. ( قوله : المقرون بقصد المعصية ) أي ، وهو شرب الخمر ، ولا كلام لنا فيه فإن ذلك مكروه . ا هـ غاية".
"حاشية رد المحتار "(ج 1 / ص 77) :
"وإذا كان في مسألة قياس واستحسان فالعمل على الاستحسان إلا في مسائل معدودة مشهورة".
"الدر المختار " (4/ 268):
"(ويكره) تحريما (بيع السلاح من أهل الفتنة إن علم) لأنه إعانة على المعصية (وبيع ما يتخذ منه كالحديد) ونحوه يكره لأهل الحرب (لا) لأهل البغي لعدم تفرغهم لعمله سلاحا لقرب زوالهم، بخلاف أهل الحرب زيلعي.
"رد المحتار "( 26 / 453) :
"وقال في النهاية : قال بعض مشايخنا : كسب المغنية كالمغصوب لم يحل أخذه ، وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة ، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم ، وإلا تصدقوا بها؛ لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه ا هـ".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
13/ربیع الثانی 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


