| 81704 | نماز کا بیان | تراویح کابیان |
سوال
علماء کرام اس مسئلےکےبارےمیں کیا ارشا دفرماتےہیں؟
آج کل رمضان کےمہینےمیں اکثر مساجدمیں جب تراویح پڑھی جاتی ہے،توامام صاحب پوری نماز یعنی عشاء کی نماز 4فرض 2 رکعت سنت، 20 رکعت تراویح اور 3رکعت وتر ،پوری 29 رکعت 30 منٹ میں پڑھتےہیں ،بعض قراء 25 منٹ اور بعض 20 منٹ میں بھی پڑھتےہیں ،اورتراویح میں سب رکعتوں میں تین آیات پڑھتےہیں،سورت کےشروع سےیادرمیان سےجیساکہ ایک رکعت میں یہ پڑھتےہیں :
عم یتسائلون ۔عن النباء العظیم ،اللذی ھم فیہ مختلفون
اس طریقےسےپورامہینہ نماز پڑھتےہیں،اگرامام تھوڑاساآہستہ نماز پڑھےتوپیچھےلوگ باتیں شروع کرتےہیں کہ دوسری مساجدمیں توایسانہیں ہے،آپ زیادہ بزرگ بن رہےہیں،اس وجہ سےامام صاحب جلدی سےنماز پڑھتےہیں،اورجب تروایح میں قرآن مجید ختم ہوتاہے،اس میں بھی اکثر قراء ایسےہی قرآن پڑھتےہیں،حروف کاحق بالکل ادانہیں کرتےاورجو پیچھےلوگ ہوتےہیں ان کوسمجھ میں بھی نہیں آتی کہ یہ کیاپڑھتےہیں،پیچھےلوگ قراء حضرات کو بولتےہیں کہ تھوڑاآہستہ پڑھیں،لیکن امام صاحب کہتےہیں کہ اس ختم کےبعد میں دوسری مساجدمیں بھی ختم کرتاہوں،اس وجہ سےجلدی جلدی پڑھتےہیں۔اب اس سےمتعلق سوالات یہ ہیں :
۱۔کیااس طرح نمازپڑھناجائزہےیاناجائز؟اگرکسی نےایسےطریقےسےنمازپڑھی تواس سےفرض اداہوجائےگایانہیں ؟کیابندہ گناہگارہوگایااجر ملےگا؟
۲۔30 منٹ میں 29رکعت نمازپڑھنادرست ہے؟
۳۔اس طریقےسےنمازمیں قرآن پڑھنا کہ الفاظ سمجھ میں نہ آئیں جائزہے؟نما ز اداہوجائےگی ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۱۔اس طرح ہررکعت میں تین تین آیات پڑھ کر نما زپڑھناجائزہےاور فرض بھی اداہوجائےگا،کیونکہ عام نمازوں کی طرح تراویح کی ہر رکعت میں ایک طویل آیت یا تین مختصر آیات پڑھنے سے نماز صحیح ہوجاتی ہے،البتہ پورےرمضان اسی طریقےکواختیارکرنابہترنہیں ،کیونکہ رمضان کے مہینے میں تراویح پڑھنا الگ سنت ہے اور تراویح میں ایک مرتبہ قرآن پاک ختم کرنا الگ سنت ہے،اوراس سنت کی ادائیگی میں قدرےطوالت بھی مطلوب ہے،لہذامستقل اس کامعمول بنانا اور مکمل ختم قرآن کےبغیرپورامہینہ چھوٹی آیات کےذریعہ پڑھناخلاف سنت ہوگا۔لیکن تراویح بہرحال ہوجائیں گی۔
۲۔30 منٹ میں 29 رکعت نمازپڑھنا اس شرط کےساتھ درست ہےکہ پڑھنےوالااس طرح پڑھےکہ قرآن کریم کے کلمات اور حروف صحیح طور پر ادا ہوں، نہ کوئی کلمہ یا حرف غلط ادا ہو اور نہ پڑھنے میں کٹے ، نیز تجوید کے ضروری قواعد کی رعایت بھی پائی جائے اورتیزپڑھنےسےمعنی میں خرابی نہ ہوتی ہو ۔
۳۔تراویح کی نماز کو جلدی ختم کرنے کے لیےقرآنِ مجید کو اس قدر تیز پڑھنا کہ الفاظ و حروف کی ادائیگی مکمل نہ ہو، یا تیز رفتاری کی وجہ سے سامعین کو سمجھ نہ آتا ہو، شرعاً درست نہیں، اس طرح قرآنِ مجید پڑھناثواب کے بجائے گناہ کاباعث ہے،اس قدرتیزرفتاری سےپڑھنےوالوں اورسامعین میں سےاس کی چاہت رکھنےوالوں کوسمجھانےاوران کی اصلاح کی ضرورت ہے، ورنہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مصداق بن سکتے ہیں کہ ’’بہت سے رات کو قیام کرنے والوں (تراویح پڑھنے والوں) کو رات جاگنےکے سوا کچھ نہیں ملتا‘‘ترایح کی ایسی جماعت میں شرکت نہیں کرنی چاہیے، ایسی تراویح کی نماز گناہ کا باعث ہے۔
حوالہ جات
"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع"1 / 289:
"ومنها: أن يقرأ في كل ركعة عشر آيات، كذا روى الحسن عن أبي حنيفة، وقيل: يقرأ فيها كما يقرأ في أخف المكتوبات وهي المغرب، وقيل: يقرأ كما يقرأ في العشاء؛ لأنها تبع للعشاء، وقيل: يقرأ في كل ركعة من عشرين إلى ثلاثين؛ لأنه روي أن عمر -رضي الله عنه- دعا بثلاثة من الأئمة، فاستقرأهم وأمر أولهم أن يقرأ في كل ركعة بثلاثين آيةً، وأمر الثاني أن يقرأ في كل ركعة خمسة وعشرين آيةً، وأمر الثالث أن يقرأ في كل ركعة عشرين آيةً، وما قاله أبو حنيفة سنة؛ إذ السنة أن يختم القرآن مرةً في التراويح، وذلك فيما قاله أبو حنيفة، وما أمر به عمر فهو من باب الفضيلة وهو أن يختم القرآن مرتين أو ثلاثاً، وهذا في زمانهم". فقط واللہ اعلم
"الفتاوى الهندية " 4 / 40:
روى الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه يقرأ في كل ركعة عشر آيات ونحوها وهو الصحيح ، كذا في التبيين ويكره الإسراع في القراءة وفي أداء الأركان ، كذا في السراجية وكلما رتل فهو حسن ، كذا في فتاوى قاضي خان والأفضل في زماننا أن يقرأ بما لا يؤدي إلى تنفير القوم عن الجماعة لكسلهم ؛ لأن تكثير الجمع أفضل من تطويل القراءة ، كذا في محيط السرخسي ۔
والمتأخرون كانوا يفتون في زماننا بثلاث آيات قصار أو آية طويلة حتى لا يمل القوم ولا يلزم تعطيل المساجد وهذا أحسن ، كذا في الزاهدي
"الفتاوى الهندية " 4 / 41:
لو حصل الختم ليلة التاسع عشر أو الحادي والعشرين لا تترك التراويح في بقية الشهر ؛ لأنها سنة ، كذا في الجوهرة النيرة الأصح أنه يكره له الترك ، كذا في السراج الوهاج .
"رد المحتار" 5 / 254:
ويجتنب المنكرات هذرمة القراءة ، وترك تعوذ وتسمية ، وطمأنينة ، وتسبيح ، واستراحة
الشرح:( قوله هذرمة ) بفتح الهاء وسكون الذال المعجمة وفتح الراء : سرعة الكلام والقراءة قاموس ، وهو منصوب على البدلية من المنكرات۔۔
"البحر الرائق شرح كنز الدقائق" 4 / 317:
وفي المجتبى والمتأخرون كانوا يفتون في زماننا بثلاث آيات قصار أو آية طويلة حتى لا يمل القوم ولا يلزم تعطيلها وهذا حسن فإن الحسن روى عن أبي حنيفةأنه إن قرأ في المكتوبة بعد الفاتحة ثلاث آيات فقد أحسن ولم يسئ هذا في المكتوبة فما ظنك في غيرها ا هـ .
وفي التجنيس ثم بعضهم اعتادوا قراءة { قل هو الله أحد } في كل ركعة وبعضهم اختاروا قراءة سورة الفيل إلى آخر القرآن وهذا حسن لأنه لا يشتبه عليه عدد الركعات ولا يشتغل قلبه بحفظها فيتفرغ للتدبر والتفكر۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
15/ربیع الثانی 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


