| 81691 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
یافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ميرا نام سيد عادل شاہ ولد سيد اقبال شاہ ہے اور ميری بیوی کا نام اقراء عادل ولد طارق محمود (مرحوم) ہے ہماری شادی 22/02/2021 کو ہوئی اور26/12/2021کو اللہ پاک کے فضل سے ہماری بيٹی پیدا ہوئی۔بيٹی کے ایک سال کے ہونے پر ميں نے جب دوسرے بچے کی خواہش کا اظہار کیا تو میری بیوی ناراض ہو کر اپنی والدہ کے ساتھ چلی گئی اور صرف چودہ ماہ کی بچی میرے پاس چھوڑ گئی۔ میرے والدين اور میری بہنوں کے رابطہ کرنے پر بھی اپنے گھر تک کا پتہ بھی نہ بتایا کیونکہ یہ لوگ گھر تبدیل کر چکے تھے اور موبائل نمبر بھی تبديل کر دئیے کچھ ہی دنوں بعد میرے پرانے گھر کے پتہ پر گھر کے نئے مالکان کو ایک اخبار موصول ہوا جس کی اطلاع مالک مکان نے بذریعہ WhatsApp 11اپریل 2023 رات 10:35 ۔ 21 رمضان کو مجھے دی۔screenshot بھی بطور ثبوت پیش کر دیا ہے۔یہ گھر 98-D2 جوہر ٹاؤن لاہور میں اپنی بیوی کی موجودگی ميں 3 ماہ قبل میں چھوڑ چکا تھا اور اپنی بیوی کے ساتھ اپنے والدین کے گھر رہ رہا تھا۔جبکہ بیوی کے شناختی کارڈ پر میرا مستقل پتہ درج تھا اور میرے والد کا پتہ بھی اس کے گھر والوں کو معلوم تھا۔ 2023/04/12کو جب میں نے اخبار لینے کی نیت سے پرانے گھر کے مالک کو فون کیا تو انہوں نے افطاری پر مصروفیت کی وجہ سے اگلے دن آنے کو کہا اگلے دن جب اخبار وصول کیا تو اس پر میری بیوی کی طرف سے خلع کے دعوی کی بابت2023/04/07کو عدالت میں طلبی کا حکم تھا جو کہ ایک ہفتہ پہلے ہی گزرچکی تھی اتوار کی چھٹی کے بعد2023/04/17کو عدالت سے معلوم ہوا کہ 2023/04/15کو ہی خلع کا یکطرفہ فیصلہ مجھے سنے بغیر میرے خلاف سنا دیا گیا ہے۔ميں نے اس نيت سے انتظار کیا کہ ابھی یونین ثالثی کونسل طلب کرے گی تو اپنی ڈیڑھ سال کی بچی کے ساتھ پیش ہو کر اپنی بیوی کو منانے کی کوشش کرونگا اس دوران اپنے ذرائع سے متعلقہ یونین کونسل رابطہ کرنے کی کوشش کرتا رہا اور ایک دن میری سالی کے ملازم کے نمبر سے مجھے طلاق مؤثر سرٹيفکيٹ بذریعہ WhatsApp موصول ہوا میرے اس نمبر پر رابطہ کرنے پر اور جانچ پڑتال کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ سرٹیفیکیٹ دو نمبری ہے، رشوت دے کر اصل ثالثی کونسل کی بجاۓ 25 کلو ميٹر دور بغير کسی سے اپنا رہائشی پتہ لکھوائےساز باز کر کے مجھے ایک دفعہ بھی طلبی نوٹس کسی بھی اصل اور پرانے پتے پر بجھوائے بغیر طلاق کی ڈگری جاری کروالی گئی ہے۔
گزارش ہے کہ ميں اللہ اور رسول پاک کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ ميں کئی دفعہ حج اور عمرے کر چکا ہوں ميں حلفاً کہتا ہوں ميں نے آج تک کبھی اپنی بيوی پر ہاتھ نہيں اٹھایا کبھی طلاق کا لفظ زبان پر لانا دور کبھی اسکا تصور بھی نہیں کیا بیوی کی تمام تر ذمہ داریاں ضرورت سے زیادہ پوری کی ہيں اور جو کچھ بیان کیا وہ سب سچ ہے۔تمام ثبوت بھی آپ کو فراہم کر دیئے ہیں۔برائے مہربانی مجھے قران اور سنت کی روشنی میں فتوی جاری کریں کہ
ميری طلاق/خلع واقع ہو گئی ہے؟ فتوی درکار ہے اللہ ربُ العزت آپ کی عزت میں اضافہ کرے ۔آمین
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خلع شرعاً ایک عقدہے،کسی بھی عقد کی طرح اس میں بھی طرفین کی رضامندی ضروری ہے،عدالت یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری نہیں کرسکتی، ہاں فاضل عدالت بعض خاص صورتوں میں فسخِ نکاح کی ڈگری جاری کرسکتی ہے جن کا ذکر آگے آرہاہے،مگر مسئولہ صورت میں ان میں سے کوئی وجہ بھی موجود نہیں ،مارنے اورگھر سے نکالنےکی جو بات فاضل جج نے لکھی ہےاس سے شوہرمنکرہے اورجب شوہربروقت اطلاع نہ ملنے کی وجہ سے عدالت میں حاضرہواہی نہیں تو یقیناًفاضل جج نے اس کو نہیں سنا تو یہ فیصلہ دوسرے فریق کو سنے اورگواہوں کو سنے بغیر یکطرفہ جاری کیاگیاہے نیز اس میں کوئی معتبر شرعی وجہ فسخ بھی موجود نہیں،خاوندکی رضاء نہیں،لہذا مذکورہ فیصلہ شرعاً معتبرنہیں ۔
شوہرنے جب کوئی طلاق سرے دی نہیں تو وہ نافذ کیسے ہوسکتی ہے؟ لہذامذکورہ لڑکی بدستورشرعاًاپنے سابق شوہرکے نکاح میں ہے جب تک وہ طلاق نہیں دے گااس وقت تک وہ آگے نکاح نہیں کرسکتی،کیونکہ نکاح پر دوسرا نکاح نہیں ہوسکتا۔
واضح رہے کہ عدالت صرف درج ذیل صورتوں میں نکاح فسخ کرسکتی ہے۔
١۱۔شوہرنامردہو۔
۲۔ شوہر نان ونفقہ نہ دیتاہو۔
۳۔شوہر اتناغریب ہوکہ عورت کے نان ونفقہ کاانتظام نہ کرسکتاہو۔
۴۔شوہرکئی سالوں سے لاپتہ اوراس کاکوئی حال واحوال معلوم نہ ہو۔
۵۔ شوہر اس طرح پاگل ہوکہ عورت کواس سے جان کاخطرہ ہو۔
۶۔کوئی اورایسی وجہ ہو جو مذاہبِ اربعہ میں سے کسی مذہب کے مفتی بہ قول کے مطابق عدالتی فسخ کاسبب ہو۔
ان میں سے ہرایک کی الگ الگ تفاصیل ہیں جن کی رعایت شرعاًضروری ہے ،اگرکسی ایک شرط کی رعایت کے بغیر نکاح فسخ کیاجائے تووہ فسخِ نکاح نافذنہیں ہوگا۔
حوالہ جات
وفی "الدر المختار" ج 3 ص 482
الخلع (هو) لغة: الازالة، واستعمل في إزالة الزوجية بالضم،وفي غيره بالفتح.وشرعا كما في البحر (إزالة ملك النكاح) خرج به الخلع في النكاح الفاسد، وبعد البينونة والردة فإنه لغو كما في الفصول (المتوقفة على قبولها) خر ما لو قال خلعتك ناويا الطلاق فإنه يقع بائنا غير مسقط للحقوق لعدم توقفه عليه، بخلاف خالعتك بلفظ المفاعلة أو اختلعي بالامر ولم يسم شيئا فقبلت فإنه خلع مسقط، حتى لو كانت قبضت البدل ردته. خانية (بلفظ الخلع) خرج الطلاق على مال فإنه غير مسقط.فتح.وزاد قوله (أو في معناه) ليدخل لفظ المبارأة فإنه مسقط كما سيجئ، ولفظ البيع والشراء فإنه كذلك كما صححه في الصغرى خلافا للخانية، وأفاد التعريف صحة خلع المطلقة رجعيا.
وفی فتاوی شامیة:
"فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية: لايتم الخلع ما لم يقبل بعده".(۳/۴۴۰، سعید)
وفی بدائع الصنائع
"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة، ولايستحق العوض بدون القبول". (۳/۱۴۵، سعید)
أحكام القرآن للجصاص ط العلمية (1/ 478)
فأباح الأخذ منها بتراضيهما من غير سلطان. وقول النبي صلى الله عليه وسلم لامرأة ثابت بن قيس: "أتردين عليه حديقته؟ " فقالت: نعم فقال للزوج: "خذها وفارقها" يدل على ذلك أيضا; لأنه لو كان الخلع إلى السلطان شاء الزوجان أو أبيا إذا علم أنهما لا يقيمان حدود الله لم يسألهما النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك ولا خاطب الزوج بقوله "اخلعها" بل كان يخلعها منه .
المبسوط للسرخسي (6/ 173)
والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض.
وفی سنن ابن ماجة للقزويني - (ج 2 / ص 172)
عن عكرمة ، عن ابن عباس ، قال : أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال : يا رسول الله ! إن سيدا زوجنى أمته ،وهو يريد أن يفرق بينى وبينها ، قال ، فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر فقال " يا أيها الناس ! ما بال أحدكم يزوج عبده أمته ثم يريد أن يفرق بينهما ؟ إنما الطلاق لمن أخذ بالساق " .
وفی إرواء الغليل للالبانی- (ج 7 / ص 109)
قلت : ولعل حديث إبن عباس بمجموع طريقيه عن موسى بن أيوب يرتقى إلى درجة الحسن . والله أعلم . ثم وجدت له طريقا ثالثة أخرجه الطبراني في ( المعجم الكبير )
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
19/4/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


