03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حلال و حرام پروڈکٹ بنانے والی کمپنیوں کے شیئرز خریدنے کا حکم
81340جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

سوال یہ ہے کہ میں ہندوستان میں رہتا ہواور ہم یہاں مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی کے بنیادی اصول کے تحت اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔یہاں کچھ کمپنیاں ایسی ہیں جس میں پروڈکٹ حلال بنتے ہیں، مگر کچھ حرام پروڈکٹ بھی تیار کیے جاتے ہیں۔ کچھ کمپنیاں دونوں پروڈکٹ کی الگ الگ کمائی اپنی رپورٹ میں نہیں بتاتی ،  تو ایسے وقت ہم اس کمپنی کے شیئرز خریدنے کے لیے مندرجہ ذیل طریقہ اپناتے ہیں:

  1. ہم ان کے سارے پروڈکٹ کو دیکھتے ہیں اور ان کے سارے پروڈکٹ کو دیکھ کر ہمارا غالب گمان یہ ہوتا ہے کہ ان کے حرام پروڈکٹ کی کمائی پانچ  فیصد سے کم ہے، تو ہم ایسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں ۔
  2. اور اگر ہمیں ظنِ غالب ہوتا ہے کہ حرام پروڈکٹ پانچ فیصد سے زائد ہے، یا ہم شک میں ہوتے ہیں کہ اس حرام پروڈکٹ کی آمدنی پانچ فیصد سے کم یا زیادہ ہے ، تو ہم اس کمپنی میں انویسٹ کرنے سے پرہیز کرتے ہیں ۔ مطلب جن کمپنیوں کے حرام اور حلال دونوں پروڈکٹ کی الگ الگ آمدنی ان کے رپورٹ سے نہیں معلوم ہوتی ہے اس میں ہم ظن غالب  دیکھتے ہیں ۔ کیا ہمارا یہ طریقہ کار صحیح ہے؟ اگر صحیح ہے تو برائے کرم تائید فرمائیں اور اگر ہمارا طریقہ کار غلط ہے تو برائے مہربانی ہمیں صحیح طریقہ کی طرف بالدلیل رہنمائی فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی کمپنی کے شیئرز کی خریداری کے جواز کے لیے دیگر شرائط کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کمپنی   کا کاروبار جائز و حلال ہو، یعنی وہ کمپنی  حرام اشیاء کا کاروبار نہ کرتی ہو اور اس کا اصل کاروبار حلال ہو  ، جوئے، سٹے، شراب، سودی کاروبار وغیرہ میں ملوث نہ ہو۔ اس لیے کہ جس طرح حرام کاروبار خود کرنا ناجائز ہے، اسی طرح حرام کاروبار میں کسی اور کی معاونت کرنا، یا کسی کو اپناوکیل بنانا بھی ناجائز ہے ،لہذا  جب سوال میں مذکور کمپنیاں  حلال پروڈکٹ  کے ساتھ حرام پروڈکٹ  بھی بناتی  ہیں  تو ایسے  کمپنیوں میں   سرمایہ کاری کرنا ابتدا   سے ہی ناجائز ہے ۔

حوالہ جات

قال اللہ تبارك و تعالي:

وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُواْ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ(المائدۃ، آیت :2) 

قال العلماء رحمهم اللہ في المعايير الشرعية:المساهمة أوالتعامل في أسهم شركات أصل نشاطها حلال،و أن لا تنص الشركة في نظامها الأساسي أن من أهدافها التعامل بالربا أوالتعامل بالمحرمات كالخنزير وغيره.( المعايير الشرعية :ص:567)

   قال العلامة مفتي محمد تقي العثماني :الشرط الثانی لجواز البیع أن یکون المبیع متقوماً، وهو شرط لانعقاد البیع، فما لیس متقوماً بحکم العرف أو بحکم الشرع لاینعقد بیعه… فکل ما لا یباح الانتفاع به لیس متقوماً شرعاً، ولا یجوز بیعه. (فقہ البیوع :1/303-289 )

قال جمع  من العلماء رحمهم اللہ في الهندية:      آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه ،و غالب ماله حرام ،لا يقبل ولا ياكل ،ما لم يخبره أن ذالك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه .وِإن كان غالب ماله حلالا،لا باس بقبول هديته والأكل منها . (الھندیۃ :543/5)

قال العلامۃ السرخسي رحمه اللہ:

وإذا استأجر الذمى من المسلم بيتا البيع فيه الخمر لم يجز ؛لأنه معصية،والاستئجار علي المعصية لا تجوز.

  محمد مفاز                                      

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید،كراچی

20 ربیع الثانی 1445ھ

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مفاز بن شیرزادہ خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب