| 81696 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
زید اورزینب کی شادی کو دس سال گزرگئے ہیں (جبکہ زینب کا ایک بیٹابھی ہے سابقہ شوہرسے جس کی پرورش کی مکمل ذمہ داری زینب پر ہے ) زیدکے نان ونفقہ کی کوتاہی اورلڑائی جھگڑے کی وجہ سے آپس کے تعلقات کافی خراب ہیں، چارماہ یا آٹھ ماہ تک وہ گھر میں نہیں آتاتھا،لاپرواہی کرتاتھا،بالآخر رات ایک بجےتک ان کے درمیان بول چال کے بعد یہ طے پایاکہ ہم دونوں کو الگ ہوجانا چاہیے، دس سال سے نہیں بن رہی ہے،زید نے زینب سے کہا کہ میں خودبھی روزروز کے معاملات سے تنگ آگیاہوں اوراب معاملہ ختم کرناچاہتاہوں ،زینب نے کہاکہ پھر مجھے لکھ کردو ،زید نے کہاکہ نہیں، تم خود لکھوگی اختیاربھی دیا،زینب کوکہ جو مرضی لکھو میں سائن کردونگا،تم اس کے بدلے مجھے حقِ مہرمعاف کروگی (دو تولہ سونااوردس مرلہ زمین)اس پر زینب راضی ہوگئی اورتحریر اس کی موجودگی میں لکھی گئی جس میں وہ چاہتاتھا کہ زینب خلع کے طورپر طلاق لے،اس کےبعد جب دستخط کا ٹائم آیا تو زید نے یہ الفاظ لکھ دیئے "میں ایک طلاق دے رہاہوں"ساتھ دستخط کئے ،اس کے بعد ایک دفعہ زیدنے کہاکہ رجوع کرلیتے ہیں، لیکن نہ کوئی ازدواجی تعلق قائم ہوا اورنہ ہی زینب راضی ہوئی ۔سوال یہ ہےکہ
مذکورہ طلاق طلاق کی صورتوں میں سے کونسی صورت ہے ؟
تحریرکے الفاظ درجِ ذیل تھے ۔
مسمی زینب بنت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شوہر زیدولد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارانکاح اگست 2014کو ہوا تھا،9سال کے عرصہ میں بہت کوشش کے باوجود ہمارا نبھاؤنہیں ہوسکا،لہذا زیدمجھے طلاقِ ثلاثہ دیتاہے اورمیں اس کے عوض اپناحقِ مہرمعاف کرتی ہوں، آئندہ ہماراکسی قسم کا ایک دوسرے پر دعوی نہیں ہوگا۔
دستخط زید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیدکے الفاظ "میں ایک طلاق دے رہاہوں "
Zaid
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں زیدکاشروع میں یہ کہنا کہ"جو مرضی لکھو میں سائن کردونگا " ایک وعدہ تھا دستخط سے پہلے اس سےکوئی طلاق نہیں ہوئی، اورجب تحریرپڑھنے کے بعددستخط سے پہلے زیدنے یہ الفاظ لکھے "میں ایک طلاق دے رہا ہوں " اوراس کے بعد دستخظ کردیئے تو اس کا مطلب یہ ہےکہ وہ تین پر راضی نہیں تھا،لہذا مسئولہ صورت میں تین نہیں ہوئی، بلکہ ایک طلاق ہوئی ہے اورچونکہ یہ طلاق بالمال ہے،لہذا بائن طلاق واقع ہوئی ہے،لہذا اگر اس سے پہلے شوہرنے بیوی کودو طلاقیں نہ دی ہوں تو دوبارہ نیا نکاح باہمی رضامندی سے تو ہوسکتاہے، لیکن نکاح کے بغیرویسے رجوع نہیں ہوسکتا۔
جس طرح پہلا نکاح باہمی رضامندی سےایجاب وقبول کے ساتھ اورمہر کے ساتھ دو عاقل بالغ گواہوں کی موجودگی میں ہواتھا، دوبارہ بھی ایسے ہی ہوگا ،لہذا مذکورہ صورت میں رجوع نہیں ہوسکتا اورعورت کی رضاء کے بغیر نیانکاح بھی نہیں ہوسکتا۔
مسئولہ صورت میں جب زیدنے عورت کے مطالبہ پر تین کے بجائے ایک طلاق دی توعوض یعنی(دو تولہ سونا اوردس مرلہ زمین) میں سےبھی صرف ایک تہائی حصہ معاف ہوا ،لہذا دوتہائی زید کو دینا پڑے گا۔
حوالہ جات
فتح القدير للكمال ابن الهمام (4/ 225)
(وإذا قالت طلقني ثلاثا بألف فطلقها واحدة فعليها ثلث الألف) لأنها لما طلبت الثلاث بألف فقد طلبت كل واحدة بثلث الألف، وهذا لأن حرف الباء يصحب الأعواض والعوض ينقسم على المعوض والطلاق بائن لوجوب المال.
المبسوط للسرخسي (6/ 173)
(قال) : فإن قالت: طلقني ثلاثا بألف درهم فطلقها واحدة فله ثلث الألف؛ لأن حرف الباء يصحب الأبدال، والأعواض، والعوض ينقسم على المعوض، فهي لما التمست الثلث بألف فقد جعلت بإزاء كل تطليقة ثلث الألف، ثم فيما صنع الزوج منفعة لها؛ لأنها رضيت بوجوب جميع الألف عليها بمقابلة التخلص من زوجها فتكون أرضى بوجوب ثلث الألف عليها إذا تخلصت من زوجها، وبالواحدة تتخلص منه.
البناية شرح الهداية (5/ 521)
م: (وإذا قالت طلقني ثلاثا بألف فطلقها واحدة فعليها ثلث الألف) ش: وبه قال الشافعي وعند مالك يقع بألف، وعند أحمد يقع بغير شيء م: (لأنها لما طلبت الثلاث بألف فقد طلبت كل واحدة بثلث الألف، وهذا لأن حرف الباء يصحب الأعواض، والعوض ينقسم على المعوض) ش: أي على أجزاء المعوض، فيقابل كل طلقة بثلث الألف.
فإن قلت: هذا يشكل بالبيع، فلو قال بعت منك هذه العبيد الثلاثة كل واحد بثلث الألف، فقبل البيع في واحد بعينه لم يجز، ولم يجب ثلث الألف.
قلت: الطلاق لا يبطل بالشرط الفاسد لقبوله التعليق والأخطار، ولا كذلك البيع.
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 762)
(ولو قالت طلقني ثلاثا بألف فطلق واحدة فله ثلث الألف) فتجعل الألف ثلاثا كل ثلث بمقابلة واحدة.... (وبانت) لوجوب المال.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 153)
ولو قالت: طلقني ثلاثا بألف درهم فطلقها ثلاثا يقع ثلاثة بألف درهم؛ لا شك فيه، ولو طلقها واحدة وقعت واحدة بائنة بثلث الألف في قولهم جميعا.
ملتقى الأبحر (ص: 106)
ولو قالت طلقني ثلاثا بألف فطلق واحدة فله ثلث الألف وبانت.
تبيين الحقائق 2 / 268 ـ ط بولاق
الْوَاقِعُ بِالْخُلْعِ وَبِالطَّلاقِ الصَّرِيحِ إذَا كَانَ بِعِوَضٍ يَكُونُ بَائِنًا ; لأَنَّ الزَّوْجَ مَلَكَ الْعِوَضَ فَوَجَبَ أَنْ تَمْلِكَ هِيَ الْمُعَوَّضَ تَحْقِيقًا لِلْمُسَاوَاةِ وَذَلِكَ بِالْبَائِنِ.
وفی التوضيح علی التنقیح (1/ 195, 196)
بخلاف وضرتك طالق فإن إظهار الخبر هنا دليل على عدم المشاركة في الجزاء).......قوله إن دخلت الدار فأنت طالق وضرتك طالق يمكن حمل قوله وضرتك طالق على الوجهين لكن إظهار الخبر وهو طالق في قوله وضرتك طالق يرجع العطف على المجموع لا على الجزاء لأنه لو كان معطوفا على الجزاء لكفي أن يقول وضرتك.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
20/4/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


