| 81694 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
محلہ کے ایک پڑوسی کی گھر والی میرے گھر کے سامنے ایک مرتبہ پہلے گزری،حالات کی خرابی کی وجہ سے میں نے اس سے گلہ کیا،پھر دوسری مرتبہ عشاء کے وقت وہی عورت پردے میں ہماری گلی سے گزری،اس عورت کو میں اچھی طرح جانتا ہوں اورپردے میں دیکھتے ہوئے بھی میں نے اس کو پہچان لیا، نیز اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا اوراس وقت چاند بھی روشن تھا، اوراس کے علاوہ مزید دو بندوں نے بھی دیکھ کر یہی کہا کہ یہ وہی عورت ہے، اب میں نے اس مرتبہ جب پڑوسی سے گلہ کیا تو اس نے کہاکہ میری بیوی نہیں ہے اوراگر یہ میری بیوی نہ ہوئی تو تمہاری بیوی کو تین طلاقیں ہوں تو میں نے جواب میں کہا "ہاں" کہ اگر یہ تمہاری بیوی نہ ہوئی تو میری بیوی کو طلاق ہو"
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں آپ کی بیوی کی ایک طلاق اس بات پر موقوف ہوگئی ہیں کہ وہ عورت اس پڑوسی کی بیوی نہ ہو،لہذا اگریقینی طورپر یا غلبہ ظن کےدرجے میں ثابت ہوجائے کہ مذکورہ عورت اس پڑٕوسی کی بیوی نہیں ہے تو آپ کی بیوی پرایک طلاق واقع ہوجائے گی،اس کے بعدآپ دونوں رجوع کرسکتے ہیں ۔
اواگریقین یاغالب گمان حاصل نہ ہوسکے کہ وہ پڑوسی کی بیوی نہیں ہےبلکہ معاملہ میں شک ہو تو پھر طلاق نہیں ہوگی اس لیے کہ صرف شک سےکوئی چیز ثابت نہیں ہوتی ،اسی طرح اگر فی الواقع ثابت ہوجائے کہ وہ پڑوسی کی بیوی ہے تو پھر بھی شرط پوری ہونے کی وجہ سے طلاق نہیں ہوگی ۔
حوالہ جات
فى الهندية:
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الرابع في الطلاق بالشرط،ج:1،ص:488)
المبسوط للسرخسی (28/112)
لو قال: إن لم أدخل الدار اليوم فعبده حر فمضى اليوم، ومات المولى ولا يدري أدخل أو لم يدخل لم يعتق العبد للشك فيما هو شرط.
وفی الأشباہ والنظائر(ص: ۱۰۸)
ومنھا شک ھل طلق أم لا لم یقع قال الحموي قال المصنف في فتواہ ولا اعتبار بالشک إلا أن یکون أکبر ظنہ علی خلافہ․
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 148)
الشك والاحتمال لا يوجب الحكم بالنقض، إذ اليقين لا يزول بالشك.
الفتاوى الهندية (1/ 443)
رجل قال لمديونه: امرأتك طالق إن لم تقض ديني فقال المديون ناعم فقال له الرجل: قل نعم فقال: نعم وأراد جوابه فاليمين لازمة وإن دخل بينهما انقطاع كذا في خزانة المفتين.
فتاوى قاضيخان (2/ 11)
رجل قال امرأة زيد طالق وعليه المشي إلى بيت الله إن دخل هذه الدار فقال زيد نعم فقد حلف بجميع ذلك لأنه تصديق.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
20/4/1445
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


