| 81717 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہمارا گھر جس کی قیمت 55 لاکھ ہے،اس کی وراثت کی تقسیم کروانی ہے،میرے والد کا انتقال ہوچکا ہے،ان کے ورثا میں ایک بیوہ،دو بیٹیاں( شادی شدہ) اور دو بیٹے ہیں،گھر مرحوم والد کے نام ہےجسے ہم اب فروخت کریں گے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مکان کی مذکورہ قیمت 55 لاکھ میں سے 687500 روپے مرحوم کی بیوہ کو ملیں گے،جبکہ1604166.625 روپے مرحوم کے ہر بیٹے کو اور 802083.312روپے مرحوم کی ہر بیٹی کو ملیں گے۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (6/ 769):
"فقال :(فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) وأما مع ولد البنت فيفرض لها الربع (وإن سفل والربع لها عند عدمهما) فللزوجات حالتان الربع بلا ولد والثمن مع الولد".
"الدر المختار " (6/ 775):
"ثم شرع في العصبة بغيره فقال: (ويصير عصبة بغيره البنات بالابن وبنات الابن بابن الابن) وإن سفلوا".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
20/ربیع الثانی 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


