03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کی طرف سےخلاف طبیعت بات پر شوہر کا طرزِ عمل کیسا ہو؟
81734جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میری اہلیہ جس کے بارے میں میراخیال ہے کہ فضول خرچی کرتی ہے،میری آمدن بہت کم ہے،جس کی وجہ سے فضول خرچی کی بالکل گنجائش نہیں ہے،آج ہمارے گھر میں ایک واقعہ پیش آیا،اس کے حوالے سے راہنمائی کی درخواست ہے کہ میرا طرزِ عمل صحیح ہے یا غلط؟

ہر روز ناشتے میں اہلیہ انڈا فرائی کرتی ہے،آج بھی وہی کرنے لگی،میں کچن گیا تو رات کا بچا ہوا سالن بھی موجود تھا،میں نے اہلیہ سے کہا کہ سالن موجود ہے،آج انڈا رہنے دو،یا پھر آپ معمول کے مطابق انڈا کھالیں اور میں سالن کھالوں گا،لیکن اہلیہ نہ مانی اور بولی کہ انڈا روز بنتا ہے،آج سالن بھی کھالیں گے،میں نے اس بات پر غصہ کیا اور اہلیہ کو سالن کھانے نہیں دیا اور خود انڈا بھی نہیں کھایا،کیا میرا یہ عمل صحیح تھا یا غلط؟

یہ بھی عرض کردوں کہ میں نے اہلیہ کو کہا ہوا ہے کہ ایک وقت میں ایک سالن بنے گا،میرے خیال کے مطابق اہلیہ نے اس کی خلاف ورزی کی تھی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ میاں بیوی کا رشتہ بہت گہرا اور قریبی ہے،شریعت نے میاں بیوی دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے  اور ایک دوسرے سے حسنِ سلوک کی تاکید کی ہے،جہاں ایک جانب  شریعت نے شوہر کو بیوی پر کچھ فوقیت دی ہے، وہیں دوسری جانب گھر والوں سے حسنِ سلوک کی ترغیب اور تاکید بھی کی ہے،چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:

{وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ } [البقرة: 228]

ترجمہ:اور ان عورتوں کو معروف طریقے کے مطابق ویسے ہی حقوق حاصل ہیں جیسے(مردوں کو)ان پر حاصل ہیں،ہاں مردوں کو ان پر ایک درجہ فوقیت ہے۔

اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اگر اسلام میں کسی کو سجدہ کرنے کی اجازت ہوتی تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے"۔

اسی طرح  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ مبارک مفہوم ہے کہ تم میں سے پسندیدہ شخص وہ ہے جس کا رویہ اپنے گھر والوں سے بہتر ہو اور خود اپنے بارے میں فرمایا میرا رویہ اپنے گھر والوں سے اچھا ہے۔

اسی طرح ایک اور حدیث کا مفہوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :عورتوں کے بارے میں میری حسن سلوک کی وصیت قبول کرو،کیونکہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہوئی ہے،اگر تم اسے مکمل سیدھا کرنے کی کوشش کروگے تو اسے توڑ ڈالوں گے۔

مشہور محدث علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ فطری طور پر عورت مرد کے مقابلےمیں عقل اور اخلاق کے لحاظ سے کمزور ہے،اس لئے مرد کو اس کی جانب سے پیش آنےوالی ناگوار باتوں پر صبر کرنا چاہیے اور حسن اخلاق کا مظاہر کرنا چاہیے۔

لہذا آپ دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے،آپ کی بیوی کو حتی الامکان آپ کی طبیعت اور مزاج کی رعایت کی کوشش کرنی چاہیے،لیکن اگر کبھی آپ کی طبیعت کے خلاف کوئی بات پیش آجائے تو آپ کو بھی بات بڑھانے کی بجائے عفو ودرگزر اور تحمل سے کام لینا چاہیے۔

حوالہ جات

"سنن الترمذي " (2/ 456):

عن أبي هريرة، عن النبي صلى ﷲ عليه وسلم قال: لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها".

قال ملا علی القاری رحمہ اللہ فی شرحہ المرقاة:" (وعن أبي هريرة قال: قال رسول ﷲ - صلى ﷲ عليه وسلم - لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد) : والسجود كمال الانقياد (لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها) : أي: لكثرة حقوقه عليها وعجزها عن القيام بشكرها وفي هذا غاية المبالغة لوجوب إطاعة المرأة في حق زوجها فإن السجدة لا تحل لغيرﷲ".

صحيح البخاري (4/ 133)

عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «استوصوا بالنساء، فإن المرأة خلقت من ضلع، وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه، فإن ذهبت تقيمه كسرته، وإن تركته لم يزل أعوج، فاستوصوا بالنساء»

قال ملا علی القاری رحمہ اللہ فی شرحہ المرقاة:" قال القاضي: الاستيصاء قبول الوصية، والمعنى أوصيكم بهن خيرا فاقبلوا وصيتي فيهن، اهـ. والمقصود المدارة معهن، وقطع الطمع عن استقامتهن، والثبات مع اعوجاجهن، كما قيل الصبر عنهن أيسر من الصبر عليهن والصبر عليهن أهون من الصبر على النار، قال تعالى جل جلاله، {وأن تصبروا خير لكم} [النساء: 25] أي عليهن أو عنهن (فإنهن خلقن من ضلع) : بكسر الضاد وفتح اللام واحد الأضلاع وهو عظم معوج استعير للمعوج صورة أو معنى، أي خلقن خلقا فيه اعوجاج فكأنهن خلقن من أصل معوج، وقيل: ذلك لأن أمهن أول النساء وهي حواء خلقت من أعوج ضلع من أضلاع آدم - عليه الصلاة والسلام - وهو الضلع الأعلى، فلا يستطيع أحد أن يغيرهن مما جبلت عليه أمهن، فلا يتهيأ الانتفاع بهن إلا بمداراتهن والصبر على اعوجاجهن فيما لا إثم في معاشرتهن. (وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه) : إشارة إلى أن أمهن خلقت منه. (فإن ذهبت) : أي: شرعت وأردت (تقيمه) : أي: إقامته واستقامته (كسرته وإن تركته) : أي: من غير كسر (لم يزل أعوج فاستوصوا بالنساء) : كرر للمبالغة، وإشارة إلى النتيجة والفذلكة، قال النووي: فيه الحث على الرفق بالنساء والإحسان إليهن والصبر على عوج أخلاقهن واحتمال ضعف عقولهن وكراهة طلاقهن بلا سبب، وأنه لا مطمع في استقامتهن (متفق عليه) .

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

22/ربیع الثانی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب