03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مقدس اوراق جلانے کا حکم/muqaddas awraq jalane ka hukam
81835جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک سرکاری ادارے میں مختلف مواقع پر تلاوت وغیرہ کے لیےآیاتِ قرآنی کا کاغذ پر پرنٹ لیا جاتا ہے جنہیں ایک محفوظ جگہ رکھا جاتا ہے۔ بعض اوقات حساس معلومات کے ساتھ وہ قرآنی آیا ت پر مشتمل ہوتی ہیں، ان حساس معلومات کوفوری طور پرتلف کرنا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ ان معلومات کا کسی غیر متعلقہ فرد کے ہاتھ لگ جاناملکی و قومی سالمیت کے لیےخطرے کا سبب بنتا ہے۔چونکہ ان اوراق کو کسی جگہ دفن کرنے یا سمندر وغیرہ میں ڈالنے سے حساس معلومات کسی غیر متعلقہ فرد کے ہاتھ لگ جانے کا اندیشہ ہے تو کیا وہ اوراق جن میں فقط قرآنی آیات ہوں ان کو شریڈ (پرزہ پرزہ) کرنے کے بعد جلانے کی اجازت ہے؟بصورتِ دیگر کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے؟ اسی طرح وہ اوراق جن میں قرآنی آیات کے ساتھ حساس معلومات درج ہوں کیا ان کو شریڈ (پرزہ پرزہ) کرنے کے بعد جلانے کی اجازت ہے؟ بصورتِ دیگر کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے؟ نیز جن اوراق میں احادیث یا مقدس نام وغیرہ ہوں ان کو تلف کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

وہ اوراق جن پر قرآنی آیات کے ساتھ حساس معلومات درج ہوں اور ان کو زمین میں دفنانے یا سمندر اور کنویں میں ڈالنے سے حساس معلومات کسی غیر متعلقہ فرد کے ہاتھ لگ جانے کا اندیشہ ہو -جس سے قومی وملکی سلامتی خطرے میں پڑجاتی ہو تو اس صورت میں اولا یہ کوشش کی جائےکہ قرآنی آیات کو کسی پاک کیمیکل کےذریعے مٹاکر محلول کو کسی مناسب جگہ بہادیا جائے ۔اس سے قرآنی آیات کی بے حرمتی بھی نہ ہوگی اور قومی راز افشاٰ ہونے کا اندیشہ بھی نہ ہوگا۔اگر یہ ممکن ہو کہ قرآنی آیات والا حصہ الگ کرلیا جائے اور دوسری تحریر کو جلا دیاجائے تو ایسا کرنا بھی درست ہے ۔مقدس ناموں پر مشتمل اوراق کا بھی یہی حکم ہے ۔ ایسے اوراق جن پر قرآنی آیات ، احادیث اور دیگر مسائل شرعیہ درج ہو ان کو تلف کرنے کی بہتر صورت یہ ہے کہ انہیں کسی کپڑے میں لپیٹ کرغیر آباد زمین میں دفنایا جائےیا پھران اوراق کو کسی پاک وزنی چیز کے ساتھ باندھ کر سمندریا کسی غیر آباد کنویں یا ندی میں ڈال دیں ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پاک پانی یا کیمیکل کے ذریعے اس تحریر کےحروف ونقوش کو مٹاکر پانی کوکسی مناسب جگہ بہایا جائے ،البتہ ان کو جلانا درست نہیں ۔

حوالہ جات

(قوله: يدفن)أي يجعل في خرقة طاهرة ويدفن في محل غير ممتهن لا يوطأ. وفي الذخيرة: وينبغي أن يلحد له ولا يشق له؛ لأنه يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف بحيث لا يصل التراب إليه فهو حسن أيضا.وأما غيره من الكتب فسيأتي في الحظر والإباحة أنه يمحى عنها اسم الله تعالى وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن. (رد المحتار ط الحلبي:1/ 177) المصحف إذا صار خلقا لا يقرأ منه ويخاف أن يضيع يجعل في خرقة طاهرة ويدفن، ودفنه أولى من وضعه موضعا يخاف أن يقع عليه النجاسة أو نحو ذلك ويلحد له؛ لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف بحيث لا يصل التراب إليه فهو حسن أيضا، كذا في الغرائب.المصحف إذا صار خلقا وتعذرت القراءة منه لا يحرق بالنار، أشار الشيباني إلى هذا في السير الكبير وبه نأخذ، كذا في الذخيرة. (الفتاوى الهندية:5/ 323) الكتب التي لا ينتفع بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن كما في الأنبياء. (رد المحتار ط الحلبي:6/ 422) ولا ترمى براية القلم المستعمل لاحترامه كحشيش المسجد وكناسته لا يلقى في موضع يخل بالتعظيم. ولا يجوز لف شيء في كاغد فيه فقه، وفي كتب الطب يجوز، ولو فيه اسم الله أو الرسول فيجوز محوه ليلف فيه شيء، ومحو بعض الكتابة بالريق يجوز، وقد ورد النهي في محو اسم الله بالبزاق، وعنه عليه الصلاة والسلام :القرآن أحب إلى الله تعالى من السماوات والأرض ومن فيهن (رد المحتار ط الحلبي :1/ 178)

رفیع اللہ

دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی

30ربیع الثانی 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رفیع اللہ غزنوی بن عبدالبصیر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب