| 81940 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ میری بیوی بہت عرصہ سے اپنے میکے میں رہائش پذیر تھی اور اب بغیر کسی عذر (بیوی کی اپنی من مانی کے حساب سے چلنے کے لیے) کے خلع کا مطالبہ کر رہی ہے ، اگر خلع کے بدلے طلاق بائن دے دی جائے تو عورت عدت شوہر کے ذاتی مملوکہ گھر میں گزارے گی یا شوہر کے کرایہ پر لیے ہوئے گھر میں بھی عدت گزارسکتی ہے؟ جب کہ طلاق کے وقت عورت میکے میں رہائش پذیر ہے۔
بالفرض بیوی شوہر کے گھر پر رہنے کو راضی نہ ہو تو نان نفقہ کس کے ذمہ ہوگا ؟ کیا بغیرکسی شرعی عذر کے میکے میں رہ کر خلع کا مطالبہ کرنا اور نان نفقہ شوہرکے ذمہ لگانا درست ہے ؟ براہِ کرم تفصیلی جواب واضح کردیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
طلاق کے بعد عورت عدت خاوند کے اسی گھرمیں ہی گزارے گی جس میں شوہر کے ساتھ رہتی رہی ہے چاہے وہ گھر خاوند کی ملکیت ہو یاوہ کسی کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہو،اگرطلاق دیتے وقت عو ر ت میکے میں ہو تو عدت گزارنے کے لیے خاوند کے گھر آئے گی اور یہیں عدت گزارے گی ۔
یاد ر ہےکہ خلع طلاق بائن ہی ہے فرق صرف یہ ہے کہ خلع میں خاوند طلاق کے عوض مال کا مطالبہ کرتا ہے اور خلع کے الفاظ استعمال کرتا ہے ، جبکہ طلاق بائن میں مال کا مطالبہ نہیں ہوتا اور خلع کے الفاظ استعمال نہیں ہوتے ۔
بیوی کا بغیر کسی شرعی عذراور شدید مجبوری کے میکے میں رہ کر طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنا جائز نہیں، حدیث شر یف کے مطابق ایسی عورت پر جنت کی خوشبو حرام ہے جو بلا وجہ طلاق کامطالبہ کرے۔ البتہ اگر شوہر بیوی کے حقوق کی ادئیگی میں کو تاہی برتتا ہو اور شوہر بیوی کے ساتھ ظلم کرتا ہو تو اس صورت میں بیوی طلاق یا خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے ۔
اسی طرح اگر بیو ی نکا ح برقرار رہتے ہوئے بھی بنا کسی عذر کے شوہر کی اجازت کے بغیر میکے میں بیٹھی ہو اور وہاں سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کرتی ہو توشوہر کی نافرمانی کی وجہ سے اس کانان و نفقہ شوہر کے ذمہ نہیں ہو گا، البتہ اگر کسی عذر کے بناء پر یا شوہر کے ظلم وستم کی وجہ سے وہ میکے میں بیٹھی ہوتو اس کا نان ونفقہ شوہر کے ذمہ ہو گا۔ نیز اگر بیوی دوران عدت بغیر کسی شرعی عذر کے خاوند کےگھر عدت نہیں گزارتی تو اس کا نان ونفقہ شوہر کے ذمہ نہیں ہوگا اور اگر کسی شرعی عذر اور مجبوری کی بناء پر دوران عدت خاوند کے گھر نہیں ٹھہرتی تو اس کا نان ونفقہ شوہر کے ذمہ ہوگا ۔
حوالہ جات
حدَّثنا سليمانُ بنُ حرب، حدَّثنا حماد، عن أيوبَ، عن أبي قِلابةَ، عن أبي أسماءَعن ثوبانَ قال: قالَ رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: "أيما امرأةٍ سألتْ زوجَها طلاقاً في غيرِ ما بأسٍ، فحرامٌ عليها رائحةُ الجنة"
(سنن أبي داود: 3/ 543 )
ومنزلها الذي تؤمر بالسكون فيه للاعتداد هو الموضع الذي كانت تسكنه قبل مفارقة زوجها وقبل موته سواء كان الزوج ساكنا فيه أو لم يكن؛ لأن الله تعالى أضاف البيت إليها بقوله عز وجل :{لا تخرجوهن من بيوتهن} [الطلاق: 1] والبيت المضاف إليها هو الذي تسكنه، ولهذا قال أصحابنا :إنها إذا زارت أهلها فطلقها زوجها كان عليها أن تعود إلى منزلها الذي كانت تسكن فيه فتعتد ثمة؛ لأن ذلك هو الموضع الذي يضاف إليها وإن كانت هي في غيره، وهذا في حالة الاختيار.وأما في حالة الضرورة فإن اضطرت إلى الخروج من بيتها بأن خافت سقوط منزلها أو خافت على متاعها أو كان المنزل بأجرة ولا تجد ما تؤديه في أجرته في عدة الوفاة فلا بأس عند ذلك أن تنتقل، وإن كانت تقدر على الأجرة لا تنتقل. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:3/ 205)
وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم :الأصل فيه الحظر،والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح، فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر، ولهذا قال تعالى :{فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] أي لا تطلبوا الفراق.
) رد المحتار ط الحلبي:3/ 228)
(و) تجب (لمطلقة الرجعي والبائن، والفرقة بلا معصية كخيار عتق، وبلوغ وتفريق بعدم كفاءة النفقة والسكنى والكسوة)....الخ ففي البحر: لو تزوجت معتدة البائن وفرق بعد الدخول فلا نفقة على الثاني لفساد نكاحه ولا على الأول إن خرجت من بيته لنشوزها. وفي المجتبى: نفقة العدة كنفقة النكاح. وفي الذخيرة: وتسقط بالنشوز وتعود بالعود.(رد المحتار ط الحلبي:3/ 609)
فإن كان الزوج قد طالبها بالنقلة، فإن لم تمتنع عن الانتقال إلى بيت الزوج فلها النفقة، فأما إذا امتنعت عن الانتقال، فإن كان الامتناع بحق بأن امتنعت لتستوفي مهرها فلها النفقة، وأما إذا كان الامتناع بغير الحق بأن كان أوفاها المهر أو كان المهر مؤجلا أو وهبته منه فلا نفقة لها كذا في المحيط. وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه. (الفتاوى الهندية:1/ 545)
ولا يجوز للمرأة أن تطلب الطلاق من زوجها إلا إذا كان لسبب من الأسباب المعتبرة، ككونها تبغضه أو أنه يعاملها معاملة سيئة فهذا من الأسباب التي تجعل المرأة تطلب الطلاق، أما مع الوئام والاتفاق وليس هناك شيء يقتضيه ففيه هذا الوعيد الشديد الذي جاء في هذا الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم .
(شرح سنن أبي داود للعباد:255/3)
رفیع اللہ
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
4جمادی الاولی 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رفیع اللہ غزنوی بن عبدالبصیر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


