03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
برطانیہ کے مسلم رفاہی اداروں کا غاصب اسرائیل کی اجازت سے غزہ جانا
81858جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

جیسا کہ آپ جانتے ہیں غزہ کی صورتِ حال نازک ہے، ڈاکٹرز، نرسیں، رپورٹرز اور لوگ مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔ اس وقت اسرائیل کی اجازت سے 21 اکتوبر سے رفح بارڈر کے ذریعے مصر سے غزہ تک تقریباً 1200 امدادی ٹرک جا چکے ہیں، یہ غزہ کی ضروریات کا صرف ایک حصہ پورا کر سکتا ہے۔ ایندھن کی کمی کی وجہ سے امداد کی تقسیم بڑی حد تک رک گئی تھی۔ اسرائیل کے حکم سے مصر نے ایران سے آنے والی امداد کو مصر کے عریش ہوائی اڈے پر روک دیا ہے۔ اردن نے اسرائیل سے اجازت لے کر غزہ میں اردنی ہسپتال کو طبی امداد فراہم کی۔ اس وقت مصر میں رفح بارڈر پر لگ بھگ ہزاروں امدادی ٹرک منتظر ہیں، سرحد اسرائیلی حکم پر بند ہوتی اور کھلتی ہے۔ لہٰذا اگر مصر سمیت تمام ممالک کو غزہ میں فوڈ ایڈ، طبی امداد، ایندھن اور ایمبولینسز بھیجنے کے لیے اسرائیل سے اجازت لینا پڑتی ہے تو  کیا مصر کے بارڈر سے گزرنے کے بجائے برطانیہ کے مسلم خیراتی اداروں کے لیے لندن میں اسرائیلی سفارت خانہ سے اجازت لینا جائز ہو گا   کہ  وہ ہمیں ایمبولینس امدادی قافلے کو اسرائیل کے راستے غزہ کے ہسپتالوں اور لوگوں تک لے جانے کی اجازت دیں؟ ہمارا مقصد مسلمانوں کی جان بچانا ہے۔ ہم نے غزہ کے بزرگوں سے یہ بھی پوچھا ہے کہ کیا ہمارے لیے اسرائیل سے اجازت طلب کرنا اور ایمبولینسز اور امداد اسرائیل کے ذریعے غزہ تک پہنچانا ٹھیک ہے؟ ہم ان کے جواب کے منتظر ہیں۔

 ہم اس طرح کی کوشش کریں گے اگر: (1)  ہمارے پاس فتویٰ ہو کہ ہمارے لیے برطانیہ سے غزہ ایمبولینس امدادی قافلے اسرائیل کے راستے لے جانا جائز ہے۔ (2) اسرائیل ہمیں اجازت دے۔ (3) غزہ کے ڈاکٹر اور بزرگ ہمیں اجازت دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے پیشِ نظر اگر مصر یا کسی دوسرے مسلم ملک کے راستے سے غزہ (حرسها الله) تک امداد پہنچانے میں مشکلات ہوں اور برطانیہ کے مسلمانوں کے لیے مقبوضہ فلسطین (حرَّرها الله) کے راستے سے امداد پہنچانے میں آسانی ہو تو اس مقصد کے لیے فلسطین پر ناجائز قبضہ رکھنے والے اسرائیل سے مجبوراً اجازت لینا شرعا جائز ہے، بشرطیکہ اس سے وہاں کے مسلمانوں کے اجتماعی مصالح کو کوئی نقصان اور ضرر پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو، اس لیے غزہ کے صاحبِ رائے حضرات (حکومتی ذمہ داران اور ڈاکٹرز وغیرہ) کی رائے معلوم کرنا ضروری ہے؛ آپ حضرات ان کی رائے معلوم ہونے کے بعد ہی کوئی اقدام کریں تو بہتر ہے۔  

حوالہ جات

سنن أبى داود (3/ 321):

 حدثنا أبو بكر بن أبى شيبة حدثنا جرير عن عبد العزيز بن رفيع عن أناس من آل عبد الله بن صفوان أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:  يا صفوان هل عندك من سلاح ؟ قال عارية أم غصبا؟ قال: لا، بل عارية، فأعاره ما بين الثلاثين إلى الأربعين درعا، وغزا رسول الله صلى الله عليه وسلم حنينا، فلما هزم المشركون جمعت دروع صفوان، ففقد منها أدراعا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لصفوان: إنا قد فقدنا من أدراعك أدراعا، فهل نغرم لك؟ قال: لا يا رسول الله؛ لأن فى قلبى اليوم ما لم يكن يومئذ.

قال أبو داود: وكان أعاره قبل أن يسلم، ثم أسلم.

الأشباه والنظائر (ص: 113-111):

إذا تعارض مفسدتان روعي أعظمهما ضررا بارتكاب أخفهما……… درأ المفاسد أولى من جلب المصالح …..  فإذا تعارضت مفسدة ومصلحة قدم دفع المفسدة غالبا.

المجلة (ص: 19):

مادة 29: يختار أهون الشرين.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       4/جمادی الاولیٰ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب