03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سحری کے وقت سفر کا ارادہ ہو اورپھر نصف النہار سے پہلے ارادہ ختم کرے توکیااس دن روزہ کھاجاسکتاہے؟
81879روزے کا بیانروزے کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ

ایک شخص نےسحری کے وقت نصف النہار شرعی تک سفر کا ارادہ کیا اورپھرنصف النہار شرعی سے پہلے سفر کا ارادہ ختم کردیاتو کیا وہ اب روزہ کی نیت کرسکتا ہےیانہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جی بالکل رمضان کے ورزے،نذرمعین کے روزے اورنفل روزے کی نیت کرسکتاہے، بشرطیکہ فجرسےاس نے کچھ کھایاپیانہ ہو ،لہذا  اگرشخص مذکورشرعی نصف النہارسے پہلے پہلےنفل ر وزے یا نذرمعین کے روزےیا رمضان کے روزے کی نیت کرلی تو اس کا روزہ ہوجائے گا۔

البتہ رمضان کی قضاء ،نذرِمطلق اورکفارے کے روزوں  کی نیت دن کو نہیں ہوسکتی ، اگرچہ نصف النہار سے پہلے کرلی جائے، اس لیے کہ ان دونوں  قسموں میں رات سے یعنی طلوع فجرسے پہلے پہلےنیت ضروری ہوتی ہے ۔

حوالہ جات

فتح القدير للكمال ابن الهمام (2/ 363)

إذا قدم قبل الزوال والأكل فيجب عليه الصوم لما في الكتاب، وكذا لو كان نوى الفطر ولم يفطر حتى قدم في وقت النية وجب عليه نية الصوم.

العناية شرح الهداية (2/ 310)

(والضرب الثاني ما يثبت في الذمة كقضاء رمضان والنذر المطلق وصوم الكفارةفلا يجوز إلا بنية من الليل) لأنه غير متعين فلا بد من التعيين من الابتداء.

المبسوط للسرخسي (3/ 135)

فإذا نوى بالنهار في النذر المطلق لم يجزه عن المنذور.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

4/5/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب