| 81861 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میں میزان بینک میں رقم ڈپازٹ کرواناچاہتاہوں،بینک کے مطابق ہرماہ جوپرافٹ بنتاہے اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے یعنی کبھی 10پر منتھ کبھی 12پرمنتھ،کبھی 15پرمنتھ اورکبھی 18پرمنتھ کے حساب سے ڈپازٹ رقم پر پرافٹ دیتے ہیں ،پرافٹ فکس نہیں کرتے ،بینک والوں نے فتوی کی کاپی بھی دی ہے جو ساتھ بھیج رہاہوں۔
ا۔کیا ڈپازٹ رقم پر ہرماہ پرافٹ لینا جائزہے؟
۲۔ یہ منافع سودنہیں بنتا؟
۳۔ کیا یہ منافع ہمارے لیے دنیا وآخرت میں وبال تو نہیں بنے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
١)۔ہماری معلومات کے مطابق میزان بینک فی الحال مستند علماء کرام کی نگرانی اور زیرِ مشاورت کام کر رہا ہے،اس لئے موجودہ حالات میں اس میں اکاؤنٹ کھولنا اوراس میں رقم رکھ کر نفع لینا درست ہے۔
(۲)۔نہیں،یہ منافع بحالاتِ موجودہ سود نہیں ہے۔
(۳)۔نہیں،وبال نہیں بنےگا،ان شاء اللہ تعالی۔
حوالہ جات
قال الله تعالیٰ:
{أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا} [البقرة: 275]
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 1926)
كل قرض جر نفعا فهو ربا.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
4/5/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


