| 81996 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
کیا بندہ اپنا نکاح خود پڑھا سکتا ہے؟
اگر ایک بندہ اپنا نکاح خود پڑھانا چاہتا ہےتو وہ کس طریقے سے پڑھائے گا؟اپنا نکاح خود پڑھانے کا طریقہ کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اپنا نکاح خود پڑھایا جاسکتا ہے،جس کی صورت یہ ہوگی کہ خطبہ مسنونہ پڑھنے کے بعد آپ دلہن کے وکیل سے کہیں گے کہ میں نے اتنے مہر کے عوض آپ کی مؤکلہ فلاں بنت فلاں سے اپنا نکاح کیا،جواب میں اس کے قبول کرنے سے نکاح منعقد ہوجائے گا۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (3/ 9):
(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) لأن الماضي أدل على التحقيق (كزوجت) نفسي أو بنتي أو موكلتي منك (و) يقول الآخر (تزوجت، و) ينعقد أيضا (بما) أي بلفظين (وضع أحدهما له) للمضي (والآخر للاستقبال) أو للحال".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
13/جمادی الاولی1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


