03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اپنا نکاح خود پڑھانے کا حکم اور طریقہ
81996نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کیا بندہ اپنا نکاح خود پڑھا سکتا ہے؟

اگر ایک بندہ اپنا نکاح خود پڑھانا چاہتا ہےتو وہ کس طریقے سے پڑھائے گا؟اپنا نکاح خود پڑھانے کا طریقہ کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اپنا نکاح خود پڑھایا جاسکتا ہے،جس کی صورت یہ ہوگی کہ خطبہ مسنونہ پڑھنے کے بعد آپ دلہن کے وکیل سے کہیں گے کہ میں نے اتنے مہر کے عوض آپ کی مؤکلہ فلاں بنت فلاں سے اپنا نکاح کیا،جواب میں اس کے قبول کرنے سے نکاح منعقد ہوجائے گا۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (3/ 9):

(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) لأن الماضي أدل على التحقيق (كزوجت) نفسي أو بنتي أو موكلتي منك (و) يقول الآخر (تزوجت، و) ينعقد أيضا (بما) أي بلفظين (وضع أحدهما له) للمضي (والآخر للاستقبال) أو للحال".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

13/جمادی الاولی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب