| 82034 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ رائج طریقہ یہ ہے کہ زید جانورکےکربکر کو دیتاہے وربکراسے پالتاہے(کھلانا پلانا اس میں شامل ہوتاہے کھلانے میں صرف گھاس)جبکہ جانورکو ونڈہ کھل وغیرہ جو کھلائی جاتی ہے اس کا خرچہ زید خود کرتاہے اورطے یہ ہوتاہے کہ جانورکےبکنے پرقیمت خریدنکال کر جو نفع ہوگا وہ آدھا آدھا تقسیم ہوگا یہ طریقہ درست ہے؟ اگرنہیں تو درست طریقہ کی طرف رہنمائی کردیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اجارہ کے معاملے میں شرعاً یہ لازم ہے کہ اجرت متعین ہو، اگر کسی معاملہ میں اجرت متعین نہ ہو تو ایسا معاملہ
فاسد ہوتا ہے، مذکورہ صورت میں جانورکےبکنے پرقیمت خریدنکال کر آدھانفع کتناہوگا؟یہ معلوم نہیں لہذایہ عقد اجرت مجہول ہونے کی وجہ سےفاسدہےاورشرعاً جائزنہیں ہے۔
اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جانورلینے والا جانورکی آدھی قیمت کے بدلےاس میں شریک ہوجائے پھرجانورلیکر اسے پالے ،جانوراوراس سے حاصل ہونے والے نفع میں دونوں فریق برابرکے شریک ہوں گے،جانورپالنے والامزدوری کا مستحق ہوگا،جووہ اس رقم کے بدلے چھوڑدے جو اس نے بطور قیمت اپنے شریک کو ادا کرنی ہےیا یہ اپنی مزدوری دوسرے شریک کو بخش دے اوروہ اسے جانور کی قیمت بخش دے تاہم یہ بخشش وغیرہ کا معاملہ پہلے معاملہ سے بالکل الگ کریں،ایک ساتھ نہ کریں۔
حوالہ جات
’’عن أبي سعید الخدري -رضي اﷲ عنه - أن رسول اﷲ ﷺ نهى عن استئجار الأجیر حتی یبین له أجره‘‘.(مراسیل أبي داؤد)
’’ومن شرائط الإجارة ...... ومنها: أن تکون الأجرة معلومةً‘‘. (الفتاوى الهندية، کتاب الإجارة)
المحيط البرهاني في الفقه النعماني - (ج 10 / ص 463)
متبرع في ذلك حيث شرط لنفسه نصف الحادث، وعلى هذا إذا دفع الدجاجة إلى رجل بالعلف ليكون البيض بينهما نصفان.والحيلة أن يبيع نصف البقرة من ذلك الرجل، ونصف الدجاجة ونصف بذر
العلق بثمن معلوم حتى تصير البقرة وأجناسها مشتركة بينهما، فيكون الحادث منهما على الشركة.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
19/5/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


