03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کی اجازت کے بغیر میکے جانے کا حکم
82078نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میری بیوی تقریبا چار ماہ سے ناراض ہوکر اپنے والدین کے گھر بیٹھی ہے اور منانے کے باوجود گھر آنے پر تیار نہیں اور اس پر بہ ضد ہے کہ منسلکہ شرائط پر لیگل پیپر پر اوتھ کمشنر کی موجودگی میں دو گواہان کے سامنے دستخط کرو۔

اس سے پہلے بھی مجھے ایک قانونی نوٹس بھیج چکی ہے،جس کا جواب میں نے اپنے وکیل کے ذریعے بھیج دیا تھا اور اپنے پر لگائے گئے تمام الزامات کا انکار کیا تھا۔

اپنے بچے کے مستقبل کی خاطر میں بہرصورت مصالحت کے لئے تیار ہوں سوائے شرط نمبر 5 کے،واضح رہے کہ میں نے ان پر کبھی جسمانی یا ذہنی تشدد نہیں کیا اور نہ کرنے کا ارادہ ہے۔

اپنے بچے کے بہتر مستقبل کے لئے درج ذیل شرائط پوری کرچکا ہوں:

1۔بینک اکاؤنٹ میں ماہانہ جیب خرچ جمع کرادوں گا۔

2۔ہر مہینے جو کپڑے بنواؤں گا ان کی رسیدیں ان کے والدین کو فراہم کروں گا۔

3۔بچے کا خرچہ پہلے بھی اٹھایا تھا اور مستقبل میں بھی اٹھاؤں گا،نیز ہر شرعی ذمہ داری پوری کروں گا۔

4۔گرمی میں ان کا مطالبہ چوبیس گھنٹے اے سی چلانے کا ہے جو کہ بجلی کے مہنگی ہونے کی وجہ سے میرے لئے ممکن نہیں،البتہ چار گھنٹے چلانے پر آمادہ ہوں۔

اب اس تمہید کی روشنی میں آپ سے درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

1۔شریعت کی رو سے بیوی شوہر کی مرضی کے بغیر کتنا عرصہ اپنے والدین کے گھر رہ سکتی ہے؟ میری بیوی چار ماہ سے اپنے والدین کے گھر مقیم ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کے لئے گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے،اگرچہ تھوڑے وقت کے لئے ہی کیوں نہ ہو،البتہ شوہر کو چاہیے کہ ہفتے میں ایک بار بیوی کو والدین سے ملاقات کی اجازت دے،یعنی اس کے والدین شوہر کے گھر آکر ملنا چاہے تو یہ رکاوٹ نہ بنے،بقیہ اگر وہ نہیں آسکتے تو پھر بیوی کو ہر ہفتے لے جانا،یا جانے کی اجازت دینا ضروری نہیں،بلکہ عرف اور دستور کے مطابق کچھ  عرصے بعد اجازت دے،لیکن رات گزارنے کی اجازت ضروری نہیں،صرف ملاقات کی اجازت دینا کافی ہے،خواہ خود لے جائے،یا جانے کی اجازت دے۔

لہذا مذکورہ صورت میں آپ کی بیوی پر فوری طور پر واپسی لازم ہے،کیونکہ آپ کی اجازت کے بٕغیر والدین کے گھر میں رہ کر وہ گناہ گار ہورہی ہے اورجتنے عرصے تک وہ آپ کی اجازت کے بغیر میکے میں رہی  اس عرصے کا نان نفقہ بھی آپ کے ذمے لازم نہیں ہے۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (3/ 145):

"لها (زيارة أهلها بلا إذنه ما لم تقبضه) أي المعجل، فلا تخرج إلا لحق لها أو عليهاأو لزيارة أبويها كل جمعة مرة".

قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ:" (قوله :فلا تخرج إلخ) جواب شرط مقدر: أي فإن قبضته فلا تخرج.

(قوله: أو لزيارة أبويها) سيأتي في باب النفقات عن الاختيار تقييده بما إذا لم يقدرا على إتيانها، وفي الفتح أنه الحق. قال: وإن لم يكونا كذلك ينبغي أن يأذن لها في زيارتهما في الحين بعد الحين على قدر متعارف، أما في كل جمعة فهو بعيد، فإن في كثرة الخروج فتح باب الفتنة خصوصا إن كانت شابة والرجل من ذوي الهيآت".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

22/جمادی الاولی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب