03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
یک طرفہ عدالتی خلع کے بعد دوسری جگہ نکاح کا حکم
82106طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

میری بیوی نے میری غیرموجودگی میں کورٹ سے یک طرفہ خلع لیکر اپنی پسند کے لڑکے سے شادی کرلی،فسخ نکاح کا فتویٰ بھی لیاجس میں سب الزامات غلط ہیں، کورٹ سے خلع کے بعد ان کو احساس ہوا تو۔پہلے شوہر یعنی مجھ سے کہہ رہی ہے کہ آپ مجھے طلاق دیدیں اور وہ عدت کرکے دوبارہ اس لڑکے سے شادی کر لیں گی جس سے انہوں نے ابھی شادی کی ہے ۔ رہنمائی فرمائیں کہ وہ ایسا کر سکتی ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر عدالتی خلع شوہر کی رضامندی کے بغیر ہو اور فسخ نکاح کے فیصلے   کی بنیاد بھی کوئی واقعی معقول اور شرعامعتبر وجہ نہ ہو تو سابقہ نکاح برقرا ہونے کی وجہ سے وہ آپ کی نکاح میں ہے،اور اس کادوسرےمردسےنکاح فاسدہے،جس کے احکام یہ ہیں کہ:

(۱)ایسی صورت میں ان دونوں کے درمیان ازدواجی تعلقات  قائم کرنا ناجائز اورحرام ہیں۔

(۲) ایسی صورت میں ایک طرف تو اس دوسرےشوہر پراس عورت سےمتارکت یعنی فوری جدائی لازم ہےاورزبان سے بھی اس کو اپنے نکاح سےنکالنے کااظہار کرنا لازم ہے۔

(۳) اگر نکاح کےبعداس سے جماع کیا ہو تو مہرمثل اورمہرمقرر میں سے کم اس کے ذمہ واجب ہوگا۔

 (۴) عورت کےذمہ اس دوسرے شوہر سے جدائی کی وجہ سےعدت(تین حیض )گزارنا بھی ضروری ہوگا۔

ایسی عورت کے دوسری جگہ نکاح درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اسے طلاق دے دیں اور آپ دونوں کےدرمیان ازدواجی تعلق قائم ہونے یا خلوت صحیحہ ہونے کے بعد طلاق ہونے کی صورت میں عورت  پردوسری عدت طلاق بھی لازم ہوگی اوردونوں عدتیں گزار کر وہ دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے،البتہ آپ کی طلاق کی عدت اگر پہلے پوری ہو تو وہ عورت اس دوسرے شوہر سے اس کی عدت کے درمیان بھی دوبارہ نکاح کرسکتی ہے۔

حوالہ جات

رد المحتار - (ج 10 / ص 95):

( ويجب مهر المثل في نكاح فاسد ) وهو الذي فقد شرطا من شرائط الصحة كشهود ( بالوطء ) في القبل ( لا بغيره ) كالخلوة لحرمة وطئها ( ولم يزد ) مهر المثل ( على المسمى ) لرضاها بالحط ، ولو كان دون المسمى لزم مهر المثل لفساد التسمية بفساد العقد ، ولو لم يسم أو جهل لزم بالغا ما بلغ ( و ) يثبت ( لكل واحد منهما فسخه ولو بغير محضر عن صاحبه دخل بها أو لا ) في الأصح خروجا عن المعصية .

فلا ينافي وجوبه بل يجب على القاضي التفريق بينهما ( وتجب العدة بعد الوطء ) لا الخلوة للطلاق لا للموت ( من وقت التفريق ) أو متاركة الزوج وإن لم تعلم المرأة بالمتاركة في الأصح

 ( قوله كشهود ) ومثله تزوج الأختين معاونكاح الأخت في عدة الأخت ونكاح المعتدة والخامسة في عدة الرابعة والأمة على الحرة .

وفي المحيط : تزوج ذمي مسلمة فرق بينهما لأنه وقع فاسدا .ا هـ .

فظاهره أنهما لا يحدان وأن النسب يثبت فيه والعدة إن دخل بحر .

قلت : لكن سيذكر الشارح في آخر فصل في ثبوت النسب عن مجمع الفتاوى : نكح كافر مسلمة فولدت منه لا يثبت النسب منه ولا تجب العدة لأنه نكاح باطل ا هـ .

وهذا صريح فيقدم على المفهوم فافهم ، ومقتضاه الفرق بين الفاسد والباطل في النكاح ، لكن في الفتح قبيل التكلم على نكاح المتعة .

أنه لا فرق بينهما في النكاح ، بخلاف البيع ، نعم في البزازية حكاية قولين في أن نكاح المحارم باطل أو فاسد .

والظاهر أن المراد بالباطل ما وجوده كعدمه ، ولذا لا يثبت النسب ولا العدة في نكاح المحارم أيضا كما يعلم مما سيأتي في الحدود .

وفسر القهستاني هنا الفاسد بالباطل ، ومثله بنكاح المحارم وبإكراه من جهتها أو بغير شهود إلخ وتقييده

رد المحتار - (ج 10 / ص 97):

أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا .

قال : فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة ، ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لأنه زنى كما في القنية وغيرها ا هـ .

والحاصل أنه لا فرق بينهما في غير العدة ، أما فيها فالفرق ثابت .وعلى هذا فيقيد قول البحر هنا ونكاح المعتدة بما إذا لم يعلم بأنها معتدة ،

 قال المفتی رشید احمد اللدیانوی رحمہ اللہ تعالی( احسن الفتاوی 5/ص19) : قلت لما اختلفت آراؤھم فی وجوب العدۃ وعدمہ فالاحتیاط فی قول الوجوب وان اشار فی الشامیۃ الی ترجیح عدم الوجوب بقولہ فیقید قول البحر الخ ، وایضا فی الشامیۃ تحت( قولہ ولو من المطلق)

وفي الدرر : اعلم أن المرأة إذا وجب عليها عدتان ، فإما أن يكونا من رجلين ، أو من واحد ، ففي الثاني لا شك أن العدتين تداخلتا ، وفي الأول إن كانتا من جنسين كالمتوفى عنها زوجها إذا وطئت بشبهة ، أو من جنس واحد كالمطلقة إذا تزوجت في عدتها فوطئها الثاني وفرق بينهما تداخلتا عندنا ويكون ما تراه من الحيض محتسبا منهما جميعا ، وإذا انقضت العدة الأولى ولم تكمل الثانية فعليها إتمام الثانية . (رد المحتار - (ج 12 / ص 389)

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۵جمادی الاولی ۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب