| 82074 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک عورت کو اس کا شوہر مہر کے طے شدہ دس تولہ سونے کا زیور حوالے کر دیتا ہے، یعنی مہر ادا کر دیتا ہے،کچھ عرصہ بعد شوہر وہی سونے کے زیور بیوی سے لے کر اپنے کسی مقصد کے لئے بیچ دیتا ہے،عورت یعنی اس شخص کی بیوی اس شرط پہ وہ زیور واپس کرتی ہے کہ یہ میرے مہر کا سونا ہے اور اگر آپ یہ سونا مجھ سے لے رہے ہیں تو گویا میرا آپ کی طرف مہر کا حق بقایا ہے،اب شوہر کا انتقال ہو چکا ہے،تواب سوال یہ ہے کہ شوہر کے مال میں سے عورت اس مہر کے سونے کا حقدار ہے یا نہیں؟ گھر کے بعض افراد کہتے ہیں کہ مہر یعنی زیورایک دفعہ دے دیا گیا ہے،بعدمیں اگر شوہر نے وہ زیور واپس لے لیے تو یہ میاں بیوی کا آپس کا معاملہ ہے،اس پہ مہر کی شرط لاگو نہیں ہوتی،اس بارے میں رہنمائی درکار ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں جب سب اس بات کو مانتے ہیں کہ یہ سونا بیوی نے شوہر کو واپس کیا ہے تو اس کو تو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اختلاف اب اس میں ہے کہ یہ واپس کرنا بطور ہبہ تھا؟ یابطور ہبہ نہیں تھا، بلکہ واپس لینے کی نیت سےتھا؟ قرینہ یعنی عورت کا مذکورہ قول"یہ میرے مہر کا سونا ہے اور اگر آپ یہ سونا مجھ سے لے رہے ہیں تو گویا میرا آپ کی طرف مہر کا حق بقایا ہے" بتاتا ہے کہ یہ دینا بطورہبہ یعنی مفت نہیں تھا، بلکہ واپس لینے کی نیت سےتھا،لہذامسئولہ صورت میں عورت کا قول معتبرہے اورسونا جس کو واپس کرنا تھا وہ چونکہ شوہر اپنے مقصد ےلیے بیچ چکاہے،اب اس کی واپسی ممکن نہیں ہے،لہذا اب اس کی لینے اورفروخت کرنے کے وقت کی قیمت واجب ہوگی جو مرحوم کے ترکہ سےمذکورہ عورت کو دی جائے گی۔
حوالہ جات
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (7/ 282)
(قوله وعارية الثمنين والمكيل والموزون والمعدود قرض) ومراده أن إعارة ما لا يمكن الانتفاع به مع بقاء العين قرض ولو كان قيميا حتى لو قال أعرتك هذه القصعة من الثريد فأخذها وأكلها فعليه مثله أو قيمته وكان قرضا إلا إذا كان بينهما مباسطة فيكون ذلك دلالة لإباحة كذا في الخلاصة وفي المحيط لو استعار رقعة ليجعلها على قميصه أو خشبة يدخلها في بنائه فهو ضامن لأنه قرض هذا إذا لم يقل لأردها عليك فإن قال فهو عارية لأن القرض لا يكون عينه واجب الرد فصار إعادة قيدنا بكونه لا يمكن الانتفاع به مع بقاء عينه لأنه لو أمكن بأن استعار درهما ليعاير به ميزانه كان عارية فليس له الانتفاع بعينه كعارية الحلي وإذا كان عارية ما ذكرنا قرضا كان قرض الحيوان للاستعمال عارية لا قرضا فاسدا لأن القرض الفاسد أن يأخذ الحيوان ليستهلكه وينتفع به ثم يرد عليه مثله وهذا فاسد وهو مضمون بالقيمة كذا في فتاوى قاضي خان.
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 220)
قال: "وعارية الدراهم والدنانير والمكيل والموزون والمعدود قرض"؛ لأن الإعارة تمليك المنافع، ولا يمكن الانتفاع بها إلا باستهلاك عينها فاقتضى تمليك العين ضرورة وذلك بالهبة أو بالقرض والقرض أدناهما فيثبت. أو؛ لأن من قضية الإعارة الانتفاع ورد العين فأقيم رد المثل مقامه. قالوا: هذا إذا أطلق الإعارة.وأما إذا عين الجهة بأن استعار دراهم ليعاير بها ميزانا أو يزين بها دكانا لم يكن قرضا ولم يكن له إلا المنفعة المسماة، وصار كما إذا استعار آنية يتجمل بها أو سيفا محلى يتقلده.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
26/5/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


