| 82100 | شفعہ کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
اس فروخت شدہ زمین کے برابر والی زمین کے مالک نے اس پر شفعہ کا دعوی کیا ہے،جبکہ شرکاء میں سے بھی ایک شریک شفعہ کا دعوی کرتا ہے،تو ایسی صورت میں کس کا دعوی صحیح ہے؟آیا پڑوسی کا دعوی شفعہ صحیح ہے یا اس زمین میں شریک دعویدار کا دعوی صحیح ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ جو ورثا اپنے حصے میں آنے والی زمین کی بیع پر راضی نہیں ہیں اس میں تو بیع نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو بھی حق شفعہ حاصل نہیں ہوگا،البتہ جس وارث نے یہ زمین فروخت کی ہے اگر اسے اپنا حصہ معلوم تھا تو پھر اس کے حصے میں بیع صحیح ہونے کی وجہ سے حق شفعہ ثابت ہوگا اور شریک کے حق شفعہ کا دعوی کرنے کی صورت میں پڑوسی کو حق شفعہ حاصل نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية" (5/ 165):
"أسباب الشفعة إذا اجتمعت يراعى فيها الترتيب فيقدم الأقوى فالأقوى فيقدم الشريك على الخليط والخليط على الجار فإن سلم الشريك وجبت الشفعة للخليط وإذا اجتمع خليطان يقدم الأخص ثم الأعم وإن سلم الخليط وجبت للجار وهذا جواب ظاهر الرواية وهو الصحيح؛ لأن كل واحد من هذه الأشياء الثلاثة سبب صالح للاستحقاق إلا أنه يرجح البعض على البعض لقوته في التأثير".
"الفتاوى الهندية "(5/ 164):
"ومن ابتاع دارا شراء فاسدا فلا شفعة فيها أما قبل القبض فلبقاء ملك البائع فيها وأما بعد القبض فلاحتمال الفسخ".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
26/جمادی الاولی1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


