| 82122 | طلاق کے احکام | طلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان |
سوال
ایک مردنےاپنی بیوی سے کہا کہ تم مجھ پرحرام ہو،پھردس دن بعد کہاکہ میں نےاس کو چھوڑدیاہے،پھرکچھ دن بعدکہایہ میری بیوی نہیں ہے۔اب پوچھنایہ ہےکہ اس سے طلاق واقع ہوجاتی یانہیں؟رہنمائی فرمائیں۔
تنقیح:سائل سے پوچھنے پر سائل نے وضاحت کی "میں نے اس کو چھوڑ دیا " ان الفاظ سے میری مراد بیوی کو دوسری طلاق دینی تھی ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بیوی کے حق میں لفظ" حرام" استعمال کرنے سے ایک طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد عدت کے دوران اگر شوہر صریح الفاظ میں طلاق دے تو دوسری طلاق ہو جاتی ہے ، لیکن کنایہ الفاظ سے دوسری طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لہذا صور ت مسئولہ میں جب مرد نے اپنی بیوی سے کہا: تم مجھ ہر حرام ہو ،تو اس سے طلاق بائن واقع ہوئی ۔
اس کے دس دن بعد جب شوہر نے کہا: میں نے اس کو چھوڑ دیا ہے۔توچونکہ یہ الفاظ عرف کی وجہ سے صریح بن چکے ہیں اور بیوی عدت میں تھی ،اس لیے دوسری طلاق بھی ہوگئی ۔
اس کے کچھ دن بعدجب کہا : یہ میری بیوی نہیں ہے۔تو چونکہ یہ کنایہ الفاظ ہیںاور طلاقِ بائن واقع ہونے کے بعد کنائی الفاظ سے دی جانے والی طلاق واقع نہیں ہوتی ،لہذا صورت مسؤلہ میں یہ الفاظ لغو ہوں گے اور تیسری طلاق واقع نہیں ہوگی۔اب رجوع تو نہیں ہوسکتا ،البتہ یہ دونوں رضامندی سے نئے سرے سے دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں ۔دوبارہ نکاح کرنے کے بعد شوہر کو صرف ایک طلاق دینے کا اختیار ہوگا ۔اگر اس نے اس کے بعد ایک بھی طلاق دی تو یہ عورت مکمل طور پر اس کے لیے حرام ہو جائے گی ۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ :ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام ،فيقع بلا نية للعرف.
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ : قوله 🙁 فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحا لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية ،وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن؛ لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات .وإنما كان ما ذكره صريحا ؛لأنه صار فاشيا في العرف في استعماله في الطلاق لا يعرفون من صيغ الطلاق غيره ولا يحلف به إلا الرجال.وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك ،فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية.(الدر المختار مع رد المحتار3/ 252)
قال العلامة الحصكفي رحمه اللہ:(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا .(الدر المختار: 306/3)
قال جمع من العماء رحمہ اللہ :الطلاق الصریح یلحق الطلاق الصریح بأن قال: أنتِ طالق وقعت طلقۃ، ثم قال: أنتِ طالق تقع أخریٰ ،ویلحق البائن أیضا بأن قال لہا :أنتِ بائن أوخالعہا علی مال، ثم قال لہا:أنتِ طالق، وقعت عندنا .(فتاوى الهندية :377/1)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ :فإن سرحتک کنایۃ لکنہ في عرف الفرس غلب استعمالہ في الصریح، فإذا قال: رہا کردم، أي سرحتک یقع بہ الرجعی مع أن أصلہ کنایۃ أیضا ، و ما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق، و قد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت. ( رد المحتار: 3/299)
قال العلامة الكاساني رحمه اللہ :ولا خلاف في هذه الجملة إلا في ثلاثة ألفاظ وهي قوله:سرحتك،وفارقتك، وأنت واحدة فقال أصحابنا: قوله: سرحتك وفارقتك من الكنايات ،لا يقع الطلاق بهما ،إلا بقرينة النية كسائر الكنايات. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع 3/ 106)
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله :قوله 🙁 لا يلحق البائن البائن ): المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية.(رد المختار: 3/ 308)
احسن الفتاوی میں ہے:لفظ"حرام"طلاقِ صریح بائن ہے،اس سے بدونِ نیت بھی طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے۔(184/5)
محمد مفاز
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید،کراچی
27 جمادی الاولی 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مفاز بن شیرزادہ خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


