| 82477 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
بریلوی مسلک کے امام کےپیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ نماز کا معاملہ انتہائی احتیاط کا حامل ہے،اس لئے حتی الامکان کسی نیک و صالح اور صحیح العقیدہ امام کی اقتداء میں نماز پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے،کیونکہ جس طرح امام کی ظاہری وضع قطع کا شریعت کے مطابق ہونا ضروری ہے اسی طرح اس کے عقائد کی درستگی اس سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہے،لہذا شرکیہ عقائد کے حامل امام کی اقتداء میں تو نماز درست نہیں ہے،البتہ ایسا امام جو صرف عملی بدعات میں ملوث ہو اس کی اقتداء میں نماز ہوجاتی ہے،اس لئے تنہا نماز پڑھنے کے بجائے جماعت کے ساتھ اس کی اقتداء میں نماز پڑھ لینا زیادہ بہتر ہے۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (1/ 559):
(وإن) أنكر بعض ما علم من الدين ضرورة (كفر بها) كقوله إن الله تعالى جسم كالأجسام وإنكاره صحبة الصديق (فلا يصح الاقتداء به أصلا) فليحفظ (وولد الزنا) هذا إن وجد غيرهم وإلا فلا كراهة بحر بحثا. وفي النهر عن المحيط: صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة".
"بدائع الصنائع " (1/ 157):
"وإمامة صاحب الهوى والبدعة مكروهة، نص عليه أبو يوسف في الأمالي فقال: أكره أن يكون الإمام صاحب هوى وبدعة؛ لأن الناس لا يرغبون في الصلاة خلفه، وهل تجوز الصلاة خلفه؟
قال بعض مشايخنا: إن الصلاة خلف المبتدع لا تجوز، وذكر في المنتقى رواية عن أبي حنيفة أنه كان لا يرى الصلاة خلف المبتدع، والصحيح أنه إن كان هوى يكفره لا تجوز، وإن كان لا يكفره تجوز مع الكراهة".
"البحر الرائق " (1/ 370):
"فالحاصل أنه يكره لهؤلاء التقدم ويكره الاقتداء بهم كراهة تنزيه، فإن أمكن الصلاة خلف غيرهم فهو أفضل وإلا فالاقتداء أولى من الانفراد وينبغي أن يكون محل كراهة الاقتداء بهم عند وجود غيرهم وإلا فلا كراهة كما لا يخفى".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
19/جمادی الثانیہ1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


