| 86135 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
میرے سوالات ایزی پیسہ اور اس سے منسلک رقم کی ترسیل کے متعلق ہیں،قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب درکار ہے۔
پہلا سوال یہ ہے کہ ریٹیلر سم سے وصولی اور ترسیل پر کمپنی مخصوص شرح نفع دیتی ہے،جس سے دوکان کا کرایہ اور دیگر اخراجات پورا کرنا بھی محال ہے،اس لئے ہم اس مقصد کے لئے پرسنل اکاؤنٹ استعمال کرتے ہیں اور وہ کٹوتی جو کمپنی صارف سے کرتی ہے ہم کرلیتے ہیں،جیسے ایک ہزار پر بیس روپے وغیرہ،تو کیا ہمارے لئے ایسا کرنا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کمپنی ایزی پیسہ کے لئے دو قسم کے اکاؤنٹ کھولتی ہے اور دونوں قسموں کےاکاؤنٹس کے ذریعہ رقم کی منتقلی و ڈیپازٹ وغیرہ کا حکم الگ الگ ہے:
الف: ریٹیلر اکاؤنٹ(Retailer Account): ریٹیلر اکاؤنٹ میں کمپنی اور دکاندار کے درمیان شرعی اعتبار سے اجارے کا معاملہ منعقد ہوتا ہے (اس میں دکاندار کمپنی کا ملازم اور کمیشن ایجنٹ ہوتا ہے)۔ کمپنی دکاندار کو اپنی سروسز (خدمت) فراہم کرنے پر ایک مخصوص مقدار میں کمیشن دیتی ہے اور کسٹمر سے اضافی رقم لینے سے منع کرتی ہے،اس صورت میں شرعی اعتبار سے اجارہ کے معاملہ میں طے شدہ جائز شرائط کی رعایت رکھنا فریقین کےذمہ لازم ہوتا ہے، لہذا کمپنی کے کمیشن ایجنٹ ہونے کی حیثیت سے دکاندار کا رقم ٹرانسفر(منتقل)کرنے یا ڈیپازٹ پر کسٹمر سے اضافی رقم لینا جائز نہیں۔
ب: پرسنل اکاؤنٹ(Personal Account):اس اکاؤنٹ میں دکاندار کمپنی کا کمیشن ایجنٹ نہیں ہوتا، اسی لیے کمپنی پرسنل اکاؤنٹ کے ذریعہ رقم ٹرانسفر کرنے پراس کو کوئی کمیشن نہیں دیتی،البتہ کمپنی تبرعاً اپنا سسٹم استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے، نیز پرسنل اکاؤنٹ کے ذریعہ کسی دوسرے شخص کو خدمات فراہم کرنےسے بھی منع نہیں کرتی، بلکہ پرسنل اکاؤنٹ کھلوانے والا شخص (Account Holder) اپنی طرف سے کسی بھی شخص کو خدمات فراہم کرنے میں خود مختارہوتا ہے، لہذا جب دکاندار اپنے پرسنل اکاؤنٹ کے ذریعہ کسٹمر کی رقم ٹرانسفر کرتا ہےتو دکاندار اور کسٹمر کے درمیان اجارے کا معاملہ منعقد ہوتا ہے، جس میں دکاندار کسٹمر کا اجیر(ملازم) بن کر اس کو اپنی خدمات فراہم کرتا ہے، اس لیے دکاندارکااپنے پرسنل اکاؤنٹ کے ذریعہ رقم ٹرانسفرکرنےپر اپنی خدمت کے عوض کسٹمر سے بطورِ اجرت مناسب مقدار میں اضافی رقم لینا جائز ہے، بشرطیکہ کسٹمر کو اس بات کا علم ہو کہ یہ اضافی رقم دکاندار کی اپنی اجرت ہے۔
چونکہ مذکورہ صورت میں یہ دکاندار سوال میں ذکر کی گئی خدمات(سروسز) کے لئے اپنا ذاتی اکاؤنٹ استعمال کرتا ہے،اس لئے ان کے عوض لوگوں سے مناسب اجرت وصول کرنا اس کے لئے جائز ہے۔
حوالہ جات
"رد المحتار" (6/ 63):
"قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة".
"فقہ البیوع " (2/750):
"أن دائرة البرید تتقاضی عمولة من المرسل علی إجراء ھذہ العملیة فالمدفوع إلی البرید أکثر مما یدفعہ البرید إلی المرسل إلیہ فکان فی معنی الربا ولہذالسبب أفتی بعض الفقھاء فی الماضی القریب بعدم جواز إرسال النقود بھذالطریق ولکن أفتی کثیر من العلماء المعاصرین بجوازھاعلی أساس أن العمولة التی یتقاضاھاالبرید عمولة مقابل الأعمال الإداریةمن دفع الاستمارة وتسجیل المبالغ وإرسال الاستمارة أوالبرقیة وغیرھاإلی مکتب البرید فی ید المرسل إلیہ وعلی ھذاالأساس جوز الإمام أشرف علی التھانوی رحمہ اللہ-إرسال المبالغ عن طریق الحوالة البریدیةوعلی ھذا مشی العلماء المعاصرون،مثل فضیلة الدکتور وھبة الزحیلی رحمہ اللہ".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
01/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


