03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قسطوں پر کاروبارکاحکم،اس کی جائز اورناجائزصورتیں اوردوقیمتوں کاحکم
86130خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

١۔ایک چیز کی دو قیمتیں کیسے ہوتی ہیں جو ناجائز اور حرام تصور کی جاتی ہیں۔

۲۔ایک چیز کی دو قیمتیں کیسے ہوتی ہیں جو ناجائز اور حرام تصور کی جاتی ہیں۔

۳۔قسطوں پر کاروبار میں جو حلال اور حرام کا معاملہ ہے، اس کی وضاحت کریں اور جائز اور ناجائز صورت بتائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔ یہ صورت جائز ہے، بشرطیکہ فروخت کے وقت ایک متعین قیمت طے کی جاتی ہو، اور تمام قسطوں کے لیے وقت کی تعیین کی جاتی ہو۔

2۔ دو قیمتیں جو ناجائز اور حرام تصور کی جاتی ہیں وہ یہ ہیں کہ فروخت کے وقت دو قیمتیں مثلاً نقد اور ادھار الگ الگ ذکر کی جائیں اور پھر مجلس میں کسی ایک کو حتمی نہ کیا جائے اور اسی طرح خریدار مبیع کو اٹھا کر لے جائے۔ یہ صورت ناجائز ہے کیونکہ اس میں قیمت مجہول رہ جاتی ہے جس میں بعد میں جھگڑے ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اس صورت کو شریعت نے منع کیا ہے۔ لیکن عقد کے وقت دو قیمتیں ذکر کرکے پھر مجلس ختم ہونے سے پہلے کسی ایک کو اگر متعین کر دیا جائے تو یہ صورت

شرعاً جائز ہے، ممنوع نہیں ہے۔

3۔قسطوں پر کاروبارکی جائز صورت یہ ہے کہ نقد اور ادھار میں سےکسی ایک قیمت کی تعیین کی جائے، اسے مجہول نہ چھوڑا جائے اور کسی قسط کی تاخیر پر مالی جرمانہ مقرر نہ کیا جائے،قیمت ادھارتو ادائیگی کا وقت  بھی متعین کیاجائے، تاکہ بعد میں جھگڑے نہ ہوں۔

اور ناجائز صورت یہ ہے کہ نقد اور ادھار دو قیمتیں ذکر کی جائیں اور کسی ایک کی تعیین مجلس میں نہ کی جائے یا کسی قسط کی تاخیر پر جرمانہ وصول کیا جائےیاقیمت ادھارہونے کی صورت میں ادائیگی کا وقت متعین نہ کیاجائے۔

حوالہ جات

وفی حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 531)

(وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع.

وفی سنن الترمذي (ج ۲ص ۳۵۰)

وقد فسر بعض أهل العلم ، قالوا : بيعتين في بيعة ، أن يقول أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة ، وبنسيئة بعشرين ، ولايفارقه على أحد البيعين ، فإذا فارقه على أحدهما ، فلا بأس إذاكانت العقدة على واحد منهما .

وفی سنن الترمذي (ج ۲ص ۳۵۰)

وقد فسر بعض أهل العلم ، قالوا : بيعتين في بيعة ، أن يقول أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة ، وبنسيئة بعشرين ، ولايفارقه على أحد البيعين ، فإذا فارقه على أحدهما ، فلا بأس إذاكانت العقدة على واحد منهما .

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 531)

(قوله: لئلا يفضي إلى النزاع) تعليل لاشتراط كون الأجل معلوما؛ لأن علمه لا يفضي إلى النزاع، وأما مفهوم الشرط المذكور وهو أنه لا يصح إذا كان الأجل مجهولا فعلته كونه يفضي إلى النزاع فافهم.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

1/7/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب