03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لڑکی کے انتخاب میں لڑکے کی پسندکاخیال رکھنا
82350جائز و ناجائزامور کا بیانبچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل

سوال

میرانام وسیم زمان ہے،میں واہ کینٹ ،راولپنڈی کارہائشی ہوں،میں ایک لڑکی کوپسندکرتاہوں اوراس سے نکاح کاارادہ رکھتاہوں،ہم یونیورسٹی میں ایک ساتھ پڑھتے ہیں،میں اسے چارسال سےجانتاہوں،وہ ایک متوسط ٖفیملی سے تعلق رکھتی ہے اور دین کوسمجھنے والی اوراس پرعمل کرنے والی ہے،میں نے یہ بات گھروالوں کوبتائی کہ میں اس سے نکاح کرناچاہتاہوں،میرے گھروالوں نے منع کردیا کہ آج کل کوئی بھروسہ نہیں،ہم خودلڑکی دیکھیں گے،میں نےگھروالوں سے کہاکہ آپ لوگ ایک بارلڑکی والوں کے گھرجاکران کودیکھ تولیں،بات چیت کریں،تسلی کریں اگرکوئی بات یامطالبہ ان کاٹھیک نہ ہو توآپ منع کردینا،لیکن گھروالوں کاکہناہے کہ ہم نہیں جارہے،مختصریہ ہے کہ گھروالے بلاوجہ میری پسندکوردکررہے ہیں،شادی تومیں نے کرنی ہے اوراسلام نے لڑکےکواختیاردیاہے،میں اس سلسلہ میں مشکل کاشکارہوں،آپ اس حوالہ سے فتوی دیدیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت نے نکاح کے معاملہ میں والدین اور اولاد دونوں کو حکم دیا ہے کہ ایک دوسرے کی پسند کی رعایت کریں، والدین اپنے بچوں کا  کسی ایسی جگہ نکاح نہ کروائیں جہاں وہ بالکل راضی نہ ہوں، اسی طرح بچے ایسی جگہ نکاح کرنے پر مصر نہ ہوں جہاں والدین بالکل راضی نہ ہوں،لہذاصورت مسؤلہ میں والدین کوچاہیےکہ آپ کی پسندکاخیال رکھتے ہوئے لڑکی کودیکھ لیں،اگرلڑکی دینداراورشریف گھرانہ سے ہے تو بلاوجہ آپ کی رائے کورد کرناخلاف شرع اورخلاف مصلحت ہے،اگررد کرنے کی کوئی معقول وجہ والدین پیش کرتے ہیں توپھرآپ کااپنی رائے پراصرارکرنادرست نہیں۔

حوالہ جات

۔۔۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

  ۲۰/جمادی الثانی۱۴۴۵ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب