| 82450 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
19/12/2023 السلام و علیکم میرے والد کا انتقال کچھ عرصے پہلے ہوا ہے انکی دو بیویاں ہیں اور چھے بچے ، دو لڑکیاں میری بہنیں اور مجھے ملا کر دو بھائی ہیں میری امی سے یعنی ہم پانچ بھائی بہن اور دوسری امی سے ایک بھائی اور ہے جو ابھی ۱۴ سال کا ہے میرے والد نے اپنی حیات میں دونوں والدہ کو ایک ایک فلیٹ انکے نام کردیا تھا ، کاغذات موجود ہیں دو دکانیں ہیں جو ابھی مکمل نہیں ہیں وہ میری دوسری والدہ اس پر امیدوار ہیں (Nominee) ہیں اور کل ملا کر کچھ پیسے ہیں میرا سوال یہ ہے کہ ۱- جائیداد کا حصہ دونوں فلیٹ جو اب دونوں والدہ کے نام ہے اور دونوں دکانیں جس کی میری دوسری والدہ امیدوار ہیں اور یہ پیسے، کیا سب چیزوں کو ملا کرحصہ کیا جائے گا سب کے درمیان اور لس طرح سے؟ کل ملا کر آٹھ لوگ ہیں چار لڑکے ، دو لڑکیاں اور دو بیویاں ۲- یا پھر حصہ صرف پیسوں کا ہوگا جو کچھ بھی میرے والد نے بنایا وہ اپنے پیسوں سے بنایا ہے اوراپنی حیات میں دونوں فلیٹ دونوں والدہ کے نام کردیا تھا برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ خیر
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سب سے پہلےمرحوم کے ترکہ سے اس کےکفن ودفن کے اخراجات ادا کئے جائیں گے، بشرطیکہ کسی وارث نے اپنی طرف سے ادا نہ کئے ہوں، اس کے بعد اس کے ذمہ واجب حقوق اگر ہوں تو ان کو ادا کیا جائے گا،( البتہ حقوق اللہ مثلا نمازوں،روزوں کا فدیہ دینے کی شرط یہ ہے کہ میت نےاپنی زندگی میں ادائیگی کی وصیت کی ہو، ورنہ ادائیگی لازم نہیں،لیکن اگر کوئی وارث اپنی ذاتی ملکیت سے ادا کردے تو یہ بھی جائز ہے)اس کے بعد اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی تک اس کو پورا کیا جائے گا۔
اس کے بعدباقی کل ترکہ کا آٹھوں(12٫5) حصہ دونوں بیواؤں میں تقسیم ہوگا،لہذاہر بیوہ کو (6٫25 فیصد) ملے گا،اس کے بعد بقیہ ترکہ(87٫5 فیصد) کو بہن بھائیوں میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ ہر بھائی کو بہن سےد گنا حصہ ملے گا ،لہذا بقیہ ترکہ کےدس حصے بنا کران میں سے ہر ایک بھائی کو دو دو حصے(یعنی ہرایک بھائی کو17٫5 فیصد) اور ہر ایک بہن کو ایک حصہ(یعنی ہر بہن کو8٫75 فیصد ) ملے گا۔
واضح رہےکہ جومکان یادوکان شوہرنےباقاعدہ کسی بیوی کواپنی زندگی میں مالکانہ حقوق وتصرفات کےاختیارات کےساتھ دیاہوصرف وہ مکان ترکہ میں شامل نہ ہوگا،ورنہ صرف کسی کے نام کاغذات بنانےسےوہ مکان مرحوم کےترکہ میں شامل ہوگا۔لہذا سؤال میں مذکور تفصیل کی روشنی میں چونکہ دونوں مکانوں پر بظاہر قبضہ مکمل ہوچکا ہے، لہذا وہ مرحوم کے ترکہ میں شامل نہیں ہونگے،البتہ دونوں دوکانوں پر چونکہ بظاہر قبضہ نہیں ہوا ،لہذا وہ مرحوم کے ترکہ میں شامل ہوکر تمام ورثہ میں مذکورہ بالاشرعی حصص کےمطابق تقسیم ہونگے۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۱جمادی الثانیۃ۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


