03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حالت احرام میں پیر،چہرہ اورسرچھپانے کا حکم
82466حج کے احکام ومسائلحج کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

حالت احرام میں سونے  یا جاگنےکی حالت میں چادر وغیرہ کےذریعے پیر،چہرہ اور سر چھپایا جاسکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حالت  احرام میں اگرسوتے ہوئےیاجاگتےہوئے چادر سے پاؤں ڈھانپ لے  تو اس سے کوئی صدقہ یا دم واجب  نہیں ہوگا،البتہ مردکو احرام کی حالت میں سر اور منہ ڈھانکنا منع ہےاور عورت کے لیے صرف چہرہ ڈھانکنا منع ہے تو اگر مرد نے احرام کی حالت میں سارا سر یا چہرہ یا چوتھائی سریا چوتھائی چہرہ کسی ایسی چیز سے ڈھانکا جس سے عادتاً ڈھانکتے ہیں جیسے عمامہ،ٹوپی یا اور کوئی کپڑا، سلا ہوا یا بغیر سلا ہوا ،سوتے یا جاگتے،قصداً ہو یا بھول کر رضامندی سے ہو یا زبردستی سے،خود ڈھانکا ہو یا کسی دوسرے نے ڈھانک دیا ہو،عذر سے ہو یا بلا عذر بہر صورت جزا واجب ہوگی۔جزا کے حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ اگر مکمل ایک دن یامکمل ایک رات یا اس سے زیادہ،سر یا چہرہ یا ان کا چوتھائی حصہ مذکورہ چیزوں سے ڈھانکا تو ایک دم واجب ہوگااور اگر چوتھائی حصے سے کم ڈھانکا یا ایک دن یا ایک رات سے کم ڈھانکا تو پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہوگا۔

حوالہ جات

ولو غطى المحرم رأسه أو وجهه يوما فعليه دم، وإن كان أقل من ذلك فعليه صدقة كذا في الخلاصة وكذا إذا غطاه ليلة كاملة سواء غطاه عامدا أو ناسيا أو نائما كذا في السراج الوهاج.إذا غطى ربع رأسه فصاعدا يوما فعليه دم، وإن كان أقل من ذلك فعليه صدقة هكذا ذكر في المشهور وعن محمد - رحمه الله تعالى - أنه قال لا يجب الدم حتى يغطي الأكثر من الرأس والصحيح ما ذكر في المشهور، كذا في المحيط ويكره له أن يعصب رأسه أو وجهه بغير علة، وإن فعل ذلك يوما كاملا فعليه الصدقة كذا في شرح الطحاوي.

    الفتاوى الهندية (1/ 242)

اذا غطی رأسہ أو وجھہ، ولو امرأۃ کلا أو بعضا بمعتاد، وھو مایقصد بہ التغطیۃ عادۃ کالقلنسوۃ والعمامۃ مخیطا کان أو غیرہ،ودام علیہ زماناولو ناسیا أو عامدا،عالما أو جاھلا، مختارا أو مکرھاأو نائما ،غطاہ غیرہ أو ھو بنفسہ بعذر أو بغیر عذر فعلیہ الجزاء.فاذا غطی جمیع راسہ أو وجہہ،والربع منھما کالکل اعتبارا بالحلق ،وعن ابی یوسف اعتبارا لأکثر فیھما ،واختارہ فی الفتح قال:لأن تکامل الجنایۃ لا یحصل بما دون الأکثر بخلاف حلق الربع ،لأنہ معتاد یوما أو لیلۃ والمراد مقدار أحدھما کما مر فعلیہ دم ،وفی الاقل من یوم أو من الربع صدقۃ.

(غنیۃ الناسک فی بغیۃ المناسک،ص:۳۹۶،ط:دار رائدۃفی الطباعۃ والنشر والتوزیع الاسلامی)

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

۲۱.جمادی الاخری۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب