| 82492 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
میرا سوال طلاق سے متعلق ہے، لیکن اس سے پہلے پورا واقعہ بتا کر تفصیل سے جواب چاہتا ہوں، میں نے آپ کے ہی ادارے سے فتوی لیا تھا طلاق کے بارے میں جس میں بتایا گیا تھا کہ طلاق نہیں ہوئی ،لیکن فتوی آنے سے پہلے ہی میں نے احتیاطاً تجدید نکاح بھی کر لیا تھا، اس واقعے کے بعد سے میں طلاق کی بارے میں بہت زیادہ سوچنے لگ گیا تھا اور انٹرنیٹ پر بھی ذیادہ وقت اسی کام میں لگا دیتا تھا۔
فتوی لینے کے بعد بھی اور احتیاطاً تجدید نکاح کرنے کے بعد بھی ہر تھوڑے دن بعد مجھے شک ہونے لگ جاتا تھا کہ کہیں طلاق ہو نہ گئی ہو اور فتوی میں کوئی غلطی نہ ہو گئی ہو اور پھر خیال آتا کہ نہیں میں نے احتیاطاً تجدید نکاح بھی تو کر لیا ہے اس کے باوجود بار بار فتوی لیا اور ہر بار ایک نئی بات دماغ میں آ جاتی تھی، میری ویسے بھی عادت ہے کہ کوئی بھی بات اپنے اوپر سوار کر لیتا ہوں اور پھر خلاصی مشکل ہو جاتی ہے اور اسی طرح آہستہ آہستہ مجھے ہر روز ہر وقت طرح طرح کے وسوسے آتے ہیں، کہیں بھی طلاق یا نکاح کا ذکر ہو تو مجھے وہم ہونے لگ جاتا تھا،اسی دوران آپ کی ویب سائٹ اور اس طرح کی دوسری ویب سائیٹس پر پڑھا کہ تنہائی میں بیوی کی غیر موجودگی میں بھی طلاق دی جائے تو ہو جاتی ہے اور پھر ہر وقت میرا خیال اسی طرف رہتا کہ کہیں مجھ سے کبھی زبان سے طلاق کا لفظ نکل ہی نہ جائے اور اس طرح کے مزید جملے ذہن میں آنے لگے، میں بہت تنگ آ گیا اس سب سے اور مجھے یاد آتا ہے کہ میں نے اس وہم و خیال سے جان چھڑانے کے لیئے بیوی کی غیر موجودگی میں کسی لڑکی کا نام جو میری بیوی کا نام نہیں تھا لے کر کہا :سبین میں تمہیں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں۔
میں نے جان بوجھ کر اپنی بیوی کا نام نہیں لیا ،کیونکہ میں نےکبھی نہیں چاہا کہ میں اپنی بیوی کو ایسے کہوں،مجھے معلوم تھا کہ شیطان میرے منہ سے یہ الفاظ نکلوانا چاہتا ہے، اس لیے میں نے کسی اور کا نام لے کر ایسا کہا ،لیکن اس کے بعد بھی میری وسوسوں اور طلاق کے خیال سے جان نہیں چھوٹی، پھر ایک دن میں اپنے کام پرجانے لگا تو اسی طرح میرے دماغ میں طلاق طلاق چل رہا تھا اور میں نے بول دیا :"یہ طلاق" 1 سے 2 سیکنڈ کے وقفے کے بعد "سے بہتر کیا ہے؟" اور پھر "وہ طلاق سے بہتر کیا ہے؟" بلاوجہ بول دیئے۔
پھر اس کے بعد میں بہت ڈر گیا لیکن طلاق کے لفظ میرے ذہن سے نکل نہیں رہے تھے،ہر وقت یہی چلتا رہتا تھا دماغ میں، پھر میں یہی مسئلہ کسی بندے سے ذکر کر رہا تھا اور بتایا کہ تنہائی میں بیوی کو طلاق دینے سے بھی طلاق ہو جاتی ہے اور پھر اس سے دریافت کیا کہ اگر بیوی کی غیر موجودگی میں کوئی ایسا کہے کہ میں نے تمہیں طلاق دی یا میں تمہیں طلاق دیتا ہوں تو طلاق نہیں ہو گی؟ کیونکہ اس میں نہ تو اس نے بیوی کا نام لیا ہے اور نہ ہی اشارہ کیا ہے جس سے ظاہر ہو کہ بیوی کو کہہ رہا ہے تو اس بندے نے جواب دیا کہ ہاں جی ایسا ہی ہے۔
اب یہ بات کافی ٹائم بعد مجھے یاد آئی اور وہم و وسوسہ آنے لگا کہ میں نے تنہائی میں بیوی کی غیر موجودگی میں یہ جملہ بولا تھا، اسی لیے اس بندے سے یہ بات کہی تھی میں نے، مجھے بس وہم ہے یقین نہیں کہ میں نے واقعی ایسا تنہائی میں بھی بولا اور پھر سوچتا ہوں کہ اگر میں نے ایسا کہا بھی کہ میں نے تمہیں طلاق دی یا میں تمہیں طلاق دیتا ہوں تو کیا پتہ میری نیت بیوی تھی یا ایسے ہی بولا، تب ذہن میں طلاق طلاق چلنے کی وجہ سے شاید بولا ہو ،کیونکہ ان دنوں طلاق کو لے کر میرے ذہن میں یہی چلتا رہتا تھا، کبھی کہتا ہوں کہ نہیں میں نے بیوی کا سوچ کر ایسےنہیں بولا اور مطمئن ہو جاتا ہوں اور پھر اچانک سے خیال آتا ہے کہ کیا پتہ اس وقت بیوی ذہن میں آئی ہو۔
یہ سب کچھ بیوی یا کسی بھی اور کی غیر موجودگی میں ہوا ہے، میرے پاس کوئی بھی نہیں ہوتا تھا،میرا کبھی بھی ارادہ یا نیت نہیں ہوئی کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دوں، بس مجھے طلاق لفظ کے بارے میں خیال بہت آتے تھے،اب اس تفصیل کی روشنی میرا سوال یہ ہے کہ:
مجھے بتایا جائے کہ بتائی گئی حالت میں طلاق ہو گئی کیا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اگر کسی شخص پر وسوسے کی بیماری کا اتنا غلبہ ہوجائے کہ اس کی وجہ سے اس کی زبان سے غیر ارادی اور غیر اختیاری طور پر طلاق کے جملے نکلنے لگے تو زبان سے نکلنے والے ان غیر اختیاری جملوں سے طلاق واقع نہیں ہوتی،سوال میں ذکر کی گئی تفصیل سے آپ کی کیفیت بہ ظاہر ایسی ہے معلوم ہوتی ہے،اس لئے مذکورہ صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔(فتاوی فریدیہ:480/5)
حوالہ جات
"رد المحتار" (4/ 224):
"(قوله: وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس قال: يعني المغلوب في عقله، وعن الحاكم هو المصاب في عقله إذا تكلم يتكلم بغير نظام كذا في المغرب".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
26/جمادی الثانیہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


