03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد اور دادی کی میراث کے حوالے سے مختلف سوالات کے جوابات
86438میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

١۔ ہمارے والد صاحب، مسمی سید عابد حسین شاہ کے انتقال کے بعد ان کی وراثت کے بارے میں معلومات درکار ہیں۔ ورثاء کی تفصیل یہ ہے:اہلیہ،بیٹے: 5،بیٹیاں: 2 عدد،والدہ: مسمات سیدہ سبحان اللہ  جو مرحوم کی وفات کے وقت تو زندہ تھیں لیکن ان کی وفات کے 8 ماہ بعد انتقال کر گئیں۔ جب تک زندہ تھی ان کی کفالت کے اخراجات مرحوم کی وراثت سے پورے کیے گئے۔پوچھنا یہ ہے کہ:

کیا اس صورت میں مرحوم کی والدہ اور ہماری دادی، مسمات سیدہ سبحان اللہ، کا وراثت میں شرعی طور پر حصہ بنتا ہے یا نہیں؟ اگر حصہ بنتا ہے تو وہ کتنا ہوگا؟

۲۔ اگر مرحومہ (سیدہ سبحان اللہ) کے انتقال کے بعد بھی ان کا شرعی حصہ بنتا ہے تو ان کے ورثاء یہ ہیں:تین بیٹےاور دو بیٹیاں،ان دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا انتقال مرحومہ کے انتقال سے پہلے اور دوسری کا انتقال مرحومہ کے انتقال کے بعد ہوا۔ اس صورت میں مرحومہ کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟ اور انتقال شدہ بیٹیوں کا حصہ کس کو دیا جائے گا؟

۳۔ والد صاحب کی وراثت میں دیگراشیاء کی طرح ایک ایسا مکان بھی ہے، جس میں ہم رہائش پذیر ہیں۔ ہمارے والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہی یہ مکان اپنی اہلیہ (ہماری والدہ) کے نام ٹرانسفر کر دیا تھا۔ ہماری والدہ، سیدہ لبنیٰ عابد، کے مطابق مرحوم نے یہ مکان صرف رسماً ان کے نام کیا تھا اور یہ مکان تحفتاً نہیں دیا گیا تھا۔اس معاملے کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ یعنی یہ مکان بھی وراثت میں جائے گا؟ 

۴۔موجودہ صورت حال میں ہم سب ورثاء متفقہ طور پر اپنے مرحوم والد صاحب کی کوئی ایک جائیداد فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ کیا صرف فروخت شدہ جائیداد کے حصے ورثاء میں تقسیم کرنا ہوں گے یا تمام جائیداد کا حساب کرکے تمام شرعی ورثاء میں تقسیم کرنا لازم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

١۔ آپ کے والد مرحوم سید عابد حسین شاہ کی وفات کے وقت ان کی والدہ (آپ کی دادی، مسمات سیدہ سبحان اللہ) چونکہ زندہ تھیں، اس لیے شرعی طور پر وہ بھی اپنے بیٹے کی وراثت میں حصہ دار تھیں ۔ ان کے انتقال کے بعد ان کا حصہ

ان کے ورثاء کو منتقل ہوگا۔

آپ کی دادی، مسمات سیدہ سبحان اللہ کا اپنے بیٹے (مرحوم سید عابد حسین شاہ) کی وراثت سے چھٹا یعنی(%16.666) حصہ بنتاہے۔

۲۔ والدہ کی زندگی میں انتقال کرنے والی بیٹی کا ان کی میراث میں حصہ نہیں بنے گا۔اوروالدہ  کے انتقال کے وقت جو بیٹی زندہ تھی، اس کا حصہ بنے گا،اگروالدہ کے بعداس بیٹی کا بھی انتقال ہوچکاہوتویہ حصہ اب اس کے ورثاء کو ملے گا۔

مرحومہ مسمات سیدہ سبحان اللہ کی میراث میں سے تینوں  بیٹوں میں سے ہریک  کو دو دو حصے ملیں گےیعنی    % 28.57، اور زندہ بیٹی کو ایک حصہ ملے گایعنی% 14.29جوان کی وفات کی صورت میں ان کے ورثہ کی طرف منتقل ہوگا،اورمرحومہ کی زندگی میں وفات پانے والی بیٹی اوراس کی اولادمیراث سے محروم ہوں گی۔

۳۔جی ہاں، مذکورہ مکان بھی والد صاحب کی میراث میں شامل ہوگا، کیونکہ وہ والدہ کو تحفے کے طور پر نہیں دیا گیا تھا۔یہ مکان تمام ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔ہاں اگر سب ورثہ عاقل، بالغ ہوں اور باہمی رضامندی سے مکان والدہ کے لیے مخصوص کرنا چاہیں، تو وہ اپنا اپنا حصہ والدہ کوبخش سکتے ہیں ۔

۴۔اگرکسی وارث کا مطالبہ ہو کہ تمام میراث تقسیم کی جائے توپھر تو تمام میراث تقسیم کرناضرورہوگااوربہتربھی یہی ہوگا کہ میراث جلداورپوری تقسیم کی جائے تاکہ بعدمیں جھگڑے پیدانہ ہوں، تاہم اگرتمام ورثہ باقی میراث کی عدم تقسیم پر راضی ہوں اورصرف  ایک جائیداد ہاہمی اتفاق سے فروخت کرنا چاہتے ہوں  تووہ ایسا بھی کرسکتے ہیں ،اس صورت میں  صرف اس جائیداد میں ان کے شرعی حصے معلوم کرلینا ہونگے ،تاکہ  فروخت کے بعدوصول ہونے والی رقم کو ان  کےحصوں کے حساب سے ان پر تقسیم کی جائے۔

حوالہ جات

{وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ} [النساء: 11]

{ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: 11]

وفی المبسوط للسرخسي (18/ 34)

 وجه قوله الآخر أن حياة الوارث عند موت المورث شرط ليتحقق له صفة الوراثة.

وفی تكملة الطوري شرح كنز الدقائق (8/ 577)

لأن الإرث يبنى على اليقين بسبب الاستحقاق وشرطه وهو حياة الوارث بعد موت المورث ولم يثبت ذلك فلا يرث بالشك.

وفی اللباب في شرح الكتاب (2/ 217)

ومن شرط الإرث تحقق موت الموروث وحياة الوارث.

لمافی القرآن الکریم

{وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا} [النساء : 8]

وفی تکملہ فتح الملہم:

إن الأصل الأول في نظام المیراث الإسلامي: أن جمیع ماترک المیت من أملاکہ میراث للورثۃ ۔ (کتاب الفرائض، جمیع ماترک المیت میراث، مکتبۃ اشرفیۃ دیوبند ۲/)

وفی شرح المجلۃ:

إن أعیان المتوفي المتروکۃ عنہ مشترکۃ بین الورثۃ علی حسب حصصہم۔ (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز، مکتبۃ اتحاد دیوبند ۱/۶۱۰، رقم المادۃ: ۱۰۹۲)

وفی مجلۃ الاحکام العدلیہ  :

"المادة (1130) إذا طلب أحد الشريكين القسمة وامتنع الآخر فيقسمه القاضي جبرا إن كان المال المشترك قابلا للقسمة وإلا فلا يقسمه."((الکتاب العاشر؛الشرکات،الباب الثانی فی بیان القسمۃ،الفصل الثالثفی بیان قسمۃ الجمع،ص:۲۱۸،نور محمد کتب خانہ)

وفی الدر المختار: (كتاب القسمة، 260/6، ط: دار الفکر)

"(وقسم) المال المشترك (بطلب أحدهم إن انتفع كل) بحصته (بعد القسمة وبطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) وفي الخانية: يقسم ‌بطلب ‌كل وعليه الفتوى، لكن المتون على الأول فعليها المعول"

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

15/07/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب