03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
منہ بولے بیٹے کا ماں کے نیچے دب کر مرجانا
82653قصاص اور دیت کے احکاممتفرق مسائل

سوال

ایک عورت نے کسی اور سے بچہ لیا اور اس کو اپنا بچہ بنایا،چھ ماہ کی عمر میں وہ بچہ اس عورت کے نیچے دب کر مرگیا،اب اس حوالے سے درج ذیل سوالات ہیں:

1۔کیا اس عورت پر کفارہ لازم ہے؟ کیونکہ یہ تو اس کا اپنا بچہ نہیں ہے۔

2۔کیا یہ عورت اس بچے کی میراث سے محروم ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بچہ اپنا ہو یا کسی اور کا،سوتے میں اس کا کسی کے نیچے دب کر مرجانا قتل قائم مقام خطا کے حکم میں ہے،اس لئے مذکورہ خاتون پر بھی وہی احکام لاگو ہوں گے جو ماں کے نیچے بچے کے دب کر مرنے کے صورت میں ماں پر لاگو ہوتے ہیں،لہذا

1. خاتون بے احتیاطی کی وجہ سے گناہگار ہوئی،اس لیے ندامت کے ساتھ توبہ و استغفار واجب ہے۔

2. دو مہینے مسلسل روزے رکھے گی،اگرقمری مہینے کی پہلی تاریخ سے شروع کیے تو چاند کے حساب سے دو مہینے شمار ہوں گے اور اگر پہلی تاریخ کو شروع نہ کیے تو ساٹھ روزے پورے کرے گی۔

3.  منہ بولے بیٹے کی میراث میں اس کی حقیقی ماں کو حصہ ملتا ہے،سوتیلی ماں کو ویسے بھی حصہ نہیں ملتا۔

4. عورت کے عاقلہ پر دیت)02ء34 کلو گرام چاندی(واجب ہوگی،جو اس بچے کے ورثہ میں میراث کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔

عاقلہ کی تفصیل:

اگر قاتل اہل دیوان میں سے ہو یعنی کسی سرکاری محکمے سے تعلق رکھتا ہو تو اس کے عاقلہ اہل دیوان ہوں گے یعنی اس شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ،اہل دیوان سے مراد وہ عاقل،بالغ لوگ ہیں جن کے نام سرکاری طور پر اس لیے درج ہوں کہ کسی خدمت کے عوض یا ضرورت کی بناء پر سرکاری خزانے سے وظیفہ لے رہے ہوں۔

دراصل عاقلہ کا مدار باہمی تعاون و تناصر پر ہے،یعنی وہ لوگ جو مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے کے عاقلہ ہوتے ہیں،اس زمانے میں باہمی تعاون و تناصر کی کئی صورتیں ہیں،مثلا سیاسی جماعتیں،اہل حرفت تاجروں اور مزدوروں کی یونین یا تنظیمیں وغیرہ،لہذا اگر قاتل کسی سیاسی جماعت یا کسی تنظیم کا رکن ہو تو اس کی عاقلہ وہ جماعت یا تنظیم ہوگی۔

 اور اگر کوئی قاتل نہ اہل دیوان میں سے ہو اور نہ ہی وہ کسی جماعت یا تنظیم کا فرد ہو تو اس کے عاقلہ اس کے ٕعصبہ )وہ قریبی رشتہ دار جو خود بھی مرد ہو اور اس کے ساتھ رشتے کی نسبت میں سب مرد ہوں،کسی عورت کا واسطہ بیچ میں نہ آئے،جیسے بیٹا،باپ،دادا،چچا وغیرہ(ہوں گے اور وراثت کی ترتیب کے مطابق ان پر دیت واجب ہوگی،یعنی پہلے بیٹوں پر،پھر باپ،دادا پر،پھر بھائیوں پر،پھر بھتیجوں پر،پھر چچاؤں پر،پھر چچازاد بھائیوں پر۔

بچے کی دیت دس ہزار درہم چاندی یا اس کی قیمت ہے،جس کی مقدار گرام کے لحاظ سے 02ء34کلو گرام بنتی ہے،جسے تین سالوں میں وصول کیا جائے گا اور ایک شخص سے ایک سال میں536ء4گرام چاندی سے زیادہ نہیں لیا جائے گا۔

نیز بچے کے باپ کو معاف کرنے کا بھی اختیار ہے،اگر وہ معاف کردے تو اس خاتون کے ذمے سے دیت ساقط ہوجائے گی،مسئولہ صورت میں چونکہ اس خاتون سے انجانے میں ایسا ہوا ہے،اس لیے معاف کرنا ہی بہتر ہے۔

حوالہ جات

......

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

04/رجب 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب