| 82645 | خرید و فروخت کے احکام | قرض اور دین سے متعلق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
مصطفی (سائل)سعودی عرب میں ایک کمپنی کے ساتھ کام کرتاہے،اس کی تنخواہ 3000(تین ہزار)ریال ماہانہ ہے،لیکن تقریباً چار مہینوں سے اس کو تنخواہ نہیں ملی،جب تنخواہ ملتی ہے تو ایک بنگالی سپلائرکے اکاؤنٹ میں بھیجی جاتی ہے، پھر وہ بنگالی سپلائر ملازمین کو دیتا ہے، اوراس بنگالی سپلائرکا کام یہ ہے کہ یہ ملازمین ڈھونڈ کر کمپنی میں لگاتا ہےاوران ملازمین سے کمیشن لیتاہے ،مثلاً:اگرکمپنی3000ریال تنخواہ دیتی ہے تویہ سپلائر ملازمین کو 2000 دے کر1000ریال خود لیتاہے، لیکن سائل مصطفی اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ براہِ راست اس کمپنی میں ملازمت کررہا ہے، بنگالی سپلائرکے واسطے سے نہیں، لہذا یہ 3000مکمل لیتاہے، لیکن اس کی تنخواہ بھی اس بنگالی کے واسطے سے دی جاتی ہے،اب مسئلہ یہ ہے کہ براہِ راست ملازمین کو 4مہینوں سے تنخواہ نہیں ملی تو انہوں نے بنگالی سپلائرسے اپنی تنخواہ پہلے لینے کا مطالبہ کیا، اس نے اس شرط پر رضامندی ظاہرکی کہ جیسے وہ دوسرےملازمین سے کمیشن لیتاہے اسی طرح ان سے بھی کمیشن لے گا ،یعنی ابھی ان کو 2000ماہانہ دے گا، لیکن جب ان کی تنخواہ 3000آجائے تو وہ ساری خود لےلے گا،پوچھنایہ ہےکہ
١۔کیا مذکورہ معاملہ جو بنگالی سپلائرکیساتھ طے ہوا ہے شرعاً درست ہے ؟
۲۔مذکورہ بالابراہِ راست بھرتی ہونے والے ملازمین میں سے دو کےدرمیان ایک معاہدہ ہوا ہے وہ اس طرح کہ جب ان دوملازموں میں سے کسی کو بنگالی سپلائر کے توسط سے تنخواہ پہلے ملے گی اوروہ بنگالی سپلائرکو 1000روپےکمیشن دےکر تنخواہ وصول کرلے گاتووہ اوردوسراساتھی آپس میں اس تنخواہ کو نصف نصف تقسیم کریں گے یعنی 2000میں سے 1000ایک ساتھی لے گا اوردوسرا1000دوسرا ساتھی،پھر جب دوسرے ساتھی کی تنخواہ اپنے وقت پر پوری آجائے گی یعنی 3000ریال تو وہ بھی یہ دونوں ساتھی آپس میں نصف نصف تقسیم کریں گے یعنی 1500ریال ایک ساتھی لے گا اور1500ریال دوسرا ساتھی لے گا۔ پوچھنایہ ہےکہ
کیا مذکورہ معاہدہ جوبراہِ راست بھرتے ہونے والےدو ملازموں کے درمیان طے ہوا ہے، کیا شرعاً درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
١۔ بنگالی سپلائرکا اپنی طرف سے 2000ریال دیکربعد میں اس کے بدلے 3000ریال آپ لوگوں سے لینا جائز نہیں ہے،اس لیے کہ یہ قرض کا معاملہ ہےاوراس پر نفع لیناسود ہے،جو شرعاً حرام ہے۔
۲۔یہ معاہدہ بھی شرعی لحاظ سے جائز نہیں ہے، اس لیےکہ اس میں ایک ساتھی دوسرےکو 1000ریال دے گا اور بدلے میں 1500ریال لے گا جوکہ سود ہے اورحرام ہے۔
حوالہ جات
وفی تبيين الحقائق (16/ 427):
كل قرض جر منفعة لا يجوز مثل أن يقرض دراهم غلة على أن يعطيه صحاحا أو يقرض قرضا على أن يبيع به بيعا ؛ لأنه روي أن كل قرض جر منفعة فهو ربا ، وتأويل هذا عندنا أن تكون المنفعة موجبة بعقد القرض مشروطة فيه ، وإن كانت غير مشروطة فيه فاستقرض غلة فقضاه صحاحا من غير أن يشترط عليه جاز.
السوال: بعض الوكلاء على رواتب الموظفين يأخذ خصمًا على راتب الموكل مقداره مثلاً عشرون ريالاً، فإذا كان راتب ذلك الموظف (الموكل) 2000 فأخذ الوكيل على راتبه عشرين ريالاً مثلاً مقابلاً للخدمة التي يقوم بها، وإذا تأخر الراتب عن موعد الصرف يقوم الوكيل بصرف الراتب للموكل من عنده على أن يأخذ الخصم المذكور سابقًا. فما الحكم في ذلك حفظكم الله؟
الجواب:ما يأخذه الوكيل من راتب الموظف الموكل بعد استلام الراتب وتسليمه له جائز شرعًا إذا اتفقا على ذلك، وعلى قدر الأجرة التي يأخذها؛ لأن ذلك في مقابل المنفعة التي قام بها للموكل. أما إن تأخر الراتب وصرف الموكل له من عنده بعد الخصم أجرة وكالته من راتبه ثم استلم بعد ذلك الراتب كاملاً فإن ذلك ربًا يحرم التعامل به؛ لأن حقيقة ذلك أنه أقرضه مالاً واسترد أكثر منه مالاً، وذلك عين الربا، وكل قرض جر نفعًا فهو ربًا. وبالله التوفيق، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم. (فتاوى اللجنة الدائمة ،رقم الفتوى: 20788،المصدر: الموقع موسوعة الفتاوى)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
4/07/1445
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


