03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بچپن میں منگنی کردی گئی تواس کو توڑاجاسکتاہے؟
82644نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

سوال:کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ جیسے ہمارے ہاں منگنی کا طریقہ کارہے کہ اکثر وبیشتر  بچوں کی کم عمری میں منگنی کردی جاتی ہے اورمنگنی کا طریقہ کار یہ ہوتاہے کہ  منگنی کے وقت ایک نکاح ہوتاہے اور رخصتی یاشادی کے وقت بھی ایک نکاح ہوتاہے جبکہ اصل ترجیج اس نکاح کو حاصل  ہوتی ہے جو رخصتی کےوقت ہوتاہے ۔

مسئلہ یہ ہے کہ ایک بچے کی چار سال کی عمر میں منگنی ہوتی ہے ایک لڑکی سے اورمنگنی کے وقت چونکہ بچہ میں ایجاب وقبول کی حس نہیں تھی تو بچے کے "تایادادا "(والد کے بڑے چاچا) نے اس وقت بچے کی طرف سے ایجاب کے لیے وکیل بنے تھے اب دس سال گزرنے کے بعد بچہ چھوٹاہے اور بچی بڑی ہے جس کے درمیان اس عقدکو فسخ کیا جاناہے تو اس کی کیا صورت ہوگی دونوں بچوں  میں طلاق کی ضرورت ہوگی یا یہ منگنی اور نکاح  ایک عہد تھا  اس کو تھوڑ دیا جائے گا اس کی مکمل تشریح کے ساتھ وضاحت فرماکر ممنون فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسئلہ یہ ہےکہ چھوٹےبچےاوربچی کانکاح اگروالدیاداداکےعلاوہ کسی اورنےکروایاہوتوبالغ ہونےکےبعد خودبچےکو خیاربلوغ حاصل ہوتاہے۔

صورت مسئولہ میں اگرپہلےصرف منگنی ہوئی تھی باقاعدہ نکاح (جس میں باقاعدہ مہر متعین کرکےدوگواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کیاجاتاہے)نہیں ہواتھاتوصرف اس کی حیثیت وعدہ کی ہے،اس صورت میں چونکہ نکاح نہیں ہوا،لہذامنگنی کو توڑنےکااختیارہوگا۔

نوٹ:واضح رہےکہ بغیرکسی معتبروجہ کےوعدہ خلافی کرناجائزنہیں ،اس لیےحتی الامکان کوشش کرنی چاہیےکہ وعدہ کی خلاف ورزی نہ ہو،اوربغیرکسی وجہ کےوعدہ خلاف ورزی کی صورت میں توبہ واستغفاربھی ضروری ہوگا۔

اوراگرپہلےبھی باقاعدہ نکاح ہوگیاتھاتوبھی مذکورہ صورت میں اس نکاح کوختم کرنےکی شرعااجازت ہے، کیونکہ نکاح والد یادادانےنہیں کروایا،(والدکےبڑےچچانےکروایاہے)لہذابالغ ہونےکےبعددونوں کوخیاربلوغ حاصل ہوگااوراگرلڑکااس نکاح کو برقراررکھنانہیں چاہتا،تونکاح کوختم کرکےکہیں اورنکاح کرسکتاہے۔

لڑکےکااس طرح خیاربلوغ کےذریعہ نکاح سےالگ ہوناشرعافسخ نکاح شمارہوگا۔

حوالہ جات

"ردالمحتار"2461:

وللولی انکاح الصغیروالصغیرۃ ولوثیباولزم النکاح ای بلاتوقف علی اجازۃ احد وبلاثبوت خیارفی تزویج الاب والجد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"الھندیۃ"(1/ 285:وان زوجھما غیرالاب والجد فلکل واحدمنھما الخیار اذا بلغ ۔

"الهداية في شرح بداية المبتدي "1 / 194:

" ثم الفرقة بخيار البلوغ ليست بطلاق " لأنها تصح من الأنثى ولا طلاق إليها وكذا بخيار العتق لما بينا بخلاف المخيرة لأن الزوج هو الذي ملكها وهو مالك للطلاق۔

"تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق 2 / 125:

 قوله: ثم الفرقة بخيار البلوغ لا تكون طلاقا) أي بل فسخ لاينقص عدد الطلاق فلو جدد بعده ملك الثلاث۔

"تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق 2 / 124:

قوله: فلا مهر لها قبل الدخول) ، وهذا فائدة كون الفرقة فسخا اهـ. كاكي (قوله: فلها المهر كاملا) أي لأن العقد المفسوخ لا يوجب شيئا قبل الاستيفاء وبعد الاستيفاء يجب المسمى؛ لأنه استوفى بعقد صحيح، وأثر الفسخ لايظهر في المستوفى ويستوي في ذلك اختياره واختيارها اهـ. كاكي۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

05/رجب      1445ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب