| 82713 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
احمد نے بینک سےگاڑی قسطوں پر لی اور اس کو کچھ وقت کے بعد آگے عبداللہ کو بیچ دی ۔احمد نے عبداللہ سےگاڑی کی پوری قیمت وصول کی جو کہ مارکیٹ میں اس وقت اس کنڈیشن کی گاڑی کی قیمت چل رہی ہےاور احمد نے یہ بات اپنے ذمے لی کہ بقایا کی قسطیں جو بینک کو دینی ہیں وہ میں خود سےادا کرتا رہوں گاتوایسی صورت میں اس کے لیےشرعا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہےکہ کوئی چیز قسطوں پر خرید کر قسطوں کی ادائیگی سےپہلےآگے نقد پر بیچنا شرعا جائز ہے۔ صورت مسوؤلہ میں یہ تفصیل ہے کہ اگراحمد نے کسی سودی بینک سے فائنانسنگ حاصل کرکے گاڑی خریدی ہے اور وہ بینک کو ماہانہ قسطیں ادا کررہاہےتو یہ دراصل سودی قرض لیا ہےجو کہ حرام اور گناہ کبیرہ ہے، البتہ وہ رقم حلال ہے۔لہذا اس مال سے خریدی گئی گاڑی آگےبیچنا جائز ہے۔واضح رہےکہ سودی قرض لینے کی وجہ سے احمد پر توبہ لازم ہےاور فائنانسنگ کےلیے آئندہ اسےاسلامی بینکوں کےطرف رجوع کرناچاہیے۔
اگر کسی اسلامی بینک سے قسطوں پر گاڑی خریدی ہے جو مستند مفتیان کرام کی نگرانی میں چل رہاہے تو گاڑی خریدنا جائز ہے ۔البتہ تمام قسطوں کی ادائیگی سے پہلے گاڑی آگے فروخت کرنا جائز نہیں ،کیونکہ اسلامی بینک Car Financing کے لیے کسٹمرکے ساتھ شرکت متناقصہ (Diminishing Musharakah) کا عقد کرتا ہے،جس میں قسطوں کی ادائیگی تک گاڑی بینک اور کسٹمر کے درمیان ایک معین تناسب سےمشترکہ ملکیت ہوتی ہےاوردوسرےکی چیز اس کی اجازت کے بغیر فروخت کرنے کی شرعااجازت نہیں۔ ایک اسلامی بینک کے دوذمہ دار حضرات سےرابطہ کرنےپر معلوم ہوا ہےکہ شرکت متناقصہ کا عقد کرتے وقت بینک کسٹمر کو قسطوں کی ادائیگی سے پہلے گاڑی آگے بیچنے سے منع کرتا ہےاور بیچنے کی صورت میں بینک اس نئے عقد کی اجازت نہیں دیتا ،البتہ ایسی صور ت میں بینک کسٹمر کو قسطوں کی ادائیگی کے لیے مقررہ تاریخ سے پہلے گاڑی مکمل طور پربیچنے کی آفر کردیتا ہے ۔لہذا صورت مسؤولہ میں احمد پراس نئے عقد کو فسخ کرنا لازم ہے ،پھر چاہے تو بینک کا بقیہ حصہ مقررہ تاریخ سےپہلے خرید کر ازسرنوآگے بیچے اورچاہے تو قسطوں کی ادائیگی کے بعد بیچے۔
حوالہ جات
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (6/ 135)
عرفه شرعا بقوله (فضل مال بلا عوض في معاوضة مال بمال) أي فضل أحد المتجانسين على الآخر بالعيار الشرعي أي الكيل والوزن، ....وترك المصنف قيدا لا بد منه، وهو أن يكون الفضل الخالي مشروطا في العقد لأحد المتعاقدين، وقد قيده به في الوقاية، وقال شارحها إنما قيد به لأنه لو شرط لغيرهما لا يكون ربا.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 531):
(وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع۔
فتح القدير للكمال ابن الهمام (7/ 51):
(ومن باع ملك غيره بغير أمره فالمالك بالخيار، إن شاء أجاز البيع؛ وإن شاء فسخ)... وللفضولي أن يفسخ قبل الإجازة دفعا للحقوق عن نفسه، بخلاف الفضولي في النكاح لأنه معبر محض۔
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید ،کراچی
11/رجب /1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


