03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حرمت مصاہرت سے متعلق ایک مسئلہ کاحکم
82727نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

جناب عرض یہ ہے کہ شبانہ  نامی ایک خاتون  ہے،ان کی  شادی   ایک شخص   سے ہوئی    ،شوہر کا انتقال  ہوا ، اس کے بعد علی نامی شخص  سے  شادی  ہوئی ،شادی کے بعد  پہلے شوہر کی طرف سے ایک چھ سالہ  بیٹی تھی  اس کو لیکر  دوسرے کے گھر آئی ، شوہر کے گھر   چر پانچ  سال  گذرے  تھے کہ  لڑکی نے شکایت کی کہ   میرے سوتیلے ابو میرے ساتھ غلط حرکت  کرتے ہیں ، اس پر سوتیلے باپ   نے قسم کھائی کہ  ایسی کوئی بات نہیں  ہے ،اس کے بعد بچی  کی جلدی  شادی ہوگئی ،اور سسرال چلی گئی ، پھر سسرال کے مسائل  کی وجہ سے  طلاق ہوگئی ،پھر واپس اپنی ماں کے پاس  آگئی ،علی سے  بھی  شبانہ   کے تین بچے ہیں ،ایک  لڑکی  اور دو لڑکے ۔  لڑکی  سسرال سے  واپسی کے بعد   اپنی ماں کے پاس رہنے لگی، اس دوران دوبارہ اپنے سوتیلے  باپ کی شکایت کی  کہ یہ پھر میرے ساتھ چھڑچھاڑ  کرتا ہے ، گندی نظر  سے دیکھتا ہے ،اور ہاتھ لگاتا ہے ،تنہائی میں گندی باتیں  کرتا ہے ،ایک بار اس نے سوتیلی   بیٹی کے موبائل پر گندی وٰیڈیو   بھیجی ،اور مسیج بھی کیا ،جو  اس کی سگی بیٹی اور بیوی  نے دیکھ لی،اس کے بعد بیوی  نظر رکھنے لگی ،ایک دفعہ دیکھا کہ  علی  سوتیلی  بیٹی کے کمرے میں آیا ،بیٹی سو رہی  تھی ،علی اس کے قریب آکر بیٹھے ،جب کمرے سے باہر آئے  تو بیوی نے علی  سے کمرے  جانے کی وجہ پوچھی تو علی نے بتایا کہ  چار جر  لینے آیا تھا ،اس سب  باتوں کے پیش نظر دونوں میں  خوب  لڑائی ہوئی ،اس کے  بعد شبانہ اپنی   بیٹی   کو  لیکر  میکے چلی گئی ،علی  نے  اپنے بڑوں کے سامنے اقرار  کیا  کہ میں غلط نگاہ   ڈالی تھی ،چھیڑ چھاڑ کے لئے ہاتھ بھی لگایا ،شبانہ کہہ رہی  کہ میں نے علی کے ساتھ نہیں رہنا  ہے ، اب سوال یہ ہے کہ علی اور  شبانہ کا نکاح بر قرار ہے یا ختم ہوگیا ؟ شرعی حکم بتادیں .

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اپنی منکوحہ  عورت کی  سابق  شوہر سے بیٹی  جس کو  فقہا کی  اصطلاح  میں ربیبہ کہا جاتا  ہے ،  یہ آدمی کے لئے  اپنی حقیقی  بیٹی کی  طرح  ہے ، آدمی پر لازم  ہے  کہ  اس کی عصمت  کی  بھی اسی طرح حفاظت  کرےجس طرح  اپنی  بیٹی  کی کرتا ہے ، اس کی عصمت  کی  حفاظت کی  بجا ئے خود اس کے ساتھ زنا کاری   کی  کوشش کرناکسی  عام  عورت کے ساتھ  زنا کرنے سے بھی بڑا گناہ ہے  ۔لہذا صورت مسئولہ میں اگر  معاملہ  صرف   غلط نگاہ سے  دیکھنے اور  بدکاری  کی  کوشش کرنے تک  محدود  ہے ،اس سے  آگے بوس  وکنار  ،یازناکاری  جیسا  کوئی  واقعہ پیش نہیں آیا  تو شبانہ اور علی  کے آپس کا نکاح  برقرار ہے ،علی توبہ  استغفار کرے ، اللہ تعالی سے معافی مانگے ،آیندہ  کے لئے اس طرح کی  بری حرکتوں سے خوب احتیاط کرے۔اوراگر  معاملہ آگے  بڑھ گیاتھا کہ  حقیقة  اس شخص سےزناکاری کا گناہ   صادر ہوا ہے یا چومنا ،چہرے  کا  بوسہ لینا وغیرہ  برے افعال جو شرعا زناکے حکم میں داخل ہیں  یا اس کو ہاتھ  لگانے سے الہ  میں انتشار ہوا ہو اورپلے سے  موجود  انتشار میں اضافہ ہوا ہو ،یا اس  طرح کے افعال  وہ صادر  ہوئے ہوں  ،  تو  اس  بدکاری کے نتیجے  میں   اس کی  منکوحہ  بیوی  یعنی مزنیہ  لڑکی کی  ماں  شبانہ  اس شخص  پر حرام  ہوگئی ،اب اس  عورت  کے ساتھ  میاں بیوی کی طرح زندگی گزارنا حرام  ہے ، اس پر لازم ہے  کہ اس کو  طلاق دے کر فاغ  کردے ،آیندہ  کے لئے اس کے  ساتھ  کسی  قسم کا  کوئی   تعلق نہ رکھے ۔

حوالہ جات

مشكاة المصابيح للتبريزي (1/ 11)

وعن أبي هريرة رضي الله عنه إن النبي صلى الله عليه و سلم قال : " لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن ولا يشرب الخمر حين يشربها وهو مؤمن ولا يسرق السارق حين يسرق وهو مؤمن ولا ينتهب نهبة ذات شرف يرفع الناس إليه أبصارهم فيها حين ينتهبها وهو مؤمن ولا يغل أحدكم حين يغل وهو مؤمن فإياكم إياكم "

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 30)

حرمت عليكم أمهاتكم [النساء: 23]

الی قولہ۰۰۰لما تقرر أن وطء الأمهات يحرم البنات ونكاح البنات يحرم الأمهات، ويدخل بنات الربيبة والربيب. الی قولہ ۰۰۰ (و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنا في الوطء الحرام

 (قوله: ويدخل) أي في قوله وبنت زوجته بنات الربيبة والربيبة وثبت حرمتهن بالإجماع وقوله تعالى {وربائبكم} [النساء: 23] بحر

احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

 دارالافتاء جامعة الرشید     کراچی

١١رجب ١۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احسان اللہ شائق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب