| 82823 | سود اور جوے کے مسائل | انشورنس کے احکام |
سوال
ادب سے گزارش ہےکہ سائل خالد یاسین نے اپنا اکاونٹ بنک الفلاح اسلامک جوہر آباد ضلع خوشاب میں اس لیے اوپن کرایا کہ یہ بینک اسلامی قوانین کےمطابق اور مفتی صاحبان کی زیر نگرانی کام کرتاہےاور شرعی تکافل کا دعویدار ہے۔اسی بینک سے میں نے ایک پالیسی کرائی ہے تکافل کا نام دیتے ہیں ،جس میں دولاکھ پچاس ہزار سالانہ جمع کرانا ہوتا ہےاس کا دورانیہ دس سال ہے۔ میں کچھ مسائل کی بنیاد پریہ تکافل پالیسی جاری نہ رکھ سکا ۔ بینک نے میراپیسہ چودہ ماہ استعمال کیا اور چودہ ماہ بعد مجھےانہوں نے 250,000 میں سے 59855 روپے صرف واپس کیے اور 190115روپے کٹوتی کرلیے۔ اتنی بڑی کٹوتی میری سمجھ سے بالاتر ہے ۔بینک آجکل سیونگ اکاونٹ کا منافع بھی پندرہ فیصد دیتاہے۔بینک الفلاح اسلامک نے میرے صرف اصل زر سے 78%کٹوتی کی ہے۔
اس امر کی وضاحت کی جائے کہ آیا یہ تکافل کےشرعی اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں؟ اور بینک کے اس طرزعمل کے بارے میں اپنی رائے ارسال فرمائے۔
میزان بینک اس صورت حال میں صرف پانچ فیصد کٹوتی کرتا ہےجس کاثبوت لف ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
تکافل کی جملہ اقسام کےحوالے سے ہماری رائے اب تک توقف کی ہے، لہذا مذکورہ مسئلہ کے حوالے سے بینک الفلاح کے شریعہ بورڈ کے حضرات یا جامعہ دارالعلوم کراچی سے رابطہ کیا جائے۔
حوالہ جات
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
17/رجب/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


