03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بہو کو شہوت کی نگاہ سے دیکھنے اور چھونے کا حکم
82826نکاح کا بیانحرمت مصاہرت کے احکام

سوال

اگر ایک سسر اپنی بہو کو شہوت کی نگاہ سے دیکھے یا اسے شہوت سے چھوئے تو کیا اس سے اس کے بیٹے اور بہو کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں،واضح رہے کہ چھونے کا صرف گمان ہے۔

اگر نکاح ٹوٹ جائے تو تجدیدِ نکاح کی کیا صورت ہوگی؟ یعنی عام نکاح کی طرح دو گواہ اور مہر وغیرہ مقرر کرنا پڑے گا،یا صرف ایجاب و قبول کافی ہوجائے گا؟

تنقیح: دادا جان کا دماغی توازن ٹھیک نہیں تھا،ٹرانسفارمر ٹھیک کرتے وقت اونچائی سے گرگئے تھے،اس کے بعد کافی نشہ بھی کرتے تھے،ان 2019 میں انتقال ہوچکا ہے،لیکن گھر والوں نے یہ مسئلہ ابھی اس طرح بتایا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ دماغی توازن کی خرابی حرمت مصاہرت کے ثبوت سے مانع نہیں ہے،لیکن محض چھونے کے گمان اور فرج داخل کے علاوہ دیگر اعضاء پر شہوت کی نگاہ پڑنے سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی،البتہ یقینی طور پربغیر کسی حائل کے عورت کو شہوت کے ساتھ چھونے سے حرمت مصاہرت کے ثبوت کے لیے درج ذیل شرائط ہیں:

1۔چھونا شہوت سے ہو،یعنی چھونے کے دوران عضو خاص میں انتشار آجائے یا پہلے سے موجود انتشار بڑھ جائے۔

2۔شہوت چھونے کے دوران ہو،اگرچھونے کے بعد)یعنی ہاتھ ہٹالیا اور پھر( شہوت آئی تو حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔

3۔جسے چھوا ہو شہوت اسی پر آئی ہو،لہذا اگر شہوت کسی اور پر آئی اور اس دوران ہاتھ یا بدن کا کوئی حصہ کسی اور عورت سے مس ہوگیا تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔

4۔چھونے کے بعداسی انتشارکی حالت میں  انزال نہ ہوا ہو،اگر انزال ہوجائے تو بھی حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوگی۔

لہذا مذکورہ صورت میں اگر چھونے کا محض گمان ہے،یقین یا ظن غالب نہیں،یا صرف شہوت کی نگاہ سے دیکھا ہے،چھوا نہیں تو حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی،لیکن اگر مذکورہ بالا تمام شرائط کے ساتھ یقینی طور پر چھوا ہو تو پھر بہو بیٹے پر حرام ہوگئی اور تجدیدِ نکاح کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (3/ 36):

"وتكفي الشهوة من أحدهما،، ومراهق، ومجنون وسكران كبالغ".

قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ:" (قوله: كبالغ) أي في ثبوت حرمة المصاهرة بالوطء، أو المس أو النظر ولو تمم المقابلات بأن قال كبالغ عاقل صالح لكان أولى ط".

" الدر المختار " (3/ 32):

"(و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنا في الوطء الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة (وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) ولو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (وفروعهن) مطلقا.

والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته به يفتى وفي امرأة ونحو شيخ كبير تحرك قبله أو زيادته وفي الجوهرة: لا يشترط في النظر لفرج تحريك آلته به يفتى هذا إذا لم ينزل فلو أنزل مع مس أو نظر فلا حرمة به يفتي ،ابن کمال وغیرہ".

قال ابن عابدین رحمہ اللہ": (قوله: والعبرة إلخ) قال في الفتح: وقوله: بشهوة في موضع الحال، فيفيد اشتراط الشهوة حال المس، فلو مس بغير شهوة، ثم اشتهى عن ذلك المس لا تحرم عليه. اهـ".

"رد المحتار"(3/ 33):

"ويشترط وقوع الشهوة عليها لا على غيرها لما في الفيض لو نظر إلى فرج بنته بلا شهوة فتمنى جارية مثلها فوقعت له الشهوة على البنت تثبت الحرمة، وإن وقعت على من تمناها فلا".

"الهداية في شرح بداية المبتدي" (1/ 188):

"ولو مس فأنزل فقد قيل إنه يوجب الحرمة والصحيح أنه لا يوجبها لأنه بالإنزال تبين أنه غير مفض إلى الوطء وعلى هذا إتيان المرأة في الدبر".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

17/رجب1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب