03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اہل بدعت کے ذبیحہ کاحکم
82889ذبح اور ذبیحہ کے احکام ذبائح کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے شہر  میں  بہت سے بریلوی  قصائی کا  کام کرتے ہیں ،تو سوال یہ ہے کہ ان کے ذبیحہ کا کیا حکم ہے ،ان کے ذبح شدہ   جانور کا گو شت استعمال کرنا   جائز  ہے یانہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح  ہوکہ اہل بدعت  میں سے جن کے  عقائد  حد  شرک تک  پہنچ چکے ہوں  ،کہ وہ  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے متعلق    مختار کل  ہونے  یا ہرجگہ  حاضر ناضر ہونے کا عقیدہ  رکھتے  ہوں ،ان کے  ہاتھ کا  ذبیحہ حلال  نہیں  ہے،  لہذا  شرکیہ  عقیدے کا اقرار کرنے والا یا  پرچارکرنے والا شخص  اگر کوئی    جانور ذبح کرے  تو اس  کے ذبیحہ  کا  گوشت  حرام ہوگا ،اور جو اہل  بدعت صرف عملی  بدعت میں مبتلا ہوں  اور  عقیدہ  درست  ہوں صرف  تیجہ چالیسواں جیسی  بدعات  میں  مبتلا ہوں  ،اس کا ذبیحہ  حلال  ہے۔

اس وضاحت  کے  بعد  آپ کے  سوال  کا جواب یہ ہے کہ بریلوی حضرات کے متعلق عمومی حکم یہی ہے کہ ان کا ذبیحہ حلال ہے ۔کیونکہ جب تک کہ کسی فرد کے متعلق یقینی طور پر ثابت نہ ہوجائے کہ اس کا عقیدہ شرکیہ ہےتب  تک اس کے  مشرک ہونے اوراس کے ذبیحہ  حرام ہونے کا فتوی    نہیں دیاجائے گا،ہاں البتہ  اگر کسی فرد کا عقیدہ  شرکیہ  ہونا  واضح  ہوجائے ،تواس کےذبیحہ  کو  حرام کہاجائے گا۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 296)

(وشرط كون الذابح مسلما حلالا خارج الحرم إن كان صيدا)'

             احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ    

       دارالافتاء جامعة الرشید     کراچی

١۸ رجب ١۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احسان اللہ شائق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب