03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٹیکس قوانین پر عمل در آمد کرنے والی کمپنی میں ایک مخصوص ملازمت کا حکم
82914جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ معزز مفتیان کرام ! میں دبئی میں ایک ایسی کمپنی میں بطور "مینیجر ٹیکس" ملازمت کرتا ہوں جو دیگرکمپنیوں کو حکومت کی طرف سے عائد کردہ ٹیکس کے قوانین سے آگاہ بھی کرتی ہے اور ساتھ ہی ان کمپنیوں کو ان قوانین پر عمل درآمد کرنے کی عملی مدد بھی کرتی ہے ۔ٹیکس کے بہت سے قوانین میں سے ایک قانون یہ بھی ہے کہ ایک کمپنی اپنی کسی دوسری "متعلقہ کمپنی" کے ساتھ" مارکیٹ ریٹ" پر ہی مالی لین دین کرسکتی ہے - "متعلقہ کمپنی" کی مثالیں یہ ہیں :کہ ایک کمپنی میں ایک بھائی اور دوسری کمپنی میں دوسرا بھائی مالک ہے ،اسی طرح ایک کمپنی کا میاں اور دوسری کمپنی کی بیوی مالک ہے ۔ اس قانون کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب ایک متعلقہ کمپنی اپنی دوسری متعلقہ کمپنی کو قرض دیتی ہے تو اس قرض پر سود وصول کرتی ہے، کیونکہ مارکیٹ میں بغیر سود کے قرضے نہیں دیے جاتے ،بالفرض اگر کوئی کمپنی "بغیر سود" کے قرض دے بھی دے تو حکومت قانونی کاروائی اور جرمانہ عائد کر سکتی/کرتی ہے ۔یہ قانون پاکستان کے ساتھ ساتھ تقریباً تمام مسلمان اور دیگر ممالک میں بھی رائج ہے- اس قانون سازی کا مقصد یہ ہے کہ جب سود کی کمائی کی صورت میں ایک کمپنی پیسے وصول کرے گی تو حکومت اس کمائی پر ٹیکس وصول کر کے اپنا سرکاری خزانہ بھرے گی ،کیونکہ ٹیکس تب ہی ممکن ہے کہ جب کوئی کمائی اور انکم ہو۔اگر کمائی یا انکم نہیں تو ٹیکس نہیں جس کی وجہ سے حکومت کو مالی نقصان ہوتا ہے ۔ بطور "مینیجر ٹیکس" میری پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ میں درج بالا ٹیکس کا قانون لکھتا ہوں ( ایک کمپنی کو سود کے ساتھ قرض دینا پڑے گا) اور دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ میں اس بات کی تحقیق کرتا ہوں کہ مارکیٹ میں قرض کس شرح سود(انٹرسٹ ریٹ) پر دیا جا رہا ہے، اور پھر یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ قانون کے تحت ایک کمپنی کو کتنا سود وصول کرنا ہوگا اور پھر یہ دستاویز اپنے سینئر مینیجر کو نظر ثانی کے لیے پیش کرتا ہوں جس کی تصدیق کے بعد میں یہ دستاویز متعلقہ کمپنی کو "ای میل" کر دیتا ہوں اور میری اس "ای میل" کی بنیاد پر ایک متعلقہ کمپنی اپنی دوسری متعلقہ کمپنی سے سودی لین دین کرتی ہے۔ آپ حضرات سے سوال یہ ہے کہ میرا درج بالا کام کرنا شرعا جائز ہے کہ نہیں جبکہ یہ کام میرے بہت سے کاموں میں سے ایک کام ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت مطہرہ میں جس طرح سود کا لین دین حرام ہے اسی طرح سودی معاملات میں کسی بھی قسم کا تعاون کرنا بھی ناجائز و حرام ہے۔ صورت مسئولہ میں آپ نے اپنے کام اور ذمہ داریوں کی جو تفصیلات لکھی ہیں ، اگر وہ واقعتا درست ہیں تواس کا تعلق اگر چہ براہ راست سودی معاملات اور لین دین سے نہیں ہے لیکن سودی معاملے میں تعاون ضرور ہے، جن میں سودی دستاویزات کی لکھت پڑھت ، کمپنیوں کو سود پر قرضے دینے کی تلقین کرنا اور اس کے لیے شرح سود کا جائزہ لے کر سودی قرضے دینے کی تجاویز پیش کرنا و دیگر سود ی قوانین کا اجراء شامل ہے۔ مذکورہ بالا ناجائز امور کی وجہ سے آپ کا ان معاملات میں کام کرنا شرعا جائز نہیں، جتنا جلد ہوسکے اپنی ان ناجائز ذمہ داریوں سے دستبردار ہوں اور کمپنی کے دیگر غیر سودی معاملات جو ٹیکس کی و صولی اور اس کے حساب وکتاب سے متعلق ہوں ، ان میں اپنے فرائض سرانجام دینے کے لیے کمپنی سے درخواست کریں۔ اگر کمپنی آپ کی درخواست قبول نہ کرے، بلکہ آپ کو مفوضہ کاموں کے لیے برقرار رکھنے پر اصرار کرے تو اگر دوسری جائز ملازمت نہیں ملتی تو جس قدر سودی معاملات میں تعاون والے کام کا تناسب ہے، اس کے مطابق کمائی کا اتنا حصہ صدقہ کرتے جائیں اور استغفار بھی کریں اور جائز کاروبار تلاش کرنے کی کوشش بھی جاری رکھیں ۔

حوالہ جات

صحيح مسلم :(3/ 1219): (1598) حدثنا محمد بن الصباح، وزهير بن حرب، وعثمان بن أبي شيبة، قالوا: حدثنا هشيم، أخبرنا أبو الزبير، عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء» شرح النووي على مسلم (5/ 468): وفيه : تحريم الإعانة على الباطل۔ تکملۃ فتح الملھم)1/575(: وقال فی تکملۃ فتح الملھم : روی الإمام المسلم رحمہ اللہ عن عبد اللہ ،قال : لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا ، ومؤکلہ ،قال : قلت: وکاتبہ وشاھدیہ؟ قال : إنما نحدث بما سمعنا .قولہ : (وکاتبہ) : لأن کتابۃ الربا إعانۃ علیہ ،ومن ھنا ظھر أن التوظف فی البنوک الربویۃ لا یجوز ، فإن کان عمل الموظف فی البنک ما یعین علی الربا ،کالکتابۃ أو الحساب ،فذلک حرام لوجھین :الأول:إعانۃ علی المعصیۃ ،والثانی : أخذ الأجرۃ من المال الحرام .ثم قال : فإذا وجد بنک معظم دخلہ حلال ،جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الأعمال ، واللہ أعلم . :(فقہ البیوع:2/1032) قال شیخ الإسلام المفتی محمد تقی العثمانی دامت برکاتھم : فإن کانت الوظیفۃ تتضمن مباشرۃ العملیات الربویۃ ،أو العملیات المحرمۃ الأخری ،فقبول ھذہ الوظیفۃ حرام ،وذلک مثل : التعاقد بالربا أخذا ، أو عطاء ، أو حسم الکمبیالات ،أو کتابۃ ھذہ العقود ....... فإن الإدارۃ مسؤلۃ عن جمیع نشاطات البنک التی غالبھا حرام ، ومن کان مؤظفا فی البنک بھذا الشکل ،فإن راتبہ الذی یأخذ من البنک کلہ من الأکساب المحرمۃ .أما إذا کانت الوظیفۃ لیس لھا علاقۃ مباشرۃ بالعملیات الربویۃ،مثل وظیفۃ الحارث ،أو سائق السیارۃ .....أو تحویلھا من بلد إلی بلد ،فلا یحرم قبولھا إن لم یکن بنیۃ الإعانۃ علی العملیات المحرمۃ ، وإن کان الاجتناب عنھا أولی ، ولا یحکم فی راتبہ بالحرمۃ ۔

صفی اللہ

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

20/رجب المرجب/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صفی اللہ بن رحمت اللہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب