03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ارتکابِ زنا پر بیوی کو طلاق دینے سے گریز کیا جائے
82841طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

سائل اچھا پڑھا لکھا ہے اور دینی معلومات اور اسکی پریکٹس کرتا اور روزانہ بیان بھی سنتا ، دینی بات بیگم سےبھی شئیر کرتا  ، زوجیت کے حقوق بھی اچھے سے ادا کرتا  ،اچھی آمدن ہے تو الحمدللہ گھر والوں سے لے کر سسرال والوں سے بھی اچھا تعاون کرلیتا ۔ سائل کی زوجہ سائل کی زیادہ وقت توجہ اور تعریف مانگتی جبکہ سائل نوکری کی وجہ سے دن میں مصروف اور رات تھکا ہوا آتا لیکن ہفتہ اور اتوار مکمل چھٹی ہوتی تو گھومنے بھی سب بھائیوں سے زیادہ اپنی بیگم کو لے جاتا اور بھر پور حقوق زوجیت ادا کرتا۔گھر میں اور بھائیوں کی بیویاں بھی ہیں تو عورتوں کی چالاکیوں میں سائل  کی زوجہ کم عمر ہونے کی وجہ سے جو کام کرتی اسکو جتا نہی پاتی تو اسکی تعریف کوئ اور بھابھی سمیٹ لیتی  -- تو زوجہ کا تعریف کا حق مارا جاتا ..  پھر شوہر کو بتاتی تو شوہر بولتا کہ یہ غیبت ہے اپنے معاملات خود ہینڈل کریں گھر میں بڑے ماں باپ موجود ہیں ان کو بولیں۔سائل کے شوہر میں اک اور مسئلہ وہ ماں باپ سے ہوئی کوئ بات آتی تو بولتا تم نے یہ کیوں بتایا ۔۔

اس حالت میں زوجہ کی اپنی اسکول دوست کے کزن سے بات شروع ہو گئ موبائل پر وہ تعریفیں کرتا ،بات سنتا (شاید اسلئے کے وہ بھی کم عمر اور فارغ ہوتا ہو) ۔ زوجہ کو اس تعریف میں مزہ آنے لگا اور روزانہ مرد کے کام پر جانے کے بعد رابطےہوتے رہے .. لیکن ہفتہ اتوار رابطہ نہیں کرتی کہ شوہر گھر میں ہوتا ..موبائیل دیا وقت کی ضرورت سمجھ کر ' اس پر بیگم صاحبہ تصویریں بھیجتیں اس غیر محرم کو ' اور ان تعلقات کی بہنک تک لگنے نہ دی شوہر کو 2/3 سال۔ حالانکہ مرد ہر ہفتے فارغ وقت بیگم کا موبائل چیک کرتا کہ کہیں کوئ پریشان کر رہا ہو اور بیگم بتانے سے ڈر رہی ہو۔لیکن بیگم وہ بات چیت کے میسیجز وغیرہ ڈیلیٹ کردیتی تھیں۔اس نعمت کا اتنا ناجائز استعمال ہوا کے بات زنا تک پہنچ گئ ۔اس سے ایک قدم اور آگے ۔۔ دو دفعہ زنا کے فعل میں مبتلا ہوئیں اور اسکی ویڈیو خود بنائ۔ یہ فعل جب ہوا جب مرد اپنی زندگی کے پہلے چلے 40 پر گیا تھا۔ .حالانکہ سائل جب بھی حق زوجیت ادا کرتا تو لائٹ بند اور موبائل دور رکھتا کے بعد میں یہ ویڈیوز عذاب بنا دیتی زندگیاں۔

ابھی یہ بات صرف 1 بندے شوہر تک پہنچی ہے . سائل بہت پریشانی میں ہے . سائل تو مالی طور پر مضبوط ہے اور اسکی خواہش بھی ہے اور اسکا اظہار بھی کیا ہے کے وہ بے سہارہ سے شادی کرنے کو تیار ہے ۔تھوڑا سوشل کیڑا ہے سائل میں مالی مضبوطی بھی ہے تو یہ خواہش کئ بار بیگم سے بھی کی ہے۔ لیکن اللہ گواہ ہے سائل  جب سنگل تھا تب سے آج تک کبھی زنا نہی کیا۔ زوجہ کے والد مرگئے اور اسکی ماں زندہ ہے  بھائیوں کے پاس اپنے گز ربسر کے لئے پیسے نہیں ہوتے ۔ سائل اس صورت میں بیگم چھوڑ دے کہ وہ زنا کر چکی۔ جبکہ اب وہ بول رہی توبہ اب نہیں ہوگا آگےلیکن سائل کیسے یقین کرے کے اسکے 7 سال کے رشے میں بیگم اسکی اپنی نہیں ہوسکی 6 سال بعدجا کر یہ حرکت کر رہی۔ 2 بچے ہیں اور ابھی 4 ماہ کا حمل بھی ہے . زوجہ کا کہنا ہے زنا کے بعد کئ ماہواریاں ہوئ ہیں تو یہ حمل آپکا ہے ۔سائل فقہ حنفی پر چلنے والا ہے اس صورت میں اسلام کیا بولتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حمل سائل کا  ہی شمار ہوگا۔  اگر بیوی اپنے کیےپر پشیمان ہےتو اس کو معاف کیا جائے اور طلاق سے گریز کیا جائے کیونکہ حضور ﷺ نے طلاق کو حلا ل اشیاء میں سب سے مبغوض قرار دیا ہے  ، مزید یہ کہ طلاق دینے کےبعد یہ بات عوام میں مشہور ہو کر میاں بیوی دونوں کےلیےبے عزتی کا باعث بنے گی جبکہ ابھی کسی کو اس کا پتہ نہیں ہے۔اس طرح طلاق کی وجہ سے بیوی اور بچوں کا مستقبل داؤ پر لگ جائے گا ،اس لیے سائل صبر وتحمل کےفضائل کا استحضار کر کےبرداشت کرلے۔

غیر شرعی تعلقا ت کےسدباب کےلیےضروری ہےکہ سائل اپنی بیوی کو ممکنہ حد تک زیادہ سے زیادہ وقت اور توجہ دے اور شریعت کی حدود کے اندر رہتے ہوئے اس کی تعریف کرے، اس سے سمارٹ فون لےکر  گھر کا مشترکہ موبائل  استعمال کرنے کا پابند بنائے،   بلا اجازت گھر سےنکلنے سے بالکل منع کرے اور اجازت کےساتھ بھی کوئی محرم اس کے ساتھ جائے ، اپنے قریبی رشتہ داروں کےعلاوہ کسی کےہاں جانے کی اجازت نہ دے،آئندہ یہ جرم پائے جانے پر سب قریبی رشتہ داروں کو مطلع کرنے کی دھمکی دے، سائل غیر ضروری اسفار سے گریز کرے اور ضروری سفر پر جاتے ہوئے گھر کی نگرانی کامناسب انتظام کرکےجائے ۔مزید یہ کہ زنا سےمتعلق وعیدیں بیوی کو سنائےاور  حسب استطاعت وقتا فوقتا دو رکعت صلاہ الحاجہ پڑھ کر بیوی  کی اصلا ح کے لیے دعا کرے۔

گھر یلو شکایات کا سدباب یوںممکن ہے کہ سائل بیوی کی اصلاح کی نیت سے اس کی باتیں سنے، جہاں وہ غلطی پر ہو اس کی اصلاح کرے اور جہاں اس کےساتھ زیادتی ہورہی ہو وہاں بیوی کو صبر وتحمل کی تلقین کرے۔ اگر یہ طریقہ         کامفید ثابت نہ ہوتو مشترکہ فیملی سے علیحدگی اختیار کرکے اسی گھر میں الگ کمرہ ،کیچن او رواش روم دیا جائے،  البتہ اس علیحدگی کی وجہ سے صلہ رحمی  اور والدین کے حقوق کی ادائیگی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

حوالہ جات

...

نعمت اللہ

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

20/رجب/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب