| 82929 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
سوال:کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلےکےبارےمیں کہ ہمارے خاندان یا دوست احباب میں شادیاں ہوتی ہیں، جس میں مرد اور عورتیں ایک ہی ہال میں اکھٹے بیٹھے ہوتے ہیں۔
اکھٹے بیٹھنے کی وضاحت کرتا چلوں کہ مرد حضرات ہال کے ایک طرف بیٹھتے ہیں اور عورتیں دوسری طرف، لیکن درمیان میں کوئی پردہ نہیں ہوتا، جس سے مرد عورتوں کو بھی دیکھ سکتے ہیں اور عورتیں مردوں کو بھی دیکھ سکتی ہیں۔ اکثر گھر کے مرد عورتوں والی جگہ پر ملنے چلے جاتے ہیں اور اکثر گھر کی عورتیں مردوں والی جگہ پرملنے چلی جاتی ہیں ،ساتھ ہی ساتھ ان شادیوں میں میوزک گانے بھی چل رہے ہوتے ہیں،اس حوالےسےدرج ذیل سوالات ہیں:
سوال:۱۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں گانا بجانا اور مرد عورت کا مخلوط اجتماع ہو تو ایسی شادی بیاہ کی تقریبات میں جانا جائز ہے یا ناجائز اورحرام ہے؟
۲۔ شادی بیاہ کی تقریبات جس میں گانا بجانا نا ہو لیکن مرد عورت کا مخلوط اجتماع ہو تو ایسی شادی بیاہ کی تقریبات میں جانا جائز ہے یا ناجائزاور حرام ہے۔
۳۔ اگر ہم ایسی تقریبات میں شامل ہونگے تو کیا ہوگا؟ گناہگار ہونگے؟ ایسی تقریبات گناہ کبیرہ کے زمرے میں آئیں گی یا گناہ صغیرہ کے؟
۴۔ ایسی شادہ بیاہ تقریباب جو قریبی رشتے داروں کی ہوں اور اس میں گانا بجانا اور مرد عورت کا مخلوط اجتماع ہو تو ایسی حالت میں بندہ کیاکرے؟ جانے کی کیا گنجائش ہو سکتی ہے؟ جبکہ آپ وہاں جا کر نہ تو مرد عورتوں کے درمیان پردہ کروا سکتے ہیں اور نہ ہی گانا بجانا رکوا سکتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۱،تا ۴۔شادی بیاہ کی ایسی تقریب جو مخلوط ماحول، موسیقی و دیگر فضولیات سے آلودہ ہو ں، اس میں شرکت کرنا درست نہیں، اگر پہلے سے معلوم ہو کہ تقریب میں یہ سب خرافات ہوتی ہیں تو ایسی تقریب میں شریک ہونا بالکل درست نہیں، البتہ اگر پہلے سے اس بات کا علم نہ ہو اور وہاں پہنچنے پر یہ معلوم ہویا قریبی عزیز کی شادی ہو اور شرکت نہ کرنے پر قطع تعلقی کا اندیشہ ہو تو اس نیت سے جائے کہ ان منکرات کو حتی الوسع روکنے کی کوشش کرے گا،پھر وہاں جا کراگرروک سکےتوبہت اچھا،اوراگرروکنےکےباجود لوگ بازنہ آئیں توتقریب چھوڑدےاوراگرتقریب چھوڑکرجانےکی صورت میں قطع تعلقی اوراختلاف وانتشار کازیادہ خطرہ ہوتوشریک ہوجائےاور دل ہی دل میں براسمجھ لے،امیدہے اس پرگنا نہیں ہوگا۔
اگراس طرح کی تقریب میں شرکت کرنےوالا کوئی عالم یادینی راہنماہے،تواس کےلیےاس طرح کی تقاریب میں شرکت کرنااورکھانا کھانا جائزنہیں ،کہیں ایسانہ ہوکہ عام لوگ اس کی شرکت کو خلاف شرع امورکی تائیدسمجھ کر،اس کے اس غلط عمل کی پیروی بھی کرناشروع کردیں،ہاں اگراس بات کایقین ہوکہ اس کی شرکت سے وہ لوگ ناجائزکام ترک کردیں گےتواس کے لئے شریک ہوناجائزہے۔
حوالہ جات
"الدر المختار للحصفكي"5 / 663:(دعي إلى وليمة وثمة لعب أو غناء قعد وأكل) لو المنكر في المنزل، فلو على المائدة لا ينبغي أن يقعد بل يخرج معرضا لقوله تعالى: * (فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين) * (فإن قدر على المنع فعل وإلا) يقدر (صبر إن لم يكن ممن يقتدى به فإن كان) مقتدي (ولم يقدر على المنع خرج ولم يقعد) لان فيه شين الدين، والمحكي عن الامام كان قبل أن يصير مقتدى به (وإن علم أو لا) باللعب (لا يحضر أصلا) سواء كان ممن يقتدى به أو لا، لان حق الدعوة إنما يلزمه بعد الحضور لا قبله، ابن كمال۔
"رد المحتار"26 / ،328:وفي التتارخانية عن الينابيع : لو دعي إلى دعوة فالواجب الإجابة إن لم يكن هناك معصية ولا بدعة والامتناع أسلم في زماننا إلا إذا علم يقينا أن لا بدعة ولا معصية۔۔
( قوله لا ينبغي أن يقعد ) أي يجب عليه قال في الاختيار لأن استماع اللهو حرام والإجابة سنة والامتناع عن الحرام أولى ا هـ وكذا إذا كان على المائدة قوم يغتابون لا يقعد فالغيبة أشد من اللهو واللعب تتارخانية۔۔
( قوله وإن علم أولا ) أفاد أن ما مر فيما إذا لم يعلم قبل حضوره ( قوله لا يحضر أصلا ) إلا إذا علم أنهم يتركون ذلك احتراما له فعليه أن يذهب إتقاني ( قوله ابن كمال ) لم أره فيه نعم ذكره في الهداية قال ط وفيه نظر والأوضح ما في التبيين حيث قال : لأنه لا يلزمه إجابة الدعوة إذا كان هناك منكر ا ۔قلت :لكنه لا يفيد وجه الفرق بين ما قبل الحضور وما بعده ، وساق بعد هذا في التبيين ما رواه ابن ماجه { أن عليا رضي الله عنه قال : صنعت طعاما فدعوت رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء فرأى في البيت تصاوير فرجع } قلت مفاد الحديث أنه يرجع ولو بعد الحضور وأنه لا تلزم الإجابة مع المنكر أصلا ۔
"صحيح مسلم" 1 / 50:عن ابى سعيد الخدرى رضی اللہ عنہ سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من رأى منكم منكرا فليغيره بيده فان لم يستطع فبلسانه فان لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الايمان ۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
22/رجب 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


