| 83050 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
آن کائن کاروبار میں ایک طریقہ ڈراپ شیپنگ کا بھی ہے، ڈراپ شپنگ دو طرح کی ہوتی ہے، ایک عام ڈراپ شپنگ، دوسری ہائی ٹکٹ ڈراپ شپنگ۔
عام ڈراپ شیپنگ:
عام ڈراپ شپنگ میں مثال کے طور پر ایک شخص نیو یارک شہر میں تولیے آن لائن فروخت کرنا چاہتا ہے، وہ پہلے کمپنی بنانے کے لیے نیو یارک شہر میں ایل ایل سی بنائے گا، پھر ویب سائٹ بنائے گا، پھر ویب سائٹ پر تولیوں کی تصویریں پوسٹ کرے گا۔ مثال کے طور پر سپلائر نے ویب سائٹ کے مالک کو بتایا کہ وہ اسے 2$ کی قیمت پر تولیہ دے گا، ویب سائٹ کا مالک اپنی پروڈکٹ کو 3$ میں یا جس قیمت میں بیچنا چاہے بیچ سکتا ہے۔ جب اسے آرڈر ملے گا تو وہ سپلائر سے کہے گا کہ وہ پروڈکٹ کسٹمر کو بھیج دے۔اس طریقہ میں آپ یہ نہیں بتا سکتے کہ یہ کس برانڈ کی پروڈکٹ ہے۔
ہائی ٹکٹ ڈراپ شپنگ:
مثال کے طور پر میں نیو یارک شہر میں فرنیچر آن لائن فروخت کرنا چاہتا ہوں۔ میں پہلے ایک LLC بناؤں گا، پھر میں ایک ویب سائٹ بناؤں گا، پھر میں USA میں سپلائرز سے رابطہ کروں گا اور ان سے پوچھوں گا کہ کیا وہ مجھے اپنے برانڈ کی مصنوعات آن لائن فروخت کرنے کی اجازت دیتے ہیں؟ مثلاً میں 10 سپلائرز سے رابطہ کرتا ہوں، 9 سپلائرز مجھے مسترد کرتے ہیں اور ایک اجازت دیتا ہے کہ میں ان کے برانڈ کی مصنوعات آن لائن فروخت کر سکتا ہوں۔ مثال کے طور پر اس برانڈ کا نام Ikea ہے، یہ امریکہ میں فرنیچر کا ایک بہت مشہور برانڈ ہے، مجھے ان سے اجازت مل گئی کہ میں ان کی مصنوعات آن لائن فروخت کر سکتا ہوں، میں ان کی مصنوعات کی تصاویر اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کروں گا۔ فرض کریں میں اپنی ویب سائٹ پر بیڈ کی تصویریں پوسٹ کرتا ہوں، سپلائر مجھے بتائے گا کہ بیڈ کی قیمت 5 ہزار ڈالر ہے اور وہ مجھے 4 ہزار ڈالر میں دے گا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں وہ بستر جس قیمت میں بیچنا چاہتا ہوں بیچ سکتا ہوں؛ کیونکہ اس کے برانڈ کی ساکھ گر جائے گی، وہ مجھے بتائے گا کہ میں ایک بستر کی ویب سائٹ پر کتنی قیمت لگا سکتا ہوں، شاید وہ مجھ سے کہے کہ ایک بستر کی قیمت چار ہزار پانچ سو ڈالر لکھیں؛ کیونکہ اب میں مجازا اس کی طرف سے آن لائن بیچنے والا ہوں، اور لوگ پہلے سے Ikea کے بارے میں جانتے ہیں، یہ ایک مشہور برانڈ ہے۔ اس طریقہ کار میں میں صرف ایل ایل سی بنانے، ویب سائٹ بنانے اور گوگل پر آن لائن اشتہارات کے لیے پیسے لگاتا ہوں۔
خریداری کرنے کا طریقہ کار:
ایک شخص میری ویب سائٹ پر اس برانڈ کی مصنوعات خریدنے آتا ہے جو میں آن لائن فروخت کر رہا ہوں، وہ "خریدیں" کے بٹن پر کلک کرے گا اور مجھے پوری رقم ادا کرے گا، مثال کے طور پر بستر کی رقم 5 ہزار ڈالر ہے جیسا کہ سپلائر نے مجھے بستر کے لیے 5 ہزار ڈالر کی رقم ڈالنے کو کہا۔ سپلائر ہر پروڈکٹ کی قیمت اپنی طرف سے متعین کرتا ہے، وہ پروڈکٹ اس سے زیادہ میں نہیں بیچا جاسکتا، پھر سپلائر اس قیمت میں سے بیچنے والے کا نفع بھی متعین کرتا ہے، مثلا 5 ہزار کی پروڈکٹ میں چار ہزار سپلائر کے اور ایک ہزار بیچنے والے کے۔ رقم لینے کے بعد سپلائر ٹی سی ایس اور ڈی ایچ ایل جیسی لاجسٹک کمپنیوں یا اپنے ملازمین کے ذریعے یا ان کے علاوہ کسی بھی طریقے سے گاہک کو وہ بستر بھجوائے گا۔ پروڈکٹ ڈیلیور کرنے کے مختلف کمپنیوں کے مختلف طریقے ہوتے ہیں۔
کیا اس طریقے کے مطابق ہائی ٹکٹ ڈراپ شپنگ کا کاروبار اسلام میں جائز ہے؟ کیا یہ طریقہ درست ہوسکتا ہے کہ میں اپنی ویپ سائٹ پر یہ واضح طور پر لکھ دوں کہ میں اس چیز کا مالک نہیں ہوں بلکہ آپ کو کمپنی (سپلائر) سے منگوا کر دوں گا ، اور کسٹمر پوری پیمنٹ مجھے کرے اور میں اپنا کمیشن رکھ کر کمپنی کو دے دوں، وہ کسٹمر کو پروڈکٹ ڈیلیور کردے؟ شریعت میں اس کی کونسی قابل عمل صورت جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ڈراپ شپنگ کا عام طریقۂ کار اس وجہ سے درست نہیں کہ اس میں آرڈر لینے والا شخص ایسی چیز بیچتا ہے جو اس کی ملکیت اور قبضہ میں نہیں ہوتی، اور شرعا کسی چیز کی ملکیت حاصل کرنے اور اس پر قبضہ سے پہلے اس کو بیچنا جائز نہیں۔ جہاں تک ہائی ٹکٹ ڈراپ شپنگ کا تعلق ہے تو سوال میں اس کا جو طریقۂ کار لکھا ہوا ہے، اس کے مطابق ویب سائٹ کا مالک گاہک کو اپنی مصنوعات نہیں بیچتا، نہ ہی قیمت لگانے کا اس کو اختیار ہوتا ہے، بلکہ وہ سپلائر کی بتائی ہوئی قیمت پر اس کی مصنوعات بیچتا ہے جس پر اس کو طے شدہ معلوم کمیشن ملتا ہے، پھر گاہک کو خریدی ہوئی مصنوعات پہنچانا خود سپلائر کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
اگر ہائی ٹکٹ ڈراپ شپنگ میں معاملہ ایسا ہی ہوتا ہے اور آپ سپلائر سے تحریری معاہدہ کرلیں کہ میں صرف آپ کے کمیشن ایجنٹ کے طور پر کام کروں گا، مصنوعات سے متعلق ہر قسم کے خطرات (Risks) آپ کے ذمے ہوں گے، الا یہ کہ میری طرف سے اصول و قواعد کی خلاف ورزی کی وجہ سے کوئی نقصان ہو تو اس کا میں ذمہ دار ہوں گا، اور وہ آپ کی یہ شرط منظور کرلیتا ہے تو پھر یہ معاملہ جائز ہوگا؛ کیونکہ اس میں آپ سپلائر کے وکیل بالاجرۃ یعنی کمیشن ایجنٹ کی حیثیت سے اس کی مصنوعات بیچیں گے اور اپنی خدمات فراہم کرنے کے بدلے ہر پروڈکٹ بیچنے پر متعین اجرت لیں گے۔ البتہ اگر آپ ویب سائٹ پر یہ وضاحت لکھ دیں کہ میں اپنی مصنوعات نہیں بیچتا، بلکہ مختلف سپلائرز کی مصنوعات ان کے لیے بیچتا ہوں تو یہ زیادہ بہتر ہے، یہ لکھنا درست نہیں کہ میں مصنوعات سپلائر سے منگواکر آپ کو دوں گا؛ کیونکہ اس صورت میں آپ نہ سپلائر سے مصنوعات خریدتے ہیں اور نہ منگواکر گاہک کو بیچتے ہیں، بلکہ آپ سپلائر کی نیابت میں مصنوعات بیچتے ہیں اور پھر سپلائر خود مصنوعات گاہک کو پہنچاتا ہے۔
حوالہ جات
المجلة (ص: 291):
مادة 1495: ليس للوكيل أن يبيع بأنقص مما عينه الموكل يعني إذا كان الموكل قد عين ثمنا فليس للوكيل أن يبيع بأنقص من ذلك وإذا باع فينعقد البيع موقوفا على إجازة و موكله ولو باعه بنقصان الثمن بلا إذن الموكل وسلم المال إلى المشتري فللموكل أن يضمنه ذلك المال.
رد المحتار (6/ 63):
مطلب في أجرة الدلال، تتمة: قال في التاترخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسداً لكثرة التعامل، وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
22/رجب المرجب/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


