03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سوئمنگ پول میں جانا
82921جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیا سوئمنگ پول جانا جائز ہے؟ کیونکہ جو تیرتے ہیں وہ ڈھکے ہوئے نہیں ہوتے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوئمنگ پول میں غسل کرنا جائز ہے، البتہ اس بات کا خیال رہے کہ مردوں کے لیے ناف سے لے کر گھٹنے تک کا حصہ ستر ہے جس کا چھپانا ضروری ہے۔ لہٰذا جو لوگ سوئمنگ پول میں غسل کریں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ کپڑے اس طرح کے پہنیں جس سے ناف سے لے کر گھٹنوں تک کا حصہ چھپ جائے،بصورت دیگر وہ گناہ گارہوں گے۔

حوالہ جات

فی سنن أبي داود للسجستاني (ج 4 / ص 109):

عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن النبى -صلى الله عليه وسلم- قال « إذا زوج أحدكم خادمه عبده أو أجيره فلا ينظر إلى ما دون السرة وفوق الركبة ».

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

    ۲۳/رجب ۱۴۴۵ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب