03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خواتین کی کمائی پر حق(خواتین کی کمائی پرکس کا حق ہے؟ بیوی کایاشوہرکا؟)
83067جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

 بیوی اگر جاب کرتی ہیں تو ان کی کمائی پر کس کاحق ہے؟شوہر کا یا بیوی کا؟جبکہ وقت شوہر کے گھر کا وہ اپنی نوکری والی جگہ پر لگاتی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شادی کے بعد اسلام نے میاں بیوی کے لیے انفرادی ملکیت کا اعتبار کیاہے،اعمال کے اعتبار سے ہر ایک کی اپنی کمائی اور ملکیت ہوتی ہے،چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشادہے:

"وَلَا تَتَمَنَّوْا۟ مَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بِهِۦ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا ٱكْتَسَبُوا۟ ۖ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيبٌ مِّمَّا ٱكْتَسَبْنَ ۚ وَسْـَٔلُوا۟ ٱللَّهَ مِن فَضْلِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمًا ﴿32﴾"

ترجمہ: اور جن چیزوں میں ہم نے تم کو ایک دوسرے پر فوقیت دی ہے، ان کی تمنا نہ کرو، مرد جو کچھ کمائی کریں گے ان کو اس میں سے حصہ ملے گا، اور عورتیں جو کچھ کمائی کریں گی ، ان کو اس میں سے حصہ ملے گا۔ اور اللہ سے اس کا فضل مانگا کرو، بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

مثلا:عورت کو بطور میراث یاہبہ کوئی مال ملے یاوہ گھر میں رہتے ہوئے شوہر کے حقوق کی رعایت کے ساتھ سلائی کڑھائی سے کمائے تو یہ آمدن شرعا عورت کی ملکیت شمار ہوگی۔ جس عورت کو معاشی تنگی کا سامنا ہو اور والد، بھائی یا شوہر اس کی ذمہ داری اٹھانے سے قاصر ہوں، تو ایسی مجبور اور ضرورت  مند عورت کے لیے کمانے کی غرض سے گھر سے باہر جانے کی گنجائش ہے، کسی شخص کی بیوی گھر سے باہر جاکر کماتی ہے تو اس عمل کے ساتھ شریعت اورشوہر دونوں کے حقوق متعلق ہوتے ہیں،شرعی لحاظ سے چونکہ نان ونفقہ کی ذمہ داری شوہر پر ہے،اس لیے جب شوہر بیوی کی تمام ذمہ داریاں پوری کررہاہو تو عورت کوکمائی کے لیے گھر سے باہر جانے کا حق نہیں،البتہ اگر وہ خواتین کے ساتھ مختص شعبوں میں  معیار زندگی بلند کرنےکی نیت سےنہیں،بلکہ خدمت خلق اور معاشرتی ضرورت کو پوراکرنے کے لیے  گھر سے باہر جاتی ہے تو شوہر کی اجازت کے ساتھ اورشرعی امور کی رعایت رکھتے ہوئے گھر سے باہر نکلنے کی گنجائش ہے۔بیوی کی کمائی کا حکم یہ ہے کہ شوہر کی اجازت سے جو کچھ بیوی کمائے گی اس پراصولا صرف اسی کا حق ہے، کیونکہ شریعت نے بیوی پر شوہر کا کوئی مالی حق لازم نہیں کیا ہے،لہذاعام حالات میں شوہر  اپنی بیوی کی اجازت کے بغیر اس کی کمائی میں تصرف نہیں کر سکتا،البتہ شوہر کے پاس چونکہ خاتون کو گھر میں روکنے کا اختیار ہوتاہے،اس لیے اگر وہ اس سے دستبرداری کے عوض بیوی سے کچھ رقم کا مطالبہ کرتاہے،اور اس کے بغیر بیوی کو کمائی کےلیے گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دیتا تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

وفی البخاری: (حدیث نمبر:1466):

  لھا اجران اجر القرابۃ واجر الصدقۃ۔( کتاب الزکاۃ،حدیث نمبر:1466)

مسند احمد: (341/31):

عَنِ الْحُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ، أَنَّ عَمَّةً لَهُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَفَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِهَا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَذَاتُ زَوْجٍ أَنْتِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «كَيْفَ أَنْتِ لَهُ؟» قَالَتْ: مَا آلُوهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ، قَالَ: «فَانْظُرِي أَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ»

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 520):

وحاصله: أن ثبوت حق الشفعة للشفيع، وحق القسم للزوجة وكذا حق الخيار في النكاح للمخيرة إنما هو لدفع الضرر عن الشفيع والمرأة، وما ثبت لذلك لا يصح الصلح عنه؛ لأن صاحب الحق لما رضي علم أنه لا يتضرر بذلك فلا يستحق شيئا أما حق الموصى له بالخدمة، فليس كذلك بل ثبت له على وجه البر والصلة فيكون ثابتا له أصالة فيصح الصلح عنه إذا نزل عنه لغيره، ومثله ما مر عن الأشباه من حق القصاص والنكاح والرق وحيث صح الاعتياض عنه؛ لأنه ثابت لصاحبه أصالة لا على وجه رفع الضرر عن صاحبه ولا يخفى أن صاحب الوظيفة ثبت له الحق فيه بتقرير القاضي على وجه الأصالة لا على وجه رفع الضرر، فإلحاقها بحق الموصى له بالخدمة، وحق القصاص وما بعده أولى من إلحاقها بحق الشفعة والقسم، وهذا كلام وجيه لا يخفى على نبيه۔

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

28/جمادی الثانیة1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب