| 83101 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں:
ایک کمپنی اپنے ملازمین کے لیے ایک آفر پیش کر رہی ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ کمپنی ایک ادارے کے ساتھ ملحق ہو گی جس کا نام ٹی سی ایف بتایا جارہا ہے۔ کمپنی اپنے ملازمین کو ایک فارم دے گی، جو ملازمین اس آفر کو حاصل کرنا چاہیں، ان ملازمین کے لیے اس فارم کو فل کرنا لازم ہو گا۔جو ملازمین اس فارم کو فل کر کے اپنی رضامندی ظاہر کریں گے، کمپنی ان ملازمین کی تنخواہ میں سے ہر ماہ ایک مخصوص رقم ( مثلا ایک ہزار )روپے اپنے پاس روکے گی اور اس رقم کو ٹی سی ایف ادارے کے حوالے کرے گی۔ ٹی سی ایف بھی اتنی ہی رقم اس میں مزید شامل کر کے کل رقم کو "پراویڈنٹ فنڈ " کے نام سے جمع کر کے اس رقم کو اپنی صوابدید پر کسی کاروبار میں انویسٹ کرے گا( مثلاہر ملازم کی تنخواہ میں سے ایک ہزار کا ٹا جارہا ہے تو ٹی سی ایف بھی اتنی ہی رقم یعنی ایک ہزار انویسٹ کرے گا، ایک شخص کی طرف سے ایک ہزار اور ادارے کی طرف سے ایک ہزار، کل دو ہزار روپے انویسٹ کیے جائیں گے) ۔اسی طرح جس قدر ملازمین کی رقم بنے گی اتنی ہی رقم ٹی سی ایف کی بھی ہو گی۔ بعد ازاں اس رقم سے حاصل ہونے والے منافع کو بھی یہ ادار ہ انویسٹ ہی کرتا رہے گا،پھر جن ملازمین نے اس فنڈ میں رقم جمع کروائی ہو گی، جب یہ ملازمین اپنی یہ جاب چھوڑنا چاہیں گے ، اس وقت ان کو ان کی جمع کروائی گئی ساری رقم بھی واپس کر دی جائے گی اور اس رقم پر جس قدر منافع بنے گا وہ اضافی رقم بھی دی جائے گی۔
اس پوری تفصیل کے بعد دریافت طلب مسائل یہ ہے کہ
1: کیا اس طرح کی آفر میں ملازمین کے لیے اپنی تنخواہ میں سے مخصوص رقم جمع کروانا درست ہے ؟
2: پراویڈنٹ فنڈ کے نام پر جو یہ رقم انویسٹ کی جارہی ہے اس انویسٹمنٹ کا شر عی لحاظ سے کیا حکم ہے؟
3: اگر کوئی شخص اس آفر میں شامل ہو جاتا ہے، اور جاب کے اختتام پر ان کو اضافی رقم ملے گی توکیا یہ اضافی رقم لینا جائز ہے؟
برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں درج بالا سوالات کے تسلی بخش جوابات عنایت فرمائیں!
تنقیح : سائل نے بتایا کہ سوال میں کمپنی غلطی سے لکھ دیا ، اس سے اسکول مراد ہےاور ملحقہ کا مطلب برانچ ہے۔ایک ویڈیو بھیجی جس کےمطابق ٹی سی ایف اپنےپاس سے جو رقم فنڈمیں ڈالتی ہے وہ ملازم کےنام سے ہی ڈالتی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوالا ت کےجوابات ترتیب وار درج ذیل ہیں:
1: صورت مسؤلہ میں ملحقہ سکول کاملازم کی اجازت سے اس کی تنخواہ سے کٹوتی کرکےٹی سی ایف کےپراویڈنٹ فنڈ میں پیسےجمع کرنا جائز ہے ۔
2: ٹی سی ایف اگر مستند مفتیان کرام کی نگرانی میں حلال کاروبار میں انویسٹمنٹ کرتی ہے تو انویسٹمنٹ کرناجائز ہےورنہ حرام انویسٹمنٹ سے حاصل شدہ نفع حرام ہے۔البتہ اس کا گنا ہ ٹی سی ایف کی انتظامیہ کو ہو گا، ملازم کو نہیں۔ کیونکہ ملازم کو کل جمع شدہ رقوم سے دیا جاتا ہےاور تنخواہ پر قبضہ سے پہلے پیسے ٹی سی ایف کی ملکیت ہیں ،لہذا اس میں جائز و ناجائز تصرفات اس کی طرف ہی منسوب ہوں گے۔
3: اضافی رقم لینےکا حکم یہ ہےکہ پراویڈنٹ فنڈ میں چار قسم کے پیسے ہوتے ہیں :ملازم کی تنخواہ سے کاٹی گئی رقم او ر اس کی انویسٹمنٹ پر حاصل شدہ منافع،ٹی سی ایف کی رقم اور اس پر حاصل شدہ منافع۔ان میں سے ٹی سی ایف کی رقم،اس پر حاصل شدہ نفع اور ملازم کی تنخواہ سے کاٹی گئی رقم کا لینا ملازم کےلیےبلاکسی شک وشبہ کےجائز اور حلال ہے، البتہ ملازم کی تنخواہ سے کاٹی گئی رقم کانفع کا ملازم کےلیےاگرچہ لینا جائز ہے،لیکن بہتر یہ ہے کہ نہ لے۔لینا اس لیےجائز ہےکہ قبضہ سے پہلےپیسے ادارہ کی ملکیت ہیں ،لہذا اس پر حاصل شدہ نفع بھی انہی کی طرف منسوب ہوگا اور ریٹائر ہونے پر یہ رقم مع اضافہ کےاجرت شمارہوگی ۔اور نہ لینا اس لیےبہتر ہےکہ چونکہ ادارہ نے ملازم کی رضامندی سے اس کی رقم سے کٹوتی کی ہےاور اس پر اس کو اضافہ دے رہا ہےاس لیے حرمت کا ظاہری شبہ پایا جارہا ہے۔
حوالہ جات
سنن الترمذي (4/ 668):
حدثنا أبو موسى الأنصاري حدثنا عبد الله بن إدريس حدثنا شعبة عن بريد بن أبي مريم عن أبي الحوارء السعدي قال: قلت: للحسن بن علي ما حفظت من رسول الله صلى الله عليه و سلم؟ قال: حفظت من رسول الله صلى الله عليه و سلم: دع ما يريبك إلى مالا يريبك؛ فإن الصدق طمأنينة، وإن الكذب ريبة۔
البحر الرائق (8/ 5):
قال رحمه الله ( والأجرة لا تملك بالعقد بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن منه ) يعني الأجرة لا تملك بنفس العقد سواء كانت عينا أو دينا وإنما تملك بالتعجيل أو بشرطه أو باستيفاء المعقود عليه وهي المنفعة أو بالتمكن من الاستيفاء بتسليم العين المستأجرة في المدة ۔
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
30/رجب/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


