| 83102 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
اگر کسی کمپنی میں یہ لازم ہو کہ پراویڈنٹ کا حصہ بننا پڑے گا، اس صورت میں اس کمپنی میں جاب کرنے کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پراویڈنٹ فنڈکےجبری ہونے کی وجہ سے ملازمت پر کوئی فرق نہیں پڑتا،کیونکہ جبری پراویڈنٹ فنڈ سے حاصل شدہ اصل رقم مع اضافہ کےلینا بلاشک وشبہ جائز ہےتو ملازمت بطریق اولی جائز ہے۔
اصل رقم مع اضافہ کےلینا اس لیےجائز ہےکہ جب تک ملازم نے تنخواہ پر قبضہ نہیں کیا ہوتا تواس وقت تک وہ کمپنی کی ملکیت ہوتی ہے ،چنانچہ اس میں تصرفات کمپنی کی طرف منسوب ہوں گے ، چاہےوہ جائز طریقے سے اس پر نفع کمائے یا ناجائز طریقے سے ۔لہذااختتا م ملازمت پر ملنےوالی اصل رقم مع اضافہ اجرت ہی شمار ہوگی ۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 55):
(لا تصح الإجارة لعسب التيس) وهو نزوه على الإناث (و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي) ولو أخذ بلا شرط يباح ...وفي المنتقى: امرأة نائحة أو صاحبة طبل أو زمر اكتسبت مالا ردته على أربابه إن علموا وإلا تتصدق به، وإن من غير شرط فهو لها: قال الإمام الأستاذ لا يطيب، والمعروف كالمشروط اهـ. قلت: وهذا مما يتعين الأخذ به في زماننا لعلمهم أنهم لا يذهبون إلا بأجر ۔
وفی الفتاوى الهندية (4/ 413):
ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي. وكما يجب الأجر باستيفاء المنافع يجب بالتمكن من استيفاء المنافع إذا كانت الإجارة صحيحة حتى إن المستأجر دارا أو حانوتا مدة معلومة ولم يسكن فيها في تلك المدة مع تمكنه من ذلك تجب الأجرة، كذا في المحيط۔
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
30/رجب/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


